کیا رسولِ خدا ص جنگِ خیبر میں ایک یہودی عورت کے ذریعے زہر دیے جانے سے شہید ہوئے؟
❌ کیا رسولِ خدا ﷺ جنگِ خیبر میں ایک یہودی عورت کے ذریعے زہر دیے جانے سے شہید ہوئے؟
⚫ ابن کثیر (اہل سنت کے بڑے مؤرخ) نے اپنی کتاب البدایة والنهایة میں ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے:
📜 "قصہ بکری کے گوشت میں زہر ڈالنے اور ظاہر ہونے والی نشانی کا ذکر"۔
▪اس باب میں تفصیل کے ساتھ وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کی فتح کے بعد، زینب بنت حارث (جو مرحب یہودی کی بھتیجی تھی) نے رسول اللہ ﷺ کو تحفہ دیا، جس میں بھنا ہوا بکری کا گوشت تھا اور اس میں زہر ملا ہوا تھا۔
ابن کثیر اس کے بعد نتیجہ نکالتے ہیں کہ:
👈🏼 "اس زہر کے باوجود رسول اللہ ﷺ کا محفوظ رہنا، آپ کی نبوت کی سچائی اور آپ کی رسالت کی ایک واضح نشانی و معجزہ ہے۔"
✅ اصل روایات
📖 صحیح بخاری میں روایت ہے (مختصر صورت میں):
ابوہریرہؓ کہتے ہیں:
📜 "جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو ایک بکری تحفہ میں دی گئی، جس میں زہر ملا ہوا تھا۔"
📖 مسند احمد میں تفصیل کے ساتھ آتا ہے:
ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں:
📜 جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو ایک بکری تحفہ میں دی گئی جس میں زہر تھا۔
⚫ ابن کثیر کی روایت
📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "یہاں جو بھی یہودی موجود ہیں، ان سب کو میرے پاس جمع کرو۔"
جب یہودی آپ کے پاس جمع کیے گئے تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا:
"میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں، کیا تم سچ کہو گے؟"
انہوں نے کہا: "ہاں، اے ابوالقاسم!"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارا باپ کون ہے؟"
انہوں نے کہا: "ہمارا باپ فلاں ہے۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم جھوٹ بولتے ہو، تمہارا باپ فلاں ہے۔"
انہوں نے کہا: "آپ نے سچ کہا اور درست فرمایا۔"
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
"اگر میں تم سے کچھ اور پوچھوں تو کیا تم سچ کہو گے؟"
انہوں نے کہا: "جی ہاں، اے ابوالقاسم! اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپ ویسے ہی پہچان لیں گے جیسے پچھلی بات میں پہچانا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا:
"کیا تم نے اس بکری کے گوشت میں زہر ملایا تھا؟"
انہوں نے کہا: "جی ہاں!"
آپ ﷺ نے پوچھا: "تم نے ایسا کیوں کیا؟"
انہوں نے کہا:
👈🏼 "ہم نے یہ سوچا کہ اگر تم جھوٹے ہو (اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہو) تو ہم تم سے نجات پا لیں گے۔
اور اگر تم سچے نبی ہو تو یہ زہر تمہیں نقصان نہیں دے گا۔"
📚 البدایة والنهایة، ابن کثیر، ج 6، ص 324، تحقیق: الترکی، ناشر: مرکز البحوث والدراسات العربیة والإسلامیة بدار ہجر)
یعنی:
▪یہودی عورت نے زہر دیا۔
▪رسول اللہ ﷺ نے معجزانہ طور پر حقیقت کو آشکار کر دیا۔
▪اور ان کا محفوظ رہنا ان کی نبوت کی نشانی قرار دیا گیا۔
⚫ بیہقی روایت کرتے ہیں:
📜 ابو عبداللہ حاکم نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ابو عباس اصم نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: سعید بن سلیمان نے ہم کو خبر دی، عباد بن عوّام نے سفیان بن حسین سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ:
📃 ایک یہودی عورت نے رسول اللہ ﷺ کو زہر آلود بکری کا گوشت ہدیہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: "رک جاؤ، یہ زہریلا ہے"۔ پھر اس عورت سے فرمایا: "تمہیں یہ کام کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟"
اس نے کہا: "میں چاہتی تھی کہ اگر آپ نبی ہیں تو اللہ آپ کو اس کی خبر دے گا، اور اگر آپ جھوٹے ہیں تو لوگ آپ سے نجات پا لیں گے۔"
رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو کوئی سزا نہ دی۔
▪ یہ روایت ابو داؤد نے بھی نقل کی ہے۔ اسی طرح بیہقی نے عبدالملک بن ابی نظرہ کے واسطے سے جابر بن عبداللہ سے بھی یہی حدیث روایت کی ہے۔
⚫ امام احمد بن حنبل روایت کرتے ہیں:
شریح نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے عباد سے، انہوں نے ہلال بن خباب سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا کہ:
📜 ایک یہودی عورت نے رسول اللہ ﷺ کو زہر آلود بکری کا گوشت ہدیہ کیا۔ آپ نے اس کو بلا کر پوچھا: "تمہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟" اس نے کہا: "میں نے چاہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو اللہ آپ کو مطلع کرے گا، اور اگر آپ نبی نہیں ہیں تو لوگ آپ سے راحت پا جائیں گے۔"
رسول اللہ ﷺ کو جب بھی اس کے اثرات محسوس ہوتے تو آپ حجامت کراتے۔ ایک بار سفر میں احرام کی حالت میں آپ نے وہ اثر محسوس کیا تو حجامت کی۔
✅ یہ روایت صرف امام احمد نے ذکر کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
⚫ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ
📜 ایک یہودی عورت نے بکری کا زہر آلود گوشت ہدیہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو فرمایا: "رک جاؤ، یہ زہریلا ہے۔" اور اس عورت سے پوچھا: "تم نے ایسا کیوں کیا؟" اس نے کہا: "میں نے چاہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو اللہ آپ کو اس کی خبر دے گا، اور اگر جھوٹے ہیں تو لوگ آپ سے راحت پا لیں گے۔"
📚 البدایہ و النہایہ، ابن کثیر، جلد 6، صفحات 325-326
⚫ بیہقی نے ایک اور روایت بھی بیان کی ہے:
عبدالرازق سے، انہوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے روایت کیا کہ:
📜 ایک یہودی عورت نے رسول اللہ ﷺ کو خیبر میں بھنا ہوا بکری کا گوشت ہدیہ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: "یہ کیا ہے؟" اس نے کہا: "ہدیہ ہے" (وہ ڈری کہ اگر کہے گی صدقہ ہے تو آپ نہیں کھائیں گے)۔ آپ اور صحابہ نے کھایا، پھر آپ نے فرمایا: "رک جاؤ"۔
پھر اس عورت سے پوچھا: "کیا تم نے اس میں زہر ملایا ہے؟"
اس نے کہا: "آپ کو کس نے خبر دی؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ ہڈی (جو میرے ہاتھ میں ہے) نے مجھے خبر دی ہے۔"
اس نے کہا: "ہاں!"
