🔴 شیعوں کی کربلا و کوفہ و بصر میں ناکہ بندی و محاصرہ کیا گیا تاکہ امام ع کی مدد کو نہ پہنچ سکیں 🔴
شیعہ کہاں تھے ؟
شیعوں نے امام ع کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟
شیعوں نے بچایا کیوں نہیں ؟
یہ بکواس آپ نے ضرور سنی ہوگی۔
آج آپکو اس کا جواب دیتے ہیں
لیکن جواب دینے سے پہلے کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ کہ انکی اس بکواس تو کم از کم یہ تو ثابت ہوا کہ
👈🏻 الحمد اللہ امام حسین ع صرف شیعوں کے امام تھے تبھی امام حسین ع کو بچانا اور مدد کرنا انکے نزدیک صرف شیعوں کی زمہ داری تھی سنیوں کی نہیں۔
اس لئے سنی تو بری الزمہ تھے۔ کیوں کہ انکی اکثریت ایک تو خاموش تماشائی تھی دوسرا یزیدی فوج (عثمانی و سفیانی) کو اپنے اڈے فراہم کر رکھے تھے اور تیسرا یزیدی فوج کے شانہ بشانہ تھے
اب آتے ہیں جواب کی طرف ۔
یقیناً امام ع کے خالص شیعہ امام ع کی نصرت و مدد کیلئے تیار تھے ۔ جیسا کہ اس پوسٹ میں بتایا گیا کہ امام کے کربلا پہنچنے سے پہلے ہی شیعہ پر مظالم شروع کروا دئے گئے، شیعوں کو قید و قتل کیا گیا۔ (شیعہ قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود شیعہ کربلا میں پہنچے اور اپنی جان قربان کی) ۔ لنک دیکھیں 👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼
❓ اور جو مخلص شیعہ کربلا نہیں پہنچ سکے وہ کیوں نہیں پہنچ سکے ؟
اسکا جواب 👇🏼
⭕ کربلا میں امام ع عثمانیوں کے محاصرے میں تھے
📜 الامام الحسين (ع) يحاول كسر الطوق الذي يفصل بينه وبين شيعته، وهو عبارة عن سد منيع من قوات يزيد على الفرات يمنع شيعته من الوصول الى ارض المعركة
📃 امام حسین (ع) اس رکاوٹ کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے جو ان کے اور ان کے شیعوں کے درمیان حائل تھی، اور وہ رکاوٹ یزید کی فوجوں کی ایک مضبوط دیوار تھی جو فرات پر کھڑی کی گئی تھی تاکہ ان کے شیعوں کو میدانِ جنگ تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
📚 تاریخ طبری، جلد پنجم، صفحہ 449-450
⭕ شیعوں کا بصرہ میں محاصرہ اور ان پر راستے بند کرنا۔
📜 ابن زياد يبلغ عاملة في البصرة ان يضع المناظر و يأخذ بالطرق
📃 ابن زیاد نے اپنے کارندے کو بصرہ میں حکم دیا کہ نگرانی کے لیے جاسوس مقرر کرے اور راستوں پر پہرے بٹھائے۔
📚 تاریخ طبری، جلد پنجم، صفحہ 253،254
⭕ شام و بصرہ کے خارجی و داخلی راستے بند کرکے شیعوں کو روکا گیا
📜 وحدثنا سعدويه ، ثنا عباد بن العوام ، حدثني حضين ، حدثني هلال بن إساف قال : أمر زياد فأخذ ما بين واقصة إلى طريق الشام إلى طريق البصرة فلا يترك أحد يلج ولا يخرج ،
📃 سعدویہ نے ہمیں حدیث بیان کی، عباد بن عوام نے ہمیں حدیث بیان کی، مجھ سے حضین نے حدیث بیان کی، انہوں نے ہلال بن اساف سے روایت کی کہ:
زیاد نے حکم دیا کہ واقصہ سے لے کر شام کے راستے اور بصرہ کے راستے تک (تمام علاقے) کو گھیر لیا جائے، اور کسی کو داخل ہونے یا نکلنے نہ دیا جائے۔
📚 انساب الاشرف ، جلد 3 ، صفحہ 383
⭕ کوفہ کا بھی محاصرہ کیا گیا
📜 ووضع ابن زياد المناظر على الكوفة لئلا يجوز أحد من العسكر مخافة لأن يلحق الحسين مغيثاً له ، ورتب المسالح حولها وجعل على حرس الكوفة والعسكر زحر بن قيس الجعفي ، ورتب بينه وبين عسكر عمر بن سعد خيلاً مضمرة مقدحة فكان خبر ما قبله يأتيه في كل وقت
📃 ابن زیاد نے کوفہ کے ارد گرد جاسوس مقرر کر دیے تاکہ کوئی بھی فوجی شہر سے نہ نکل سکے، اس خوف سے کہ کہیں کوئی حسین (ع) کی مدد کو نہ پہنچ جائے۔
اس نے کوفہ کے گرد پہرے دار بھی تعینات کیے، اور کوفہ اور فوج کی نگرانی کے لیے زُحر بن قیس جعفی کو مقرر کیا۔
نیز اس نے اپنے اور عمر بن سعد کی فوج کے درمیان تیز رفتار، مستعد گھڑسواروں کا گشت مقرر کر دیا، تاکہ ہر وقت اسے وہاں کی خبریں پہنچتی رہیں۔
📚 انساب الاشرف ، جلد 3 ، صفحہ 388
⭕ کوفہ کا محاصرہ اور اس کے اطراف کی سخت نگرانی،
حتیٰ کہ کوئی بھی شخص جو شیعہ ہونے کے سبب پہچانا جاتا ہو، امام حسین (ع) تک نہ پہنچ سکے۔
📜 قال ابن سعد: «وجعل الرجل والرجلان والثلاثة يتسللون إلى حسين من الكوفة، فبلغ ذلك عبيد الله، فخرج فعسكر بالنخيلة، واستعمل على الكوفة عمرو بن حريث، وأخذ الناس بالخروج إلى النخيلة، وضَبَط الجسر فلم يترك أحداً يجوزه.
