🔴 معاویہ نے امام حسن [ع] کو زہر دیا 🔴
🔴 طبرانی ،معجم کبیر میں لکھتے ہیں
📜 حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا شعبة : عن أبي بكر بن حفص أن سعدا و الحسن بن علي رضي الله عنهما ماتا في زمن معاوية رضي الله عنه فيرون أنه سمه
📝 سعد اور حسن بن علی [سلام اللہ علیہما] نےزمان معاویہ میں انتقال کیا ہے راوی کہتے ہیں کہ معاویہ نے حسن بن علی [سلام اللہ علیہما] کو زھر دیا ہے
📚 المعجم الكبير ج ۳ ص 71
المؤلف : سليمان بن أحمد بن أيوب أبو القاسم الطبراني
الناشر : مكتبة العلوم والحكم - الموصل
الطبعة الثانية ، 1404 - 1983
تحقيق : حمدي بن عبدالمجيد السلفي
🔴 *معاویہ نے اپنے خادم کو اشارہ کیا کہ حسن [ع] کو زہر دیدے*
شمس الدين ذهبى نے بھی واقدی کے حوالے سے نقل کیا ہے
📜 وقد سمعت بعض من يقول: كان معاوية قد تلطف لبعض خدمه أن يسقيه سما
📝 میں نے بعض سے سنا ہے جو کہتے ہیں معاویہ نے اپنے خادم کو اشارہ کیا کہ حسن [ع] کو زہر دیدے
📚 سير أعلام النبلاء، ج3، ص274، الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)،: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة
🔴 تاریخ طبری سے امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے واقعے کو معاویہ ملعون کے ہاتھوں حذف کر دینا 🔴
🔸 تاریخ طبری میں یہ واقعہ درج تھا:
📜 کہ امام حسن بن علی علیہما السلام معاویہ کے زمانے میں زہر دے کر شہید کر دیے گئے۔ معاویہ جو بڑا چالاک اور مکار سمجھا جاتا تھا، اس نے خفیہ طور پر جعدہ بنت اشعث جو امام حسن علیہ السلام کی زوجہ تھی، کے پاس زہر بھیجا اور کہا:
📜 "اگر تم حسن کو قتل کر دو تو میں تمہاری شادی اپنے بیٹے یزید سے کر دوں گا۔"
💯🚫 جب امام حسن علیہ السلام کی شہادت ہو گئی تو جعدہ نے کسی کو معاویہ کے پاس بھیجا تاکہ وعدہ پورا کرے۔ معاویہ نے جواب دیا:
📃 "میں یزید کے معاملے میں بخل کرتا ہوں (یعنی یزید کو کسی کے حوالے نہیں کرتا)۔"
📓 حوالہ:
عیون الأنباء فی طبقات الأطباء، جلد 1، صفحہ 174
مصنف: موفق الدین ابوالعباس احمد بن القاسم بن خلیفة بن یونس السعدی الخزرجي (وفات: 668 ہجری)
ناشر: دار مکتبة الحیاة – بیروت
تحقیق: ڈاکٹر نزار رضا
✔️ نوٹ: یہ واقعہ جو کبھی تاریخ طبری میں موجود تھا، اب اس کتاب سے حذف کر دیا گیا ہے!
