ابان کے بغیر سلیم سے روایات اور رجال ابن الغضائری کے وضع (جھوٹ) کے دعویٰ اور "کیا ائمہ کی تعداد تیرہ ہے ؟" کے بارے میں
🔴 ابان کے بغیر سلیم سے روایت اور رجال ابن الغضائری کے وضع (جھوٹ) کے دعویٰ کے بارے میں 🔴
Post No 5⃣
⭕ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ سلیم بن قیس ہلالی سے روایت صرف ابان بن ابی عیاش نے نقل کی ہے، وہ غلطی کرتا ہے۔
میری آج گفتگو کتاب کی روایت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ سلیم سے مطلقاً روایت کے بارے میں ہے۔
▪️ اس تحقیق کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ سلیم اصحاب (شیعہ) کے درمیان مشہور تھا، اور محققین کو اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ وہ سلیم کی دیگر کتب میں موجود روایات کو اس کی کتاب میں مذکور چیزوں سے موازنہ کریں۔
▪️ اس سے سلیم سے روایات نقل کرنے والوں میں کئی ثقہ راوی بھی شامل ہیں۔
🔹شیخ محمد الکرباسی نے کہا:
📜 "یہ کہنا کہ سلیم بن قیس سے کسی نے روایت نہیں کی سوائے ابان کے ، یہ دعویٰ مشکل ہے، اور اس طرح کے کئی دعوے لوگوں کی باتوں میں ملتے ہیں۔"
📚 اکلیل المنهج فی تحقیق المطلب، ص 66
اور یہ راوی یہ ہیں:
1⃣ ابراہیم بن عمر الیمانی
شیخ نجاشی نے اپنے طریقِ روایت میں کہا:
📜 "مجھے علی بن احمد القمی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن الحسن بن الولید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن ابی القاسم ماجیلویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن علی الصیرفی سے، انہوں نے حماد بن عیسیٰ اور عثمان بن عیسیٰ سے [عمر بن اُذَینہ، ابان بن ابی عیاش، اور سلیم سے]۔
حماد بن عیسیٰ کہتے ہیں: اور ہمیں ابراہیم بن عمر الیمانی نے سلیم بن قیس سے کتاب کی روایت بیان کی۔"
📚 رجال نجاشی، ص 8
👈 اور ہمارا مقصد سند کی صحت پر گفتگو نہیں، بلکہ صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ ابان کے علاوہ بھی کسی نے سلیم سے روایت کی ہے۔
🔹 شیخ حرّ عاملی کہتے ہیں:
📜 "ہم کتاب سلیم بن قیس ہلالی اسی سابقہ سند کے ذریعے نجاشی تک روایت کرتے ہیں اور ہمیں اسے ابراہیم بن عمر الیمانی نے سلیم بن قیس سے کتاب کے ذریعے روایت کیا ہے۔"
📚 وسائل الشیعہ، ج 30، ص 188
✅ حدیث اور روایات کی کتابوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم بن عمر الیمانی نے کئی مقامات پر سلیم سے روایت کی ہے۔
🔹 مثلاً محمد بن الحسن الصفار کی کتاب میں ہے:
📜 "ہمیں احمد بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے حسین بن سعید سے، انہوں نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے ابراہیم بن عمر الیمانی سے، انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے، انہوں نے امیرالمؤمنین (ع) سے — کہ اللہ نے ہمیں پاک اور معصوم بنایا ہے…"
📚 بصائر الدرجات، ص 103
https://ar.lib.eshia.ir/86650/1/83
🔹 یہی متن الکافی میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے:
📜 "علی بن ابراہیم، اپنے والد سے، حماد بن عیسیٰ سے، ابراہیم بن عمر الیمانی سے، سلیم بن قیس ہلالی سے، امیرالمؤمنین (ع) سے…"
📚 الکافی، ج 1، ص 191
https://lib.eshia.ir/11005/1/191