📃 ابن سعد نے کہا: "کوفہ سے ایک، دو یا تین افراد چھپ کر امام حسین (ع) کے پاس جانے لگے،
یہ خبر عبید اللہ (ابن زیاد) تک پہنچی،
تو وہ نکلا اور نخیلہ میں لشکر لے کر ڈیرے ڈال دیے،
اور کوفہ کی نگرانی کے لیے عمرو بن حریث کو مقرر کیا،
لوگوں کو نخیلہ کی طرف نکلنے پر مجبور کیا،
اور پل کی سخت نگرانی کی،
کسی کو پل عبور کرنے کی اجازت نہ دی۔"
📚 الطبقات کربلا ج1 ص466
⭕ شیعوں کا محاصرہ اور راستوں کی بندش کے بعد، ابن مرجانہ (ابن زیاد) اس بات پر مطمئن ہو گیا کہ اہل عراق امام حسین (ع) تک کربلا نہیں پہنچ سکیں گے۔
📜 عن عبد الملك قال سألت أبا عبد الله (ع) عن صوم تاسوعا وعاشورا من شهر المحرم فقال: تاسوعا يوم حوصر فيه الحسين (ع) وأصحابه رضي الله عنهم بكربلا واجتمع عليه خيل أهل الشام وأناخوا عليه وفرح ابن مرجانة وعمر بن سعد بتوافر الخيل وكثرتها واستضعفوا فيه الحسين صلوات الله عليه وأصحابه رضي الله عنهم وأيقنوا أن لا يأتي الحسين (عليه السلام) ناصر ولا يمده أهل العراق - بابي المستضعف الغريب - .............
عبد الملک سے روایت ہے کہ
میں نے امام جعفر صادق (ع) سے ماہ محرم کی تاسوعا اور عاشورا کے روزے کے بارے میں پوچھا، تو آپ (ع) نے فرمایا:
تاسوعا وہ دن ہے 👈🏻 جب امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب (رضی اللہ عنہم) کو کربلا میں گھیر لیا گیا 👉🏻، اور شام کے لشکر نے ان پر چڑھائی کی، ان کے ارد گرد خیمہ زن ہو گئے، اور ابن مرجانہ (ابن زیاد) اور عمر بن سعد گھڑ سواروں کی کثرت اور جمعیت پر خوش ہوئے۔
اس دن امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب (رضی اللہ عنہم) کو کمزور سمجھا گیا اور ان 👈🏻 ظالموں کو یقین ہو گیا کہ اب امام حسین (ع) کا کوئی مددگار نہیں آئے گا اور نہ ہی اہل عراق ان کی مدد کو پہنچیں گے 👉🏻
(امام نے فرمایا:) بابی المستضعف الغریب .........
📚 فروع الکافی
یعنی شیعہ جو معاویہ کے دور سے کوفہ و مختلف شہروں میں قتل و قید ہو رہے تھے ۔ شیعہ محاصرے و سختی اور قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود کربلا میں پہنچے اور اپنی جان قربان کی
🔴 کوفہ کے عوام کا رویہ:
ایک شخص بیان کرتا ہے کہ جب امام حسین (ع) کے اہلِ خانہ کو کوفہ لایا گیا،
"پھر حکم دیا گیا کہ امام زین العابدین (ع) کو زنجیروں میں جکڑ دیا جائے، اور خواتین و اسیران کے ساتھ قید خانے لے جایا جائے۔
میں بھی ان کے ساتھ تھا۔
جب ہم کسی گلی سے گزرتے تو دیکھتے کہ گلی مردوں اور عورتوں سے بھری ہوئی ہے،
جو اپنے چہروں پر طمانچے مار رہے تھے اور رو رہے تھے۔
👈🏻 پھر ہمیں قید خانے میں بند کر دیا گیا اور دروازے بند کر دیے گئے۔"
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کربلا کے سے پہلے اور بعد کوفہ محصور تھا
اور وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔
📚 امالی صدوق
لیں جناب شیعہ تو سخت محاصرے و ناکہ بندی پر تھے عثمانیوؓں و سفیانیوں کی۔
اب ہمیں بتایا جائے سنی کہاں تھے ؟
سنیوں نے مدد کیوں نہیں کی ؟
سنیوں نے امام ع کو بچایا کیوں نہیں؟
#تعلیمات_اہلبیتؑ #بدر_علی #التماس_دعا #تبدیلی_ممنوع #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam
Gallery
Tap any image to view full screen