⁉️‼️❓ کیا اس حذف کا سبب یہ نہیں کہ اس واقعے کے باقی رہنے سے معاویہ کی خبیث اور ظالمانہ حقیقت سب کے سامنے آ جاتی؟
🔴 اسی طرح
✍ ابن اعثم کوفی لکھتے ہیں کہ
📜 امام حسن مجتبیٰ [علیہ السلام] کو معاویہ کے حکم اور مروان و جعدہ کی کاروائی سے زہر دے کر شہید کیا گیا۔
📚 حوالہ اسکین یجز میں دیکھیں
اور
✍ ابن عبدالبر قرطبی لکھتے ہیں کہ
📜 امام حسن [علیہ السلام] کو معاویہ کے حکم سے زہر دے کر شہید کیا گیا۔
📚 حوالہ اسکین پیجز میں دیکھیں
🔴 بلاذری اپنی کتاب انساب الأشراف میں لکھتے ہیں:
📜 "کہا گیا ہے کہ معاویہ نے خفیہ طور پر جعدہ بنت اشعث بن قیس، جو امام حسن علیہ السلام کی زوجہ تھی، کو پیغام بھیجا اور اُسے اُکسایا حتیٰ کہ اُس نے امام حسن علیہ السلام کو زہر دے دیا، اور جعدہ کو امام حسن علیہ السلام سے بغض تھا۔"
🗞 ہیثم بن عدی نے کہا:
"معاویہ نے سازش کی اور سہیل بن عمرو کی بیٹی، جو امام حسن علیہ السلام کی زوجہ تھی، کو ایک لاکھ دینار کا لالچ دیا کہ اگر وہ امام حسن علیہ السلام کو زہر دے دے تو وہ مال اُسے دے دیا جائے گا، اور اُس نے ایسا ہی کیا۔"
📚 انساب الأشراف، جلد 3، صفحہ 295، مصنف: احمد بن یحییٰ بن جابر البلاذری (وفات: 279ھ)
📚 جمل من أنساب الأشراف، جلد 3، صفحات 47-48 (رقم 56) اور صفحات 55-59 (رقم 67 و 68)
مصنف: احمد بن یحییٰ بن جابر البلاذری (وفات: 279 ہجری)
ناشر: دارالفکر، بیروت، 1417ھ / 1996ء، پہلی اشاعت
تحقیق: سہیل زکار اور ریاض الزرکلی
آنلائن دیکھیں 👇🏼
http://shamela.ws/browse.php/book-9773#page-1124
🔴 مشہور اہلِ سنت مؤرخ ابوالفرج اصفہانی اپنی معروف کتاب مقاتل الطالبیین میں لکھتے ہیں:
📜 مغیرہ سے روایت ہے کہ معاویہ نے جعدہ بنت اشعث کو پیغام بھیجا کہ:
"اگر تم حسن علیہ السلام کو زہر دے دو تو میں تمہاری شادی اپنے بیٹے یزید سے کر دوں گا۔"
جعدہ، امام حسن علیہ السلام کی زوجہ تھی۔ معاویہ نے اُس کے لیے ایک لاکھ درہم بھیجے، اور اُس نے امام حسن علیہ السلام کو زہر دے دیا۔ معاویہ نے وہ ایک لاکھ درہم تو جعدہ کے حوالے کر دیے، مگر اُس کی شادی یزید سے نہ کی۔
بعد میں خاندانِ طلحہ کے ایک شخص نے جعدہ سے شادی کر لی اور اُن کے ہاں اولاد ہوئی۔ جب کبھی ان کے اور قریش کے دیگر خاندانوں میں جھگڑا ہوتا، تو لوگ جعدہ کے بیٹوں کو طعنہ دیتے اور کہتے:
"تم اُس عورت کے بیٹے ہو جو اپنے شوہروں کو زہر دیا کرتی تھی۔"
📚 مقاتل الطالبیین، جلد 1، صفحہ 80
🔴 زمخشری، اہل سنت کے مشہور عالم، نحوی اور مفسر، اس واقعہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
📜 "معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعث کو ایک لاکھ دینار دینے کا وعدہ کیا تاکہ وہ امام کو زہر دے دے۔ جعدہ نے ایسا کیا اور امام حسن علیہ السلام دو ماہ تک زندہ رہے۔ اس دوران زہر کا اثر اس قدر شدید تھا کہ امام کے بستر کے نیچے سے خون سے بھرے طشت اٹھائے جاتے تھے۔
امام حسن علیہ السلام فرمایا کرتے تھے:
'مجھے کئی بار زہر دیا گیا ہے، مگر کبھی ایسا اثر نہیں ہوا جیسا اس بار ہوا ہے۔ میرا جگر نکل کر باہر آگیا اور میں اسے اس لکڑی سے پلٹ رہا تھا جو میرے ہاتھ میں تھی۔'"
🏴 جعدہ نے امام کی وفات کے بعد کچھ اشعار کہے:
"اے جعدہ! اُس پر رو اور غم نہ کر،
یہ رونا درست اور برحق ہے، باطل نہیں؛
تم اپنے پردے کو کبھی اس جیسے شخص کے لیے نہ ہٹا سکو گی،
