Back to واقعۂ قرطاس (حادثۂ قلم و کاغذ)

حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی

حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی
حضرت عمر نے پہلے رسول ص کو تحریر نہ لکھنے دی اور بعد میں رسول ص  کی احادیث لکھنے پر بھی پابندی لگا دی

❓ مذاہب و عقائد کے اختلاف وجہ 

 

🔷 عمر بن خطاب کی طرف سے احادیث رسول اللہ ﷺ کی کتابت اور نشر سے روکنا

 

🔘 ابن رجب حنبلی، نجم الدین سلیمان بن عبدالقوی طوفی حنبلی (شاگرد ابن تیمیہ اور اہل سنت کے بڑے علما میں سے) سے نقل کرتے ہیں:

 

✍ وہ شرح اربعین نووی میں کہتے ہیں:

جان لو کہ علما کے درمیان اختلاف کی ایک وجہ، روایات اور نصوص کا آپس میں تعارض ہے۔ اور کچھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ اس اختلاف کی اصل وجہ عمر بن خطاب ہیں۔ کیونکہ صحابہ نے ان سے اجازت چاہی کہ اسی وقت سنت نبوی کو لکھ لیا جائے، مگر عمر نے منع کر دیا اور کہا: "میں قرآن کے ساتھ کوئی چیز نہیں لکھوں گا۔" حالانکہ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: "خطبة الوداع ابو شاہ کے لیے لکھ دو" اور فرمایا تھا: "علم کو لکھنے کے ذریعے محفوظ کرو۔"

 

انہوں (اہل نظر) نے کہا: اگر عمر اجازت دے دیتے تو صحابہ وہ سب کچھ لکھ لیتے جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا تھا، اس طرح سنت محفوظ ہوجاتی اور رسول اللہ ﷺ سے امت کے آخری افراد تک پہنچنے کے درمیان صرف ایک صحابی رہ جاتا، جس نے اپنی روایت لکھ دی ہوتی۔ اور وہ تحریریں تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچ جاتیں جیسے آج بخاری اور مسلم وغیرہ کے ذریعے احادیث پہنچی ہیں۔

 

(ابن رجب کہتا ہے:) اس خبیث بات کو دیکھو! جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ امیرالمؤمنین عمر (رضی اللہ عنہ) ہی وہ تھے جنہوں نے جان بوجھ کر امت کو گمراہ کیا۔ اور یہ بات جھوٹ ہے۔

 

📚 ذیل طبقات الحنابلة

مصنف: ابن رجب حنبلی

جلد: ۴، صفحہ: ۴۱۱

 

⚠️❗ نجم الدین طوفی حنبلی نے ایک تلخ حقیقت بیان کی، لیکن ابن رجب تعصب میں آکر اس کو رد کرنے لگے اور طوفی حنبلی کو شیعہ طرف منسوب کیا، حالانکہ وہ ابن تیمیہ کا شاگرد اور اہل سنت کا متعصب عالم تھا۔ 

 

👈🏼 صرف نجم الدین طوفی ہی نہیں بلکہ اہل سنت کے دیگر علما جیسے ذہبی، حاکم اور ابن حجر نے بھی تصریح کی ہے کہ عمر نے احادیث کے تدوین کو روکا تھا۔

 

جیسا کہ امام حاکم نے مستدرک میں روایات نقل کی ہیں کہ 

 

📜 374 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ وَلِأَبِي الدَّرْدَاءِ وَلِأَبِي ذَرٍّ: «مَا هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسِبُهُ حَبَسَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَتَّى أُصِيبَ» 374 - رواه عفان وغيره عنه يعني عن شعبة

 

📃 روایت 374 سعد بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ:

حضرت عمر بن خطاب نے عبداللہ بن مسعود، ابو درداء اور ابو ذرؓ سے کہا:

"یہ کیا ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ سے اتنی زیادہ حدیث بیان کرتے ہو؟"

راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ عمر نے انہیں مدینہ ہی میں روک رکھا تھا، یہاں تک کہ (خود) وفات پا گئے۔

 

📜 375 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبُرِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَإِنْكَارُ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الصَّحَابَةِ كَثْرَةَ الرِّوَايَةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ سُنَّةٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ 375 - على شرطهما

 

📃 روایت 375 امام مالک بن انس کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن ادریس نے شُعبہ سے یہی حدیث اپنے طریق سے سنائی، اور وہ بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں۔

 

(اس پر امام دارقطنی نے فرمایا:)