🔹 اور الکافی میں ایک اور صحیح سند کے ساتھ روایت ہے:
📜 "علی بن ابراہیم، اپنے والد سے، حماد بن عیسیٰ سے، ابراہیم بن عمر الیمانی سے، سلیم بن قیس ہلالی سے؛ انہوں نے کہا: میں نے سلمان فارسی (رض) کو کہتے ہوئے سنا: جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا اور لوگوں نے وہ کچھ کیا جو کیا، اور ابوبکر، عمر اور ابو عبیدہ بن الجراح نے انصار سے مناقشہ کیا…"
الکافی، ج 8، ص 343
https://lib.eshia.ir/11005/8/343
🔹 اسی متن کو شیخ صدوق نے بھی روایت کیا ہے:
📜 "ہمیں محمد بن الحسن بن احمد بن الولید نے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن الحسن الصفار سے، انہوں نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے حسین بن سعید سے، انہوں نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے ابراہیم بن عمر الیمانی سے، انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے، انہوں نے امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب (ع) سے…"
کمال الدین و تمام النعمة، ص 240
https://lib.eshia.ir/27045/1/240
🔹 شیخ صدوق نے ابراہیم کے ذریعے سلیم سے ایک اور روایت نقل کی ہے
انہوں نے کہا:
📜 "ہمیں محمد بن الحسن بن احمد بن الولید (رضی اللہ عنہ) نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن الحسن الصفار نے حدیث بیان کی، انہوں نے یعقوب بن یزید سے، انہوں نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے عمر بن اُذَینہ سے، انہوں نے ابان بن ابی عیاش سے، انہوں نے ابراہیم بن عمر الیمانی سے، انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے انہوں نے کہا:
میں نے سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) کو کہتے ہوئے سنا:
میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا اُن کی اُس بیماری میں جس میں اُن کا انتقال ہوا۔ اسی دوران فاطمہؑ داخل ہوئیں۔ جب انہوں نے اپنے والد کی کمزوری دیکھی تو رونے لگیں یہاں تک کہ آنسو اُن کے رخساروں پر بہنے لگے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘اے فاطمہ! تجھے کیا رُلا رہا ہے؟’
انہوں نے کہا: ‘اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے اور اپنے بچوں کے بگڑ جانے (ضیاع) کا خوف ہے آپ کے بعد۔’
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے، پھر فرمایا:
‘اے فاطمہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم اہلِ بیت ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہے، اور اس نے اپنی تمام مخلوق پر فنا لکھ دی ہے؟
بے شک اللہ نے زمین پر نگاہ ڈالی اور مخلوق میں سے مجھے چُن لیا اور مجھے نبی بنایا۔ پھر اس نے دوسری مرتبہ زمین پر نگاہ ڈالی اور تمہارے شوہر کو چُن لیا، اور مجھے وحی کی کہ میں تمہارا نکاح ان سے کروں، انہیں اپنا دوست (ولی) اور وزیر بناؤں، اور اپنی امت میں اپنا خلیفہ مقرر کروں۔
پس تمہارے والد اللہ کے انبیاء اور رسولوں میں سب سے بہتر ہیں، اور تمہارے شوہر اوصیاء میں سب سے بہتر ہیں، اور تم میرے اہل میں سے سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی ہو…’"
📚 کمال الدین و تمام النعمة، ص 262–263