چاہے وہ ننگے پاؤں ہو یا جوتوں والا۔"
🔲 بعد میں جعدہ نے قریش کے ایک شخص سے شادی کر لی اور اس سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ لوگ اُس بچے کو طعنہ دیتے اور کہتے:
"اے اُس عورت کے بیٹے! جس نے اپنے شوہر کو زہر دیا تھا۔"
📚 الزمخشری الخوارزمی، ابو القاسم محمود بن عمرو بن احمد جار اللہ (وفات: 538ھ)
کتاب: ربیع الأبرار، جلد 5، صفحات 156-157
🔴 مسعودی، جو اہل سنت کے مشہور مؤرخ ہیں، لکھتے ہیں:
📜 "ذکر کیا گیا ہے کہ امام حسن علیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی نے انہیں زہر دیا۔ معاویہ نے خفیہ طور پر اس سے کہا تھا:
'اگر تم امام حسن کو قتل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ تو میں تمہیں ایک لاکھ درہم بھیجوں گا اور تمہاری شادی اپنے بیٹے یزید سے کر دوں گا۔'
یہی لالچ تھا جس نے جعدہ کو امام حسن کو زہر دینے پر آمادہ کیا۔
جب امام حسن علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی تو معاویہ نے وعدے کے مطابق مال تو جعدہ کو بھیجا، لیکن اس کے ساتھ پیغام بھی بھیجا:
'ہم یزید کی زندگی کو عزیز رکھتے ہیں، ورنہ ہم تم سے کیے گئے وعدے کے مطابق تمہاری شادی یزید سے کر دیتے۔'"
📚 مروج الذهب و معادن الجوهر، جلد 3، صفحہ 346
مصنف: ابو الحسن علی بن الحسین بن علی مسعودی (وفات: 346ھ)
🔴 قُرطبی حنفی (وفات: 550ھ) لکھتے ہیں:
📜 "امام حسن علیہ السلام زہر سے شہید ہوئے، اُنہیں اُن کی زوجہ جعدہ بنت اشعث کندی نے زہر دیا، اور یہ زہر معاویہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔"
📚 التعریف بالأنساب والتنويه بذوي الأحساب، جلد 1، صفحہ 3
🔴 مزید علما کے اقوال:
⭕ ابن عبد البر: امام حسن علیہ السلام کو اُن کی بیوی جعدہ بنت اشعث نے زہر دیا۔
⭕ سُدی: یزید بن معاویہ نے خفیہ طور پر جعدہ کو پیغام دیا:
"اگر تم حسن علیہ السلام کو زہر دے دو، تو میں تم سے شادی کروں گا۔"
جب امام حسن شہید ہو گئے تو جعدہ نے یزید سے وعدہ پورا کرنے کا کہا، لیکن یزید نے جواب دیا:
"ہم حسن علیہ السلام کو تمہارے ذریعے نقصان پہنچانے پر راضی تھے، لیکن خود تمہیں قبول نہیں کر سکتے۔"
⭕ شعبی: معاویہ نے خفیہ پیغام بھیجا:
"امام حسن کو زہر دو، میں تمہیں یزید سے شادی کراؤں گا اور 100,000 درہم دوں گا۔"
شہادت کے بعد مال تو بھیجا، مگر کہا:
"ہم یزید کی زندگی کو عزیز رکھتے ہیں، اس لیے شادی ممکن نہیں۔"
⭕ شعبی یہ بھی کہتے ہیں:
امام حسن علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت فرمایا:
"معاویہ نے شربت تیار کرایا اور اپنی آرزو پوری کی، لیکن قسم ہے اُس خدا کی کہ وہ اپنے وعدے کو کبھی پورا نہیں کرے گا۔"
🔴 ابن جوزی حنبلی اپنی کتاب الصفوة میں یعقوب بن سفیان سے نقل کرتے ہیں کہ جعدہ ہی امام حسن کو زہر دینے والی تھی، اور ایک شاعر نے اس غم پر کہا:
📜 "اے دنیا! تُو دھوکہ دیتی ہے، اور کتنی ہی تسلیاں دیتی ہے،
لیکن ہمارے دلوں میں وہ غم باقی ہے —
رسول اللہ ﷺ کی وفات، علی علیہ السلام کی شہادت،
امام حسین علیہ السلام کا قتل اور امام حسن علیہ السلام کی مسمومیت!"
📚 تذکرة خواص الأمة بذكر خصائص الأئمة، صفحہ 483
مؤلف: یوسف بن قُزُغلی سبط ابن جوزی حنفی (وفات: 654ھ)
ناشر: منشورات الشریف الرضی، قم، 1418ھ
پرانی پوسٹ بھی ملاحظہ کریں 👇
Gallery
Tap any image to view full screen