"یہ حدیث صحیح ہے اور بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔ اور امیرالمؤمنین عمر کا صحابہ پر کثرتِ روایت کی وجہ سے نکیر کرنا (انہیں روکنا) ایک سنت ہے، اگرچہ بخاری و مسلم نے اسے نقل نہیں کیا۔"

 

📚 مستدرک الصحیحین ج۱ ص ۱۹۳

 

اسی طرح ذھبی نے لکھا کہ 

 

📜 معن بن عيسى أنا مالك عن عبد الله بن إدريس عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه أن عمر حبس ثلاثة: ابن مسعود وأبا الدرداء وأبا مسعود الأنصاري فقال: قد أكثرتم الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ 

 

📃 معن بن عیسی نے کہا: ہم سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ادریس سے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ:

 

حضرت عمر نے تین افراد کو روک دیا/قید کیا:

عبداللہ بن مسعود، ابو درداء اور ابو مسعود انصاری۔

 

اور کہا:

"تم نے رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ حدیثیں بیان کر دی ہیں۔"

 

تذکرة الحفاظ ج۱ ص۷

 

اسی طرح اپنی دوسری کتاب میں لکھا کہ 

 

📜 قَالَ زَيْدُ بنُ يَحْيَى: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ العَلاَءِ، قَالَ:

سَأَلْتُ القَاسِمَ أَنْ يُمْلِيَ عَلَيَّ أَحَادِيْثَ، فَمَنَعَنِي، وَقَالَ:

إِنَّ الأَحَادِيْثَ كَثُرَتْ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ، فَنَاشَدَ النَّاسَ أَنْ يَأْتُوْهُ بِهَا، فَلَمَّا أَتَوْهُ بِهَا، أَمَرَ بِتَحْرِيْقِهَا، 

 

📃 زید بن یحییٰ کہتے ہیں: ہم سے عبداللہ بن علاء نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے قاسم سے درخواست کی کہ وہ مجھے کچھ احادیث لکھوا دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا:

 

"احادیث حضرت عمر کے زمانے میں بہت زیادہ ہو گئیں تھیں۔ تو حضرت عمر نے لوگوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ سب اپنی احادیث لے کر آئیں۔ جب وہ لوگ اپنی احادیث لے آئے تو حضرت عمر نے ان سب کو جلانے کا حکم دیا

 

📚 سیر اعلام النبلاء ج۵ ص۵۹

 

اسی طرح صبحي الصالح نے لکھا کہ حضرت عمر احادیث کی کتب کو لکھنا اہل کتاب یعنی یہود و نصرانیوں کا طریقہ سمجھتے تھے

 

لکھتے ہیں کہ

 

وهذا عمر بن الخطاب لا يلبث أنْ يعدل عن كتابة السُنن بعد أنْ عزم على تدوينها. وعن عُروة بن الزبير أنَّ عمر بن الخطاب أراد أنْ يكتب السُنن، فاستشار في ذلك أصحاب رسول الله - صَلََّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فأشار عليه عامتهم بذلك فلبث عمر شهراً يستخير الله في ذلك شاكاً فيه، ثم أصبح يوماً وقد عزم الله له، فقال: «إني كنت قد ذكرت لكم من كتاب السُنن ما قد علمتم. ثم تذكرت، فإذا أناس من أهل الكتاب قبلكم، قد كتبوا مع كتاب الله كُتُباً، فأكبُّوا عليها، وتركوا كتاب الله، وإني والله لا ألْبس كتاب الله بشيء أبداً، فترك كتاب السُنن» (¬1).

 

اور یہ عمر بن خطاب ہیں کہ سنتوں کو لکھنے کا ارادہ کیا، لیکن پھر اس کو چھوڑ دیا۔

 

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب چاہتے تھے کہ سنتیں لکھیں، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے اس بارے میں مشورہ کیا، ان میں سے اکثر نے اس بات کی تائید کی۔ پھر عمر ایک مہینہ تک اس معاملے میں اللہ سے خیر مانگتے رہے اور اس پر شک و تردد کرتے رہے۔ پھر ایک دن صبح اٹھے اور فیصلہ کر لیا اور کہا:

 

"میں نے تمہیں سنتوں کو لکھنے کے بارے میں بتایا تھا جیسا کہ تم جانتے ہو۔ لیکن پھر میں نے غور کیا تو مجھے یاد آیا کہ تم سے پہلے اہلِ کتاب نے اللہ کی کتاب کے ساتھ دوسری کتابیں لکھ لیں، پھر وہ انہی پر جھک پڑے اور اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا۔ تو اللہ کی قسم! میں کبھی بھی اللہ کی کتاب کو کسی اور چیز کے ساتھ خلط ملط نہیں کروں گا۔"