https://lib.eshia.ir/27045/1/262
2⃣ ابان بن تغلب کی سلیم سے روایت
ابان بن تغلب کی سلیم سے روایت متعدد روائی مصادر میں آئی ہے۔
🔹 ابن بابویہ (شیخ صدوق) کے استاد قمی نے صحیح سند سے یہ روایت نقل کی:
📜 "سعد بن عبد اللہ نے کہا: ہمیں یعقوب بن یزید نے حدیث بیان کی، انہوں نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسکان سے، انہوں نے ابان بن تغلب سے، انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے، انہوں نے سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) سے انہوں نے کہا:
میں نبی ﷺ کے پاس داخل ہوا تو دیکھا کہ حسین بن علیؑ آپ ﷺ کی ران پر تھے، اور آپ ان کی آنکھوں کو چوم رہے تھے، ان کے منہ کو بوسہ دے رہے تھے، اور فرما رہے تھے:
‘تم سردار ہو، سردار کے بیٹے ہو، امام ہو، امام کے بیٹے ہو، اماموں کے باپ ہو۔
تم اللہ کی حجت ہو اُس کی حجت کے فرزند ہو، اور تمہاری نسل میں سے نو اماموں کے باپ ہو گے — جن میں سے نواں قائم (مہدی) ہوگا۔’ "
📚 الامامة والتبصرة، ص 110
https://lib.eshia.ir/70349/1/110
اور یہی روایت شیخ صدوق نے اپنے والد سے اسی سند کے ساتھ الخصال، ص 475، اور کمال الدین، ص 262 میں نقل کی ہے۔
https://lib.eshia.ir/27045/1/262
3⃣ ابراہیم بن عثمان کی سلیم سے روایت
🔹 شیخ کلینی نے صحیح سند سے روایت کیا:
📜 "علی بن ابراہیم، اپنے والد سے، حماد بن عیسیٰ سے، ابراہیم بن عثمان سے، سلیم بن قیس ہلالی سے انہوں نے کہا:
امیرالمؤمنینؑ نے خطبہ دیا۔ حمد و ثناء کے بعد نبی ﷺ پر درود بھیجا، پھر فرمایا:
‘سن لو! مجھے تم پر دو چیزوں کا سب سے زیادہ خوف ہے:
(۱) خواہشاتِ نفس کی اتباع،
(۲) لمبی امیدیں۔
بے شک خواہشاتِ نفس حق سے روک دیتی ہیں، اور لمبی امیدیں آخرت کو بھلا دیتی ہیں۔
آگاہ ہو جاؤ! دنیا پیٹھ پھیرے جا رہی ہے، اور آخرت تمہاری طرف بڑھتی چلی آ رہی ہے…’"
الکافی، ج 8، ص 58
https://lib.eshia.ir/11005/8/58
4⃣ عمر بن ابی سلمہ کی سلیم سے روایت
🔹 شیخ نعمانی لکھتے ہیں:
📜 "اور کتاب سلیم بن قیس ہلالی سے اور انہوں نے اس تک اپنی سند بھی ذکر کی
… معمر نے کہا: اور ابو ہارون العبدي نے ذکر کیا کہ اس نے اسے عمر بن ابی سلمہ سے، انہوں نے سلیم سے روایت کرتے ہوئے بھی سنا…"
📚 الغيبة، ص 74
https://lib.eshia.ir/15220/1/74
5⃣ ابان بن خَلَف کی سلیم سے روایت
🔹 شیخ صدوق نے روایت کی:
📜 "ہمیں میرے والد (رضی اللہ عنہ) نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعد بن عبد اللہ بن ابی خلف نے حدیث بیان کی، انہوں نے یعقوب بن یزید سے، انہوں نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسکان سے، انہوں نے ابان بن خلف سے، انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے، انہوں نے سلمان فارسی (رحمہ اللہ) سے انہوں نے کہا:
میں نبی ﷺ کے پاس داخل ہوا تو دیکھا کہ حسینؑ آپ کی ران پر تھے، اور آپ ان کی آنکھوں کو چوم رہے تھے، ان کے منہ کو بوسہ دے رہے تھے، اور فرما رہے تھے:
‘تم سردار ہو، سردار کے بیٹے ہو، امام ہو، امام کے بیٹے ہو، اللہ کی حجت ہو، اللہ کی حجت کے بیٹے ہو۔
تم اپنی نسل میں سے نو حجتوں کے باپ ہو گے جن میں سے نواں ان کا قائم (مہدی) ہوگا۔’"
📚 عیون أخبار الرضاؑ، ج 2، ص 56
