رسول اکرم ص  کی مسمومیت
رسول اکرم ص  کی مسمومیت
رسول اکرم ص  کی مسمومیت
رسول اکرم ص  کی مسمومیت
رسول اکرم ص  کی مسمومیت
رسول اکرم ص  کی مسمومیت
رسول اکرم ص  کی مسمومیت

🔴 شیعہ فقہاء اور مراجع کا ان روایات سے جو فہم ہے، وہ یہ ہے کہ تمام ائمہ کی شہادت کے ثبوت کے لیے دلیل موجود ہے، جیسا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید صادق روحانی (حفظہ اللہ) بھی انہی روایات کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کا فتویٰ دیتے ہیں۔

 

❓ استفتاء (سوال):

 

آیت اللہ العظمیٰ سید محمد صادق روحانی (حفظہ اللہ) اور رسول اکرم ﷺ کی مسمومیت کے بارے میں فتویٰ

 

سوال 93:

کیا یہ بات درست ہے کہ رسولِ گرامی اسلام ﷺ مسمومیت کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوئے؟

 

✅ جواب:

باسمه جلت اسماؤه؛

تحقیقات سے حاصل شدہ نتیجہ یہ ہے کہ رسولِ گرامی ﷺ بروز دوشنبه 28 صفر سنہ 11 ہجری کو، 63 برس کی عمر میں، مدینہ میں مسموم ہوئے اور اسی حالت میں وفات پائی۔

اس بات پر خاص روایات دلالت کرتی ہیں، اور عام روایت "ہم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر وہ قتل یا زہر سے شہید ہوا ہے" (جو معتبر سند رکھتی ہے) بھی اسی بات کی تائید کرتی ہے۔

 

📚 خاتم پیامبران ﷺ و امیر مؤمنانؑ و مقام معصومینؑ

مصنف: آیت اللہ العظمیٰ سید محمد صادق روحانی

ناشر: مهر امیر المؤمنینؑ، قم، سنہ 1391 ہجری شمسی، صفحہ 95

 

⭕ روایات کا ہوالہ 

 

📜 «ما منّا إلاّ مقتولٌ أو مسمومٌ»

 

📚 کنایة الأثر، ص 227

 

📜 امام صادق علیہ السلام سے نقل شدہ روایت: "ما منّا إلاّ مقتول أو شهيد"

 

📚 الفصول المهمہ، ص 278

 

📚 بحار الانوار، ج 29، ص 209

 

🔴 شیخ علی کورانی عاملی لکھتے ہیں:

 

📜 "اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معصومین علیہم السلام کی شہادت کا قاعدہ، چاہے وہ قتل سے ہو یا زہر سے، بالکل درست ہے۔ اس موضوع پر تفصیلی مباحث ہیں، لیکن اس وقت اس کے لیے گنجائش نہیں۔"

 

📚 جواهر التاريخ، ج 3، ص 217

 

🔴 علامہ مجلسی طاب ثراہ کا قول:

 

علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں ایک حدیث ذکر کی ہے:

 

📜 "لم يكن إمام إلاَّ مات مقتولاً أو مسموماً"

📃 "کوئی امام ایسا نہیں گزرا جسے قتل نہ کیا گیا ہو یا زہر نہ دیا گیا ہو"۔

 

🔴 مرحوم شیخ طبرسی فرماتے ہیں:

 

📜 "اسی وجہ سے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبوت کی فضیلت کے ساتھ جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو عطا کی گئی، 👈🏿👈🏿 آپ (ص) کو شہادت کا شرف بھی نصیب ہوا ہے۔"

 

📚 مجمع البیان فی تفسیر قرآن

 

🔴 امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت:

 

📜 عبدالصمد بن بشیر نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپؑ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا یا انہیں قتل کیا گیا؟ بے شک اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

 

📜 «اَفَإِن مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُم عَلٰی اَعْقَابِكُمْ»

📃 (اگر وہ وفات پائیں یا قتل کر دیے جائیں تو کیا تم اپنی پُرانی راہوں کی طرف لوٹ جاؤ گے؟)

 

پس نبی اکرم ﷺ اپنی وفات سے پہلے زہر دیے جانے سے متاثر ہوئے، اور وہ دونوں عورتیں تھیں جنہوں نے انہیں زہر پلایا۔

 

راوی کہتا ہے:

"ہم نے عرض کیا: بے شک وہ دونوں عورتیں اور ان کے والد اللہ کی مخلوق میں سب سے بدترین ہیں۔"

 

📚 تفسیر العیاشی، جلد 1، صفحہ 224

📚 تفسیر البرہان، جلد 1، صفحہ 320

📚 تفسیر الصافی، جلد 1، صفحہ 305

📚 حیاة القلوب (علامہ مجلسی)، جلد 4، صفحہ 1796

 

🔴 علامہ مجلسی (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:

 

📜 "عیاشی نے معتبر سند کے ساتھ امام صادق (علیہ السلام) سے روایت نقل کی ہے کہ فلاں اور فلاں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو زہر دے کر شہید کیا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں زہروں (یہودیہ عورت کا دیا ہوا اور یہ دوسرا) نے آپ کی شہادت میں کردار ادا کیا ہو۔"

 

📚 جلاء العیون، صفحہ 145

 

❓ "کیا آپ لوگ ماننے کو تیار ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ) نعوذباللہ جان بوجھ کر خیبر کا زہر آلود کھانا کھایا جس کی وجہ سے آپ کی شہادت ہوئی۔

 

محمد بن اسماعیل بخاری اپنی صحیح میں لکھتے ہیں:

 

📜 عائشہ کہتی ہیں: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) اپنی بیماری میں، جس میں آپ کا وصال ہوا، فرمایا کرتے تھے: 'اے عائشہ! میں اب بھی اس کھانے کے درد کو محسوس کر رہا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا، اور اب وہ وقت آگیا ہے جب میں محسوس کر رہا ہوں کہ میری رگِ جاں (شریان) اس زہر کی وجہ سے کٹ رہی ہے۔'

 

📚 صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی و وفاته، حدیث 4165، جلد 4، صفحہ 1611

 

حالانکہ اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت ہے کہ آپ کے صحابہ جانتے تھے کہ وہ کھانا زہریلا تھا اور آپکو بھی اس بات کی خبر دی گئی تھی

 

اور صحیح بخاری میں ابن مسعود سے روایت ہے کہ:

 

📜 ہم اس وقت کھانے کا تسبیح کہنا سنتے تھے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کھاتے تھے۔' یعنی آپ کے سامنے کھانا ذکر کرتا تھا۔ اور خیبر کی زہریلی بکری کے شانے نے آپ کو خبر دی کہ اس میں زہر ہے۔

 

📚 البدایہ والنہایہ، جلد 6، صفحہ 286

 

👈🏼 تو اب یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ کے نبی (نعوذباللہ) خودکشی کرنے والے تھے کہ باوجود علم کے زہریلا کھانا کھایا، 

 

👈🏼👈🏼 یا یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ راویہ جھوٹ بول رہی ہیں اور یہ بات من گھڑت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے یہودیہ عورت کا زہریلا کھانا کھایا تھا جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔

 

تفصیلی پوسٹ کیلئے یہ لنک دیکھیں کہ خیبر میں زہر دینا واضح جھوٹ ہے 👇🏼

 

/topic/1738

 

اب ہم انتظار کرتے ہیں کہ اہل سنت اس کا جواب دیں کہ آخر یہ زہر کب دیا گیا؟

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7