❌👊 مولا علی علیہ السلام کی صریح اور واضح لعنت عمر بن خطاب پر ❌❌
🔴 امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
"خدا کی لعنت ہو ابنِ خطاب پر! اگر وہ نہ ہوتا تو کوئی بھی زنا کا مرتکب نہ ہوتا، سوائے کسی بدبخت مرد یا عورت کے؛ کیونکہ مسلمانوں کے لیے متعہ (عارضی نکاح) زنا سے بچنے کا ذریعہ تھا۔"
📙 بحارالانوار، جلد ۵۳، صفحہ ۲۲، طبع مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات
۔
❌🚫 عمر بن صہاک فتنہ و فساد کا سرچشمہ اور ابوبکر کی فتنہ گری میں شریک ✖️✖️
🔻 ابوبکر کی خلافت، عمر بن صہاک کا فتنہ 🔺
🔖✏️🖍 علامہ مجلسیؒ اپنی عظیم کتاب میں اس طرح فرماتے ہیں: 👇👇👇
✔️✔️ دوسرا مطلب:
یہ بیان ہے عمر — جو کہ اہل سنت کا دوسرا خلیفہ ہے — کے بدعات، برے اعمال اور قبیح افعال میں سے کچھ کا ذکر۔
♻️✅ جان لو کہ اس فتنہ کے سرچشمہ کے عیوب اور برائیاں اتنی زیادہ ہیں کہ انہیں بڑی بڑی کتابوں میں بھی شمار نہیں کیا جا سکتا، چہ جائیکہ اس مختصر رسالے میں بیان ہوں۔
اور وہ تمام برائیوں اور عیوب میں ابوبکر کا شریک تھا، بلکہ ابوبکر کی خلافت تو اس کے فتنوں کی ایک شاخ تھی۔
📘📕 کتاب کا نام: حق الیقین
مصنف: علامہ مجلسی
جلد: 1
صفحہ: 219
۔
امام صادق علیہ السلام کا ردِ عمل جب عمر بن خطاب اور منصور دوانیقی کا نام سنا گیا
🔹 شیخ الفقہاء ابو الصلاح حلبی رضوان اللہ علیہ، جو شیعہ کے بڑے عالم تھے، نے روایت کی:
✍ اور انہوں نے اسماعیل بن یسار سے، اور دوسرے سے، اور جعفر بن محمد سے روایت کی کہ:
> "جب عمر کا ذکر ہوتا تو وہ کہتے: 'یہ زنا//زادہ ہے'، اور جب ابو جعفر (منصور دوانیقی) کا ذکر ہوتا تو وہ بھی کہتے: 'یہ زنا///زادہ ہے'۔"
📚 حوالہ: تقریب المعارف، تصنیف ابو الصلاح حلبی، صفحہ ۲۴۸
۔
ایک دن ہم بھی براءت کے ساتھ مولا کے خوانِ نعمت کے مہمان ہوں گے۔
🔵 مولا امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) نے فرمایا:
👈 لعنت ہے خدا کی عمر ابن خطاب پر 👈
اور خدا گواہ ہے اس کے دل کی خباثت پر؛
👈 وہ ایک درندہ صفت، حق سے لڑنے والا اور کینہ پرور دشمن ہے؛
👈 اگر اس کی حکومت پھیل جاتی، تو زمین والوں کو فساد میں مبتلا کر دیتا؛
👈 لوگوں کی دنیا و آخرت، ان کی نسلوں اور خاندانوں کو تباہ کر دیتا؛
👈 جب کہ قرآن کے مطابق خدا فساد اور فحاشی کو پسند نہیں کرتا۔
مآخذ:
کشف الحق، ص ۱۲۵
بحارالانوار، ج ۵۳، ص ۳۱
بحارالانوار، ج ۱۰۰، ص ۳۰۵
الزام الناصب، ج ۲، ص ۲۲۸
ریاض الابرار، ج ۳، ص ۲۳۵
منابع فقه شیعة، ج ۲۶، ص ۸۴
الحدائق الناظرة، ج ۲۴، ص ۱۱۷
مستدرک الوسائل، ج ۱۴، ص ۴۷۸
Gallery
Tap any image to view full screen