https://lib.eshia.ir/14032/2/56
👈 ابان بن خلف کی سلیم سے یہ روایت دیگر مصادر میں بھی آئی ہے، جیسے:
📚 کفایة الأثر، ص 46
📚 بحار الأنوار، ج 36، ص 241
اور یہ سب شیخ صدوق کی کتابوں اکمال الدین اور الخصال سے منقول ہیں۔
6⃣ ابو خالد الکابلی کی سلیم سے روایت
🔹 حرّ عاملی نے کراجکی کے حوالے سے نقل کیا:
📜 "کراجکی نے کہا: عام (اہل سنت) نے ایک دوسرے طریقے سے روایت کیا ہے۔
مجھے ابو المرجا البلدي نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو المفضل محمد بن عبد اللہ بن المطلب الشیبانی الکوفي نے خبر دی، انہوں نے کہا:
مجھے حسن بن علی بن نعیم بن سهل بن أبان بن محمد البغدادی نے حدیث بیان کی جو مکہ میں مقیم تھے اور میں نے اسے طائف میں ان سے سنا۔
انہوں نے کہا: ہمیں علی بن حسین بن بشیر الکوفي نے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن سنان سے، انہوں نے مفضل بن عمر الجعفی سے، انہوں نے ابو خالد الکابلی سے، انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس سے انہوں نے کہا:
ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ‘کیا مجھے علیؑ کی محبت کوئی فائدہ دے گی؟’
نبی ﷺ نے فرمایا:
‘تیری ہلاکت ہو! جس نے علیؑ سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی۔
اور جس نے مجھ سے محبت کی، اس نے اللہ سے محبت کی۔
اور جس نے اللہ سے محبت کی، اللہ اسے عذاب نہیں دے گا۔’"
📚 الجواهر السنية، ص 303
https://lib.eshia.ir/16007/1/303
7⃣ علی بن جعفر الحضرمی کی سلیم سے روایت
🔹 محمد بن الحسن الصفار (متوفی 290ھ) نے روایت کی:
📜 "...مجھے علی بن جعفر حضرمی نے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیم الشامی سے انہوں نے کہا:
میں نے امیرالمؤمنینؑ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
‘میں اور میرے اوصیاء، جو میرے بعد میری نسل سے ہوں گے سب مہدی اور محدَّث (وہ جن سے فرشتے بات کرتے ہیں) ہیں۔’
میں نے پوچھا: ‘اے امیرالمؤمنین! وہ کون ہیں؟’
آپؑ نے فرمایا:
‘حسنؑ اور حسینؑ، پھر میرے بعد میرے بیٹے علی بن الحسینؑ۔’
راوی کہتا ہے: اُس دن علی بن الحسینؑ شیر خوار تھے۔
پھر آپؑ نے فرمایا:
‘پھر ان کے بعد آٹھ امام، ایک کے بعد ایک۔’"
📚 بصائر الدرجات، ص 392
📚 الاختصاص، ص 329
https://lib.eshia.ir/15136/1/392
۔
🔴 کتاب کے وضع ہونے کا دعویٰ 🔴
✅ جواب ✅
ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ پوری شیعہ جماعت نے کتاب سلیم بن قیس پر اتفاق کیا ہے، اور ہم شیخ نعماني کا قول بھی ذکر کر چکے ہیں۔ مگر بعد میں کچھ لوگوں نے اس کتاب پر شک کیا اور اسے موضوع (بنایا ہوا) قرار دیا۔
💯 میرے تتبع کے مطابق، سب سے پہلے جس نے اس کتاب پر شک کیا وہ الغضائري ہے
👈 یہ اس شرط پر کہ اس کی طرف منسوب عبارتیں واقعی ثابت ہوں۔
🔹 شیخ مازندرانی کہتے ہیں:
📜 "یہ پوشیدہ نہیں کہ اس (کتاب) پر طعن کی اصل غض (یعنی الغضائري) سے ہے۔ جبکہ اس میں وہی باتیں ہیں جو ہم بارہا بیان کر چکے ہیں، اور اگر ہم محض اس کے طعن کی وجہ سے کسی پر طعن کریں، تو کوئی بھی جلیل القدر شخصیت اس طعن سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔"
📚 منتهى المقال، ج 3، ص 382
