قرآن کو کافی سمجھنے کے بہانے حدیث سے دشمنی
🔴 قرآن کو کافی سمجھنے کے بہانے حدیث سے دشمنی
⚠️ حسبنا کتاب الله
اسلام کو ختم کرنے کا ایک نعرہ
ذھبی: حسبنا کتاب اللہ یہ خوارج کا قول ہے
┄┅┅━🜋𖣐﴾﷽﴿𖣐🜋━┅┅┄
▪️ جمعرات کے واقعہ (رزیۃ الخمیس) کے دن سے لے کر آج تک صدیوں سے یہ نعرہ: «حسبنا کتاب الله» بعض حدیث کے مخالفین کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے اور بعض لوگوں کے لیے ایک اصول بن چکا ہے۔
لیکن کیا صرف قرآن کافی ہے؟ کیا یہ ہمیں رسولِ اکرم ﷺ سے بے نیاز کر دیتا ہے؟
کیا یہ حقیقت نہیں کہ قرآن کے معارف کی وضاحت اور تفصیل خود نبی اکرم ﷺ کے ذمہ تھی؟
جو لوگ کہتے ہیں: "ہمارے لیے قرآن کافی ہے"،
⁉️ وہ روزانہ سترہ رکعت نماز کیوں پڑھتے ہیں؟
⁉️ قرآن میں کہاں نماز کی رکعات کا ذکر ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ فقہی کتابوں میں صرف نماز کے مسائل ہی سینکڑوں ہیں۔
⁉️ کیا یہ سب قرآن سے نکالا جا سکتا ہے؟
نہیں! نہ صرف یہ مسئلہ بلکہ بہت سے عقائدی اور فقہی مسائل ایسے ہیں جو رسولِ اکرم ﷺ اور اہل بیتؑ کی وضاحت کے بغیر نہ سمجھے جا سکتے ہیں اور نہ ان پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
کیونکہ قرآن صرف کلیات بیان کرتا ہے اور اس کی تفصیل اور تشریح حقیقی مفسر یعنی نبی ﷺ کے سپرد کی گئی ہے۔
🔸 مثال کے طور پر سورۂ حشر آیت 7 میں ارشاد ہے:
📜 "جو کچھ رسول تمہیں دے، وہ لے لو، اور جس سے منع کرے، اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔"
👈🏻 بہت سے نقلی دلائل کے علاوہ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ اگر صرف قرآن کافی ہوتا تو پھر رسولِ خدا ﷺ کی کیا ضرورت تھی کہ اللہ خود قرآن میں حکم دے کہ رسول جو حکم دیں اس کی اطاعت کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ؟
⁉️ قرآن کے ہوتے ہوئے پھر ان کی کیا ضرورت تھی؟
واضح ہے کہ قرآن کو تفسیر اور تاویل کی ضرورت ہے، جس کا علم رسولِ اکرم ﷺ کے پاس تھا، اور ان کے بعد یہ علم ان کے اوصیاء کو منتقل ہوا۔ اور روایات کے مطابق جو شخص معصومینؑ کے علاوہ یہ دعویٰ کرے کہ اسے پورے قرآن کا علم ہے، وہ جھو/ٹا اور ملع/ون ہے۔
❌ اہل سنت کی کتابوں میں بہت سی روایات موجود ہیں جو ان کے خلفاء کی حدیث سے دشمنی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک قابلِ غور روایت پیش ہے:
📜 "عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے ارادہ کیا کہ وہ رسولِ خدا ﷺ کی احادیث کو لکھیں۔ اس بارے میں انہوں نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ سب نے لکھنے کا مشورہ دیا۔ پھر عمر ایک مہینہ تک استخارہ کرتے رہے۔ ایک دن جب ان کا فیصلہ ہو گیا تو انہوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا تھا کہ احادیث لکھوں، لیکن مجھے ایک قوم یاد آئی جو تم سے پہلے تھی، انہوں نے کتابیں لکھیں اور انہی میں مشغول ہو گئے اور اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا۔ پس میں ہرگز اللہ کی کتاب کے ساتھ کسی چیز کو نہیں ملاؤں گا۔"
📓 علوم الحدیث و مصطلحه، صبحی الصالح، صفحہ 39
👈 حضرت عمر نے پہلے رسول ﷺ کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ﷺ کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
Invisible islam. Com
Gallery
Tap any image to view full screen