کیا شمر مولا عباس ع کا موموں تھا؟
جس ناسبی کو دیکھو وہی منہ اٹھا کر بكنا شروع کر دیتا ہے کہ
❌ شمر مولا عباس ع کا موموں تھا۔
اور یہ بکواس انکے بڑے محکک بھی شیعوں کو طنز اور ٹھاٹے مار کر کرتے رهتے ہیں کہ صرف کسی طرح شیعوں کو نیچا دیکھا دیں۔ یہ صرف بغض اہل بیت ہے اور کچھ نہیں ۔
جبکہ ہم نے انکی کتب سے ثابت کیا کہ
👈🏻 شمر صحابی کا بیٹا تھا
👈🏻 شمر اہل سنت علماء کے پیچھے نماز پڑھتا تھا
👈🏻شمر سے اہل سنت کتب میں روایات نقل ہوئی ہیں
لنک ملاحظہ کیجئے 👇🏼
اب آپکو انکی اپنی کتب سے دکھاتے ہیں کہ
✅ شمر مولا عباس کے ماموں نہیں تھا
▪️مولا عباس کی والدہ حضرت ام البنین (فاطمہ کلابیہ) کا نسب یہ ہے:
📜 ام البنین بنت حزام بن خالد بن ربیعہ بن الوحید من بنی کلاب
📚جمہرہ انساب العرب ج1
📚 تاریخ طبری
▪️جبکہ شمر کا نسب یہ ہے:
📜 شمر بن ذی الجوشن الضبابی بن شرحبیل بن الاعور بن عمر بن معاویہ و هو الضباب بن کلاب
📚الطبقات الکبری ج6 ص46
📚 اسد الغابة فی معرفة صحابة
▪️دونوں افراد پانچ نسلوں سے زیادہ یعنی ایک شخص "کلاب" میں ملتے ہیں، اور دونوں کلابی ہیں، یعنی ایک ہی قبیلے سے ہیں، لیکن حضرت ام البنین اور شمر ملعون بہن بھائی نہیں ہیں۔
📑 بدر علی
بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam
۔
اس شبہ کا جواب شیخ محمد ہاشم خراسانی کی زبانی:
✍️ جان لو کہ عرب کا رواج یہ ہے کہ اپنی قبیلے کی عورتوں کو "بہن" کہہ کر پکارا کرتے ہیں۔
چونکہ حضرت اُمّ البنین قبیلہ بنی کلاب سے تھیں، اور شمر ▪️ بھی اسی قبیلے کا فرد تھا، اسی لیے اس نے "بنو اختی" (یعنی میرے بہن کے بیٹے) کا لفظ استعمال کیا تھا۔
📕 کتاب: [چاپ سنگی] منتخب التواریخ (حوادثِ اہم متعلقہ حضرت خاتم النبیین، سیدہ نساء العالمین، اور آئمہ اطہار علیہم السلام)
تالیف: حاج محمد ہاشم بن محمد علی خراسانی (1242-1312 ہجری)
صفحہ: 186
اشاعت: مطبعہ علمی، طہران، 1350 ق = 1310 ش
کتب خانہ مجلس کا ریکارڈ نمبر: IR 11-1343
Gallery
Tap any image to view full screen