 

چنانچہ عمر نے سنتوں کو لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

 

علوم الحدیث ج۱ ص۳۵

 

✅ پس حقیقت یہی ہے کہ عمر بن خطاب نے احادیث کے لکھنے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات امت تک صحیح طرح نہیں پہنچیں۔ اسی بنا پر دین میں اختلافات بڑھ گئے اور بہت سے لوگ گمراہ ہوگئے۔ دراصل عمر بن خطاب ہی وہ شخص تھے جنہوں نے حدیث کی تدوین روک کر امت کو گمراہی کی طرف دھکیلا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر حقائق لکھ کر لوگوں تک پہنچ گئے تو ان کے اور ابوبکر کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔

 

▪ اہل سنت کی تاریخ میں آیا ہے کہ عمر بن خطاب بعض صحابہ کو اذیت دیتا اور حتیٰ کہ قید بھی کرتا تھا۔

▪ روایت ہے کہ عمر نے تین افراد کو قید کر دیا: ابن مسعود، ابو درداء اور ابو مسعود انصاری کو، اور کہا: "تم رسول خدا ﷺ سے بہت زیادہ حدیث روایت کرتے ہو۔"

 

✅ حاکم نیشابوری (بزرگ اہل سنت محدث) نے تصریح کی ہے کہ عمر نے ان تین صحابہ کو اپنی زندگی بھر قید میں رکھا۔ انہوں نے روایت کی سند کو صحیح قرار دیا اور شمس الدین ذہبی نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت بخاری و مسلم کی شرائط پر ہے۔

 

📚 المستدرک علی الصحیحین للحاکم

 

📘 یہ سب اس حال میں ہے کہ اہل سنت کے علماء کا دعویٰ ہے کہ اگر کوئی کسی صحابی کو برا کہے تو وہ کافر ہے؛ تو پھر عمر، جو خود ایذا رسانی اور صحابہ کی بے عزتی کا عامل تھا، اس کا کیا حکم ہوگا؟ ↓

 

📌 خطیب بغدادی نے ابو زرعہ سے نقل کیا ہے:

 

📜 "اذا رایت الرجل ینتقض احدا من اصحاب محمد ﷺ فاعلم انه زندیق"

📃 "اگر تم دیکھو کہ کوئی شخص صحابہ میں سے کسی پر طعن کرتا ہے، تو جان لو کہ وہ کافر ہے۔"

 

📚 الکفایة فی علم الروایة، خطیب بغدادی، ج 1، ص 116

 

🔴 قرظة بن کعب (صحابی) پر عمر بن الخطاب کا منع کرنا

 

ایک مشہور واقعہ کے مطابق، عمر بن الخطاب نے قرظة بن کعب کو پیغمبر ﷺ کی احادیث نقل کرنے سے روک دیا۔ یہ واقعہ متعدد منابع میں روایت ہوا ہے۔

 

قرظة بن کعب فرماتے ہیں:

 

📜 ہم شہر سے باہر نکلے اور عمر بن الخطاب ہمیں صرار تک لے گئے۔ عمر بن الخطاب نے پانی طلب کیا، وضو کیا اور کہا:

"کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ شہر سے باہر کیوں نکلا؟"

ہم نے کہا: "اس لیے کہ آپ ہمیں اس عمل سے تعظیم دینا چاہتے تھے۔"

انہوں نے فرمایا:

"اس کے ساتھ بھی ایک اور وجہ ہے۔ تم ایک ایسے شہر جا رہے ہو جہاں کے لوگ قرآن کی تلاوت میں اس قدر مشغول ہیں کہ ان کی آواز شہد کی مکھی کی گونج جیسی ہے۔ اس لیے انہیں پیغمبر ﷺ کی احادیث سے قرآن کی طرف سے منحرف نہ کرنا۔ میں تمہارے ساتھ شریک ہوں۔"

 

نتیجہ: قرظة بن کعب فرماتے ہیں:

 

📜 "اس کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث نقل نہیں کی۔"

 

📚 ماخذ:

 

الطبقات الكبرى، ج6، ص7 – محمد بن سعد

 

شرح مشکل الآثار، ج15، ص316-317 – الطحاوی

 

جامع بیان العلم و فضله، ج2، ص998 – القرطبی

 

صحیح جامع بیان العلم و فضله، ص397 – الزهیری

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

#تبدیلی_ممنوع 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30