🚩 ابن الغضائري نے ابان بن ابی عیاش کی ترجمہ میں کہا:
📜 "ہمارے اصحاب کتاب سلیم بن قیس کے وضع (بنانے) کو اسی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔"
رجال ابن الغضائري، ص 36
اور سلیم کی ترجمہ میں کہا:
📜 "یہ کتاب موضوع ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اور اس پر کچھ نشانیاں بھی ہیں جو ہمارے قول کی دلیل ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اس میں آیا ہے کہ محمد بن ابی بکر نے اپنے باپ کو موت کے وقت نصیحت کی۔
اور ایک یہ کہ ائمہ تیرہ ہیں۔
اور بھی کئی باتیں۔"
📚 رجال ابن الغضائري، ص 63–64
پھر کہا:
📜 "سلیم بن قیس ہلالی اس سے صرف ابان بن ابی عیاش نے روایت کی ہے۔ اور کتاب میں معروف مناکیر موجود ہیں، اور میرا گمان ہے کہ یہ کتاب موضوع ہے۔"
📚 رجال ابن الغضائري، ص 118–119
✅ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم نے اسکا گمان پوری طرح سے باطل ثابت کر چکے ہیں پہلے ہی
اور ہم پچھلی پوسٹ پر کتاب الغضائري کا حال بیان کر چکے ہیں، لہٰذا تفصیل کے لیے یہاں رجوع کیا جائے۔ 👇
🔹 اور محقق سید الخوئی نے اپنی کتاب میں اس کے بارے میں کہا ہے:
📜 "جہاں تک ابن الغضائري کی طرف منسوب کتاب کا تعلق ہے، تو وہ ثابت نہیں۔ علامہ نے اپنی اجازت ناموں اور کتابوں تک اپنے اسناد کے بیان میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ اس کتاب کا نجاشی اور شیخ طوسی کے زمانہ میں موجود ہونا بھی محلِّ شک ہے۔"
📚 معجم الرجال ج 1، ص 95
🔴 الغضائري کی (فرضی) عبارت پر چند نوٹس 🔴
1⃣ ابان کی ترجمہ میں اس کا قول:
❌ "ہمارے اصحاب کتاب کے وضع کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں"
✅ یہ باطل دعویٰ ہے جس کی ہم نے تحقیق کی، اور ہمیں الغضائري سے پہلے کسی بھی شیعہ عالم کا یہ قول نہیں ملا کہ کتاب سلیم موضوع ہے۔
👈 بلکہ اس کے برعکس اس کتاب پر شیعہ امت کا قدیم اتفاق موجود ہے۔
2⃣ الغضائري کہتا ہے:
❌ "کتاب موضوع ہے، اس میں کوئی شک نہیں"
لیکن آگے جا کر خود ہی کہتا ہے:
📜 "وما أظنه إلا موضوعاً"
📚 رجال ابن الغضائري ص199
👈 یعنی اس کا یقین شک میں تبدیل ہو گیا۔
🔹 شیخ نوری طبرسی لکھتے ہیں:
"خلاصہ میں الغضائري سے نقل ہوا ہے کہ ہمارے اصحاب نے کتاب سلیم کا وضع ابان کی طرف منسوب کیا ہے۔
مگر یہ تضعیف بھی کمزور ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کتاب کے وضع کی نسبت۔"
📚 خاتمة المستدرك، ج 7، ص 111–113
🚩 غضائری کی بات اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے اس کے مقابلے میں ہماری طائفہ کے درجنوں اکابر علما کے اقوال موجود ہیں جو کتابِ سُلیم کے وجود اور اس کے معتبر ہونے کی صراحت کرتے ہیں، جن میں سے کچھ بعد میں ذکر ہوں گے۔
🔹 سید خوئی فرماتے ہیں:
📜 “نعمانی کے بیان کے مطابق کتابِ سُلَیم بن قیس معتبر اُصولوں میں سے ہے بلکہ ان میں سب سے بڑی ہے۔ اس میں موجود تمام مطالب صحیح ہیں، جو یقینی طور پر معصوم علیہ السلام یا ایسے افراد سے صادر ہوئے ہیں جن کی روایت کو قبول کرنا لازم ہے۔ صاحبِ وسائل نے بھی اپنی خاتمہ کی چوتھی فائدہ میں اسے اُن معتبر کتب میں شمار کیا ہے جن کی صحت پر قرائن قائم ہیں، اور جو اپنے مؤلفین سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں، یا جن کی نسبت اُن کی طرف قطعی طور پر ثابت ہو چکی ہے، اور اس میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔”