آپ ﷺ نے پوچھا: "کیوں؟"
اس نے کہا: "میں چاہتی تھی کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہم آپ سے راحت پا جائیں، اور اگر آپ نبی ہیں تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گا۔"
رسول اللہ ﷺ نے اپنی کمر پر حجامت کی اور صحابہ کو بھی حکم دیا کہ وہ حجامت کریں۔ ان میں سے بعض وفات پا گئے۔
زہری کہتے ہیں: وہ عورت مسلمان ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے معاف کر دیا۔
📚 البدایہ و النہایہ، ابن کثیر، جلد 6، صفحات 327-329
⚫ ابنِ کثیر نے ابنِ اسحاق کے حوالہ سے نقل کیا:
📜 محمد بن اسحاق نے کہا: جب رسولِ اللہ ﷺ خیبر کی تقسیمِ غنائم اور صلح کے کام سے فارغ ہوئے تو زینب بنت حارث، جو سلام بن مشکم کی بیوی تھی، ایک بھنی ہوئی بکری بطور ہدیہ لے کر آئی۔ اس نے پہلے دریافت کیا تھا کہ رسولِ اللہ ﷺ کو بکری کے کس حصے سے زیادہ رغبت ہے؟ لوگوں نے کہا: "کتف (کندھا/بازو) سے۔" تو اس نے اس حصے میں زیادہ زہر بھر دیا اور باقی گوشت میں بھی زہر ملایا۔
جب وہ بکری رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھی گئی تو آپ ﷺ نے کتف (بازو) سے ایک لقمہ لیا لیکن نگلا نہیں اور ساتھ میں بشر بن براء بن معرور نے بھی کھایا، البتہ بشر نے اسے نگل لیا اور آپ ﷺ نے اسے تھوک دیا اور فرمایا: "یہ ہڈی مجھے خبر دے رہی ہے کہ یہ زہر آلود ہے۔"
پھر اس عورت کو بلایا گیا اور اس نے اقرار کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: "تو نے یہ کام کیوں کیا؟" اس نے کہا: "آپ نے میرے قبیلے کے ساتھ وہ کیا ہے جو آپ پر مخفی نہیں، تو میں نے کہا اگر یہ شخص جھوٹا ہے تو ہم اس سے نجات پائیں گے، اور اگر یہ نبی ہے تو اسے اطلاع دے دی جائے گی۔"
پس رسولِ اللہ ﷺ نے اس عورت کو معاف کر دیا، لیکن بشر بن براء اس زہر سے مر گیا۔
📚 البدایہ و النہایہ، ابنِ کثیر، جلد 6، صفحہ 330-331
✅ خلاصہ و تجزیہ:
▪اگر ہم یہ مان لیں کہ رسولِ اکرم ﷺ اس یہودیہ عورت کے زہر سے مسموم ہو کر فوت ہوئے تو یہ گویا یہودیہ عورت کے دعویٰ کو درست ماننے کے مترادف ہے، کیونکہ اس نے کہا تھا:
"اگر تو نبی ہے تو اللہ تجھے خبر دے گا، اور اگر جھوٹا ہے تو لوگ تجھ سے نجات پا جائیں گے۔"
▪اب اگر (نعوذ باللہ) اللہ نے اپنے نبی کو خبر نہ دی ہوتی اور آپ ﷺ نے زہر کھا لیا ہوتا، تو اس عورت اور اس کے ساتھی یہودی یہی کہتے کہ محمد ﷺ جھوٹے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو ایسے موقعوں پر ضرور مدد دیتا ہے اور ان کی نبوت کو ظاہر کرتا ہے۔
👈🏼 اسی لیے یہ بات درست نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زہر کھا کر بعد میں معلوم کیا، کیونکہ یہ کوئی غیبی اطلاع نہیں بنتی بلکہ بظاہر کھانے کے بعد احساس ہونا ہوتا ہے، اور یہ معجزہ نہیں ٹھہرتا۔
❓پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعہ معجزہ تھا تو پھر زہر کا اثر بعد میں ۳ یا ۴ سال تک کیوں رہا اور آخر کار شہادت کا سبب کیوں بنا؟
اس بنا پر کہنا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات اسی زہر سے ہوئی، ایک بے دلیل دعویٰ ہے اور نبوت کے اثبات کے بجائے شک و شبہ پیدا کرتا ہے۔۔
#بدر_علی
#التماس_دعا
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen