امام اہل سنت امام ابن اعثم شافعیؒ نے كتاب الفتوح میں لکھتے ہے ۔
سمعنا من الثقات أنه حين قرر معاوية بن أبي سفيان أن يجعل ولده يزيدا ولي عهده، مع علمه بأن هذا الأمر صعب المنال نظر لأن الصلح الذي أبرم بينه و بين الحسن بن علي كان من بين شروطه أن يترك معاوية أمر المسلمين شوري بينهم بعد وفاته. لذلك سعي في موت الحسن بكل جهده، و أرسل مروان بن الحكم (طريد النبي صلي الله عليه و آله وسلم) إلي المدينة و أعطاه منديلا مسموما و أمره بأن يوصله إلي زوجة الحسن جعدة بنت الأشعث بن قيس بما استطاع من الحيل لكي تجعل الحسن يستعمل ذلك المنديل المسموم بعد قضاء حاجته و أن يتعهد لها بمبلغ خمسين ألف درهم و يزوجها من ابنه. فذهب مروان تنفيذا لأمر معاوية و استفرغ جهده حتي خدع زوجة الحسن و نفذت المؤامرة و علي إثر ذلك انتقل الحسن إلي دار السلام و اغترت جعدة بمواعيد مروان و أقدمت علي تلك الجريمة الشنعاء.
میں نے ثقہ راویوں سے سنا ہے کہ معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین بنانے کا ارادہ کیا حالانکہ وہ خود جانتا تھا کہ یہ کام ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اس نے صلح نامے میں امام حسن کو وعدہ دیا تھا کہ وہ اپنے بعد کسی کو جانشین نہیں بنائے گا اس لیے اس نے پوری کوششیں شروع کر دی کہ کسی طرح امام حسنؓ کو قـتـل کر کے راستے سے ہٹا دے اس کے لیے معاویہ نے مروان بن حکم کو مدینہ روانہ کیا اور معاویہ نے اسے ایک زہر آلود رومال دیا اور کہا کہ جیسے بھی ہو جعدہ بنت اشعث کو راضی کرو کہ وہ اس رومال میں موجود زہر کے ذریعے امام حسن کے وجود کو اس دنیا سے ختم کر دے اور اس سے کہو کہ اگر تم نے مہم کام کو انجام دیا تو میں تم کو 50 ہزار درہم دوں گا اور بہت جلد تمہاری شادی یزید سے کروں گا۔ مروان جلدی سے مدینہ گیا اور آخر کار اس نے بہت ہی حیلے اور بہانوں سے جعدہ کو اس کام کے کرنے پر راضی کر لیا۔ جعدہ نے معاویہ اور مروان کے کہنے پر اس گناہ کو انجام دیا اور امام کو زہر دے کر شہید کر دیا ۔
( الكوفي، أبي محمد أحمد بن أعثم (متوفی314هـ)، كتاب الفتوح، ج 4، ص 319، تحقيق: علي شيري (ماجستر في التاريخ الإسلامي)، ناشر: دار الأضواء للطباعة و النشر و التوزيع ـ بيروت،
۔
امام اہل سنت امام احمد بن یحییٰ البلاذریؒ لکھتے ہیں
وقد قيل: إنّ معاوية دسّ إلى جعدة بنت الأشعث بن قيس امرأة الحسن وأرغبها حتى سمّته وكانت شانئة له.
"اور کہا گیا ہے کہ معاویہ نے حسنؓ کی بیوی جعدہ بنت اشعث بن قیس کے پاس خفیہ طور پر پیغام بھیجا اور اسے ترغیب دی، یہاں تک کہ اس نے حسنؓ کو زہر دے دیا، اور وہ ان سے بغض رکھنے والی تھی۔"
📚 أحمد بن يحيى البلاذري، أنساب الأشراف، ج 3، ص 55۔
۔
امام اہل سنت امام حافظ یوسف بن عبد اللہ ابن عبد البرؒ قرطبی لکھتے ہیں ۔
وقال قتادة وأبو بكر بن حفص: سُمَّ الحسن بن علي، سمَّته امرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي، وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك، وكان لها ضرائر، فالله أعلم.
"حضرت قتادہ اور حضرت ابو بکر بن حفص نے کہا: حسن بن علیؓ کو زہر دیا گیا، ان کی بیوی جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی نے انہیں زہر دیا۔ اور آئمہ کے ایک گروہ نے کہا کہ یہ کام معاویہ کی طرف سے جعدہ کو خفیہ طور پر آمادہ کرنے اور اس کے لیے جو کچھ معاویہ نے اسے دیا تھا اس کے سبب ہوا۔ جعدہ کی دوسری سوکنیں بھی تھیں،
📚 ابن عبد البر، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ترجمۃ الحسن بن علي، ج 1، ص 389–390
۔
امام اہل سنت امام محمود بن عمر الزمخشریؒ حنفی لکھتے ہیں
جعل معاوية لجعدة بنت الأشعث امرأة الحسن مائة ألف حتى سمته.
"معاویہ نے حسنؓ کی بیوی جعدہ بنت اشعث کے لیے ایک لاکھ مقرر کیے، یہاں تک کہ اس نے حسنؓ کو زہر دے دیا۔
📚 الزمخشري، ربيع الأبرار ونصوص الأخيار، ج 5، ص 156، باب 81۔
۔
امام اہل سنت امام سبط ابن الجوزیؒ حنفی لکھتے ہیں ۔
بعث معاوية بن أبي سفيان إلى جعدة بنت الأشعث بن قيس: سُمّي الحسن، ولك مئة ألف درهم وأزوجك يزيد، فسمته، فلما مات الحسن بعثت إليه تستنجز وعده، فبعث إليها بالمال وقال: أما يزيد فإني أحب حياته.
"معاویہ بن ابی سفیان نے جعدہ بنت اشعث بن قیس کے پاس پیغام بھیجا: حسن کو زہر دے دو، تمہارے لیے ایک لاکھ درہم ہیں اور میں تمہاری شادی یزید سے کر دوں گا۔ چنانچہ اس نے حسنؓ کو زہر دے دیا۔ جب حسنؓ وفات پا گئے تو جعدہ نے معاویہ کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنا وعدہ پورا کرے۔ معاویہ نے اسے مال بھیج دیا اور کہا: رہا یزید، تو میں اس کی زندگی چاہتا ہوں۔"
📚 سبط ابن الجوزي، مرآة الزمان في تواريخ الأعيان، ج 7، ص 125۔
۔
امام اہل سنت امام ابن عساکرؒ (571ھ) لکھتے ہیں ۔
وقد قيل أن معاوية دس إلى جعدة بنت الأشعث بن قيس امرأة الحسن وأرغبها حتى سمته وكانت شانئة له.
معاویہ نے حسنؓ کی بیوی جعدہ بنت اشعث بن قیس کو خفیہ طور پر آمادہ کیا اور اسے ترغیب دی، یہاں تک کہ اس نے حسنؓ کو زہر دے دیا، اور وہ ان سے بغض رکھنے والی تھی۔"
اور اسی ترجمے میں ابن عساکر نے قتادہ کی روایت بھی نقل کی
سمت جعدة ابنة الأشعث بن قيس الحسن بن علي وكانت تحته ورشيت على ذلك مالاً.
"جعدہ بنت اشعث بن قیس نے حسن بن علیؓ کو زہر دیا، وہ ان کے نکاح میں تھیں، اور اس کام پر اسے مال دیا گیا تھا۔"
📚 ابن عساكر، تاريخ مدينة دمشق، ترجمۃ الإمام الحسن بن عليؓ، ج 13، ص 284 وما بعدها۔
۔
امام اہل سنت امام عبد القادر بن محمد الطبريؒ لکھتے ہیں ۔
لما كانت سنة سبع وأربعين من الهجرة دس معاوية إلى جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي زوجة الحسن بن علي أن تسقي الحسن السم، ويوجه لها مائة ألف ويزوجها يزيد، ففعلت ذلك.
"جب 47 ہجری کا سال آیا تو معاویہ نے حسن بن علیؓ کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی کے پاس خفیہ طور پر پیغام بھیجا کہ حسنؓ کو زہر پلا دے۔ وہ اسے ایک لاکھ دے گا اور اس کی شادی یزید سے کر دے گا۔ چنانچہ جعدہ نے ایسا ہی کیا۔"
📚 عبد القادر بن محمد الطبري، حسن السريرة۔
۔
امام اہل سنت امام شهاب الدین النویریؒ شافعی لکھتے ہیں ۔
سم الحسن بن علي رضي الله عنهما، سمته امرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي. وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك، وكان لها ضرائر، وأنه وعدها بخمسين ألف درهم وأن يتزوجها من يزيد، فلما فعلت وفى لها بالمال وقال: حبنا ليزيد يمنعنا من الوفاء لك بالشرط الثاني.
حسن بن علیؓ کو زہر دیا گیا، ان کی بیوی جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی نے انہیں زہر دیا۔ اور ایک گروہ نے کہا کہ یہ کام معاویہ کی طرف سے اسے خفیہ طور پر آمادہ کرنے اور اس کے لیے معاویہ کی طرف سے دی جانے والی چیز کے سبب تھا۔ اسے پچاس ہزار درہم دینے اور یزید سے شادی کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جب اس نے یہ کام کر دیا تو معاویہ نے اسے مال دے دیا اور کہا: یزید سے ہماری محبت ہمیں دوسرے وعدے کو پورا کرنے سے مانع ہے۔"
📚 شهاب الدين النويري، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج 5، ص 193۔
۔
امام اہل سنت امام تقی الدین المقریزیؒ (845ھ) لکھتے ہیں:
واتهمت زوجته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي أنها سمته بتدسيس معاوية حتى بايع لابنه يزيد.
"ان کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس نے معاویہ کی سازش/خفیہ تدبیر سے حسنؓ کو زہر دیا، تاکہ معاویہ اپنے بیٹے یزید کے لیے بیعت لے سکے۔"
حوالہ:
المقریزی، إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع، ج 5، ص 359۔
Old posts 👇