معجم رجال الحدیث، ص 230
⭕ پھر کچھ بعد کے علما نے غضائری کا قول اپنی کتابوں میں نقل کر دیا۔
🔹 ابن داود حلی کے حوالے سے
بعض لوگوں نے یہ وہم پھیلانے کی کوشش کی کہ ابن داود حلی کتابِ سُلیم کو موضوع مانتے ہیں، حالانکہ معاملہ ویسا نہیں جیسا وہ پیش کرتے ہیں۔
ابن داود نے ترجمہ سلیم میں لکھا:
📜 “سلیم بن قیس ہلالی ی، ن، سین، ین (جخ) اس کی طرف مشہور کتاب منسوب ہے، جو موضوع ہے، اس دلیل کے ساتھ کہ اس میں آیا ہے کہ محمد بن ابی بکر نے اپنے باپ کو موت کے وقت نصیحت کی، اور اس میں یہ بھی ہے کہ ائمہ تیرہ ہیں، زید سمیت۔ اس کی اسانید مختلف ہیں۔ (غض) اس سے صرف ابان بن ابی عیاش روایت کرتا ہے، اور اس کتاب میں منکر روایات مشہور ہیں، اور میں نہیں سمجھتا مگر اتنا کہ یہ کتاب موضوع ہے۔”
رجال ابن داود، ص 249
https://ar.lib.eshia.ir/27181/1/249
👈 باریک بینی سے دیکھا جائے تو ابن داود نے یہاں صرف رجالیوں کے اقوال نقل کیے ہیں، اپنی ذاتی رائے بیان نہیں کی۔ اس کی دلیل وہ اختصارات ہیں جو اس نے لگائے ہیں:
“جخ” یعنی شیخ طوسی کی رجال
👈 “غض” یعنی غضائری
اور یہ بھی واضح ہے کہ یہ عبارات بالکل اسی صورت میں رجال ابن الغضائری (ص 63) میں موجود ہیں، جن سے ابن داود نے نقل کیا ہے۔
👈 مزید یہ کہ ابن داود نے جب ابان کا ترجمہ لکھا تو کہا:
👈 “قِیل: کہ اس نے کتابِ سلیم بن قیس وضع کی ہے”
📚 رجال ابن داود، ص 225–226
💯 لفظ قِیل (کہا جاتا ہے) صیغۂ تمریض ہے، یعنی یہ قول قبول نہیں بلکہ صرف نقل ہے۔
۔
🔴 ائمہ کی تعداد والا اشکال 🔴
غضائری نے کتاب کے موضوع ہونے پر دلیل دیتے ہوئے کہا:
“اس میں یہ ہے کہ محمد بن ابی بکر نے اپنے باپ کو موت کے وقت نصیحت کی۔ اور اس میں یہ ہے کہ ائمہ تیرہ ہیں۔”
📚 رجال ابن الغضائری، ص 63–64
یہ اعتراض باطل ہے، کیونکہ کتابِ سلیم میں ائمہ کی تعداد تیرہ بیان نہیں ہوئی۔ یہ غلطی صرف بعض نسخوں میں تحریف کی صورت میں پیدا ہوئی۔
اس بات کا ثبوت شیخ نعمانی (م 360 ھ) کی گواہی ہے، جو قدیم ترین ناقلین میں سے ہیں۔ وہ کتابِ سلیم سے ائمۂ اثنا عشر کی نص نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
📜 “ہم نے یہ حصہ اس لیے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ائمۂ اثنا عشر کا ذکر کیا ہے، ان کی تعداد بتائی ہے، اور یہ فرمایا ہے کہ ائمہ میں سے نو امام حسینؑ کی اولاد سے ہوں گے، جن میں نواں قائمؑ ہوں گے۔ ظاہر و باطن سب میں سب سے افضل۔ یہ بات ہر شبہے کو زائل کرنے، ہر بہانے کو ختم کرنے، اور ہر باطل دعوے کے بطلان کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور شیعہ کے اصولی مآخذ میں کہیں بھی باطل مدعیوں کے لیے ایسی دلیل نہیں ملتی۔ خدا ہی کے لیے حمد ہے، جو رب العالمین ہے۔”
📚 الغيبة، ص 103–104
https://lib.eshia.ir/15220/1/101
✅ اور اگر اُس زمانے میں رائج نسخوں میں واقعی تیرہ ائمہ کا ذکر موجود ہوتا تو نعمانی ضرور اس کی طرف اشارہ کرتے، لیکن انہوں نے کتابِ سلیم سے بارہ ائمہ پر نصوص پوری قطعیت اور اعتماد کے ساتھ نقل کی ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ لفظ کا یہ تحریف شدہ اضافہ بعد کے زمانے میں داخل ہوا۔
