خلیفہ دوم صحاب کو اسلام سے کم اور یہودیت سے زیادہ محبت تھی
کتب در اہلسنت
عبداللہ بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“عمر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ‘اے اللہ کے رسول ﷺ! میں قریظہ (یہودی قبیلے) کے ایک شخص کے پاس سے گزرا، اُس نے میرے لیے تورات کے بعض خلاصے لکھ دیے ہیں۔ کیا میں وہ آپ ﷺ کو نہ دکھاؤں؟’
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک کا رنگ بدل گیا عبداللہ بن ثابتؓ نے کہا کیا تم رسول اللہ ﷺ کے چہرے کی کیفیت نہیں دیکھ رہے؟
تب عمرؓ نے کہا ہم اللہ کو اپنا رب ماننے پر راضی ہیں اسلام کو اپنا دین اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے پر خوش ہیں
اس پر نبی ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا
قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہےباگر موسیٰؑ آج صبح تمہارے درمیان آ جاتے اور تم مجھے چھوڑ کر اُن کی پیروی کرتے، تو یقیناً گمراہ ہو جاتے تم امتوں میں میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں تمہارا حصہ ہوں
حاشیہ: یہ حدیث صحیح (مستند) ہے
ماخذ: Musnad Ahmad ibn Hanbalجلد 14، حدیث نمبر 18251، صفحہ 142:)
Gallery
Tap any image to view full screen