کتابِ سلیم میں چوبیس مقامات ایسے ہیں جہاں بارہ ائمہؑ کی صراحت ملتی ہے، لہٰذا ایک منفرد مقام اگر کہیں پایا بھی جائے اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
🔹 شیخ مازندرانی فرماتے ہیں:
📜 “جو نسخے ہمارے پاس پہنچے ہیں ان میں یہ آیا ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اپنے باپ کو موت کے وقت نصیحت کی، اور یہ کہ ائمہ تیرہ ہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ۔ اور ان دونوں باتوں میں سے کوئی بھی وضع پر دلالت نہیں کرتی۔”
📚 منتهى المقال 3/374
اور وہ مزید کہتے ہیں:
📜 “جہاں تک تیرہ ائمہ کی بات ہے، میں نے کتاب کو اوّل سے آخر تک دیکھا مگر کہیں بھی نہ پایا، بلکہ کئی مقامات پر وہ بارہ ہیں، اور ان میں سے گیارہ حضرت علیؑ کی اولاد میں سے ہیں۔”
📚 منتهى المقال 3/379
🔹 شیخ مجلسی فرماتے ہیں:
📜 “اور اگر صحیح نسخے میں یہ عبارت موجود بھی ہو تو ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا مقصد ہو ‘ہمارے بعد انبیاء کے بعد‘، یا یہ کہ بارہ میں امیر المؤمنینؑ کو دوسرے گیارہ کے ساتھ شمار کیا گیا ہو۔ اور اگر بالفرض یہ اشکال مان بھی لیا جائے تو بھی یہ کتاب کے اعتبار کے خلاف دلیل نہیں بنتا، کیونکہ بہت کم کتاب ہوتی ہے جو اس قسم کی تصحیف یا تحریف سے خالی ہو، اور ایسا کتبِ معتبرہ جیسے الکافی وغیرہ میں بھی پایا گیا ہے جیسا کہ اہلِ تحقیق پر مخفی نہیں۔”
📚 بحار الأنوار 22/150
🔹 سید خوئی فرماتے ہیں:
📜 “میرزا نے اپنی رجالِ کبیر میں کہا کہ میرے پاس جو نسخہ آیا، اس میں لکھا تھا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنے باپ کو موت کے وقت نصیحت کی، اور یہ کہ ائمہ تیرہ ہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ، اور ان دونوں باتوں میں کوئی اشکال نہیں۔
تفریشی نے حاشیہ نقد میں ایک فاضل سے نقل کیا کہ جو نسخہ ان تک پہنچا اس میں تھا کہ ائمہ تیرہ ہیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں، یعنی آپ ﷺ اور بارہ ائمہ۔ اور میں نے بھی جتنے نسخے دیکھے، ان سب میں یہی پایا، اور کتاب کے آغاز سے آخر تک اس کی روایات سچائی پر دلالت کرتی ہیں، لہٰذا ابن الغضائری کی بات اشتباہ پر محمول ہے۔”
پھر سید خوئی مزید کہتے ہیں:
📜 “اور اس بات کی سچائی پر اس چیز سے بھی دلیل ملتی ہے کہ نعمانی نے اپنی کتاب الغیبة میں سلیم کی کتاب سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے… اس سب سے واضح ہو جاتا ہے کہ ابن الغضائری کی جانب سے کتابِ سلیم کو تیرہ ائمہ والی روایت کا حامل بتانا درست نہیں، بس زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں جو نسخہ تھا وہ تحریف شدہ تھا۔”
📚 معجم رجال الحدیث 9/231–236
۔
🔴 محمد بن ابی بکر کے وعظ کا اشکال 🔴
🔹 شیخ مجلسی فرماتے ہیں:
📜 “یہ خبر ان چیزوں میں سے ہے جنہیں کتابِ سلیم پر طعن کے لیے پیش کیا جاتا ہے، کیونکہ محمد بن ابی بکر حجۃ الوداع میں پیدا ہوئے تھے، لہٰذا اپنے باپ کی وفات کے وقت ان کی عمر ڈھائی سال سے زیادہ نہیں تھی، تو ایسی گفتگو اور وہ واقعات یاد رکھنا کیسے ممکن ہے؟
ممکن ہے یہ ناسخین یا راویوں کی تصحیف ہو، یا یہ کہ امیر المؤمنینؑ کا معجزہ ہو۔
اور بعض فاضلین نے کہا کہ جو نسخہ ان تک پہنچا اس میں یہ واقعہ عبداللہ بن عمر کے بارے میں تھا، نہ کہ محمد بن ابی بکر کے بارے میں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ ایسی ایک دو باتوں سے کسی ایسی معروف کتاب پر اعتراض درست نہیں جسے محدثین میں شہرت حاصل ہو، اور جس پر کلینی، صدوق اور دیگر قدما نے اعتماد کیا ہو، جبکہ اس کی اکثر روایات اصولِ معتبرہ کی صحیح اسانید سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اور بہت کم کتاب ایسی ہو گی جو اس قسم کی چیز سے خالی ہو۔”
📚 بحار الأنوار 30/133–134
https://lib.eshia.ir/11008/30/133
شیخ حر عاملی فرماتے ہیں:
📜 “جو نسخے ہم تک پہنچے ہیں ان میں نہ کوئی فاسد بات ہے، نہ وہ چیزیں جنہیں وضع پر دلیل بنایا گیا ہے۔ ممکن ہے اصل موضوع اور فاسد نسخہ کوئی اور ہو، اس لیے وہ مشہور نہ ہوا اور نہ ہم تک پہنچ سکا۔”
📚 وسائل الشعیة
https://lib.eshia.ir/27038/30/386
🔹 سید خوئی فرماتے ہیں:
📜 “کتاب کے موضوع ہونے کے دلائل میں کہا جاتا ہے کہ اس میں محمد بن ابی بکر کے اپنے باپ کو موت کے وقت نصیحت کرنے کا ذکر ہے جبکہ اس وقت ان کی عمر تین سال سے بھی کم تھی، اور یہ کہ ائمہ تیرہ ہیں۔
لیکن یہ دونوں دلیلیں صحیح نہیں، کیونکہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ابن الغضائری کی کتاب کی نسبت ہی ثابت نہیں، اور اس میں نقل شدہ اقوال قابل اعتماد نہیں۔
اور محمد بن ابی بکر کا وعظ اگر بالفرض صحیح بھی ہو تو وہ خارقِ عادت اور کرامت کے طور پر ممکن ہے۔
اور کسی کتاب میں ایک دو باطل باتوں کا پایا جانا اس کے وضع ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ ایسی چیزیں اکثر کتب میں ملتی ہیں، حتیٰ کہ الکافی جیسی مضبوط ترین کتاب بھی اس سے خالی نہیں۔”
📚 معجم رجال الحدیث، ص 230، 234
🔴 اگر کوئی عمری کہے کہ
❓ کیا یہ ممکن ہے کہ تین سال کا بچہ کسی انسان کو نصیحت اور موعظہ دے؟
✅ جواب:
تمہارے مذہب میں تو ایک سالہ اور دودھ پیتا بچہ فقہی احکام صادر کرتا ہے، اب تم تین سالہ بچے کی نصیحت پر اعتراض کر رہے ہو؟
👈 تمہارے گوس پانک تو شکم مادر میں حفظ کر چکے تھے
اور
👈 محيی الدین ابن عربی نے گہوارے اور حتیٰ کہ شکمِ مادر میں بولنے والے بچوں کے مختلف واقعات الفتوحات المکیہ میں جمع کیے ہیں۔
وہ اپنی بیٹی کے بارے میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں جو واقعی سننے کے لائق ہے:
📜 "میری بیٹی زینب میں اس سے کھیلتے ہوئے اس سے سوال کیا، جبکہ وہ رضاعت کے سن میں تھی، اس وقت اس کی عمر ایک سال یا اس کے قریب تھی میں نے اس سے اس کی ماں اور نانی کی موجودگی میں کہا: اے بیٹی! اس مرد کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے جو اپنی بیوی سے ہمبستری کرے لیکن انزال نہ ہو؟
تو اس نے کہا: اس پر غسل واجب ہے۔
حاضروں نے اس بات پر تعجب کیا۔"
📚 الفتوحات المکیة، ج 4، ص 120، محیی الدین ابن عربی
حلبی نے بھی یہی واقعہ ابن عربی سے نقل کیا ہے:
📚 السيرة الحلبية، ج 1، ص 127
🗃 بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen