Back to حضرت عمر

حضرت عمر درنگاہ رسول ﷺ

حضرت عمر درنگاہ رسول ﷺ

عمر بن خطاب در نگاھ رسول الله

 

ماجراي سقيفه میں عمربن خطاب نے أبوبکر کے لیے بیعت لینے کے لیے مدینہ کے لوگوں کو جتنا ڈرایا دھمکایا وہ کتب اھلسنت میں موجود ہے بلکہ اھلسنت کی کتاب صحیح البخاری میں روایت ہے (صحیح البخاری وہ کتاب ہے جس کی ایک بھی روایت ضعیف نہیں بلکہ سب صحیح ہیں، بخاری کو بعد از قرآن صحیح الکتاب کا درجہ ملا ھوا ہے)-

 

لقد خَوَّفَ عُمَرُ الناس وَإِنَّ فِيهِمْ لَنِفَاقًا 

 

عمر نے مدینه کے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا اور لوگوں کے درمیاں نفاق ڈالا.

 

نوٹ:اھلسنت کے کچھ ترجمه نگار جاھلوں نے بخاری کی اس روایت میں 👈🏻فیہم لنفاقاً کا ترجمه بعض منافقین کیا ہے ، جس کو صحیح کہا جائے تب بھی اھلسنت کا نقصان ہے اور اگر غلط کہا جائے تب بھی اھلسنت کا ہی نقصان ہے لٰکن بعض منافق ترجمه غلط ہے👉🏻

 

حوالہ: [صحيح البخاري، ج 3، ص 1341،‌ ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت[

 

 اب اس مسئلے کو لیکر دیکھتے ہیں کہ رسول الله ص نے کیا فرمایا ہے؟

 رسول الله 👈🏻جو بھی مدینه میں اپنا خوف،وحشت و رعب ایجاد کرے اس پر لعنت ہے!

 

▪️▫️ قال يزيد بن الهاد، عن أبي بكر بن المنكدر، عن عطاء بن يسار، عن السائب بن خلاد، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من أخاف أهل المدينة أخافه الله، وعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين.

 

 سائب بن خلاد کھتا ہے: رسول خدا سے سنا کہ فرمایا: جو بھی مدينه کے لوگوں کو ڈرائے گا، خدا اسے ڈرائے گا، اس پر تمام انس و ملك اور خدا کی لعنت ہے. 

 

حوالہ: [ تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 5، ص 26، ناشر: دار الكتاب العربي]

 

عمر بن خطاب = مدینه میں اپنی وحشت (خوف) پیدا کرنے والاـ

 

 رسول الله = جو مدینه میں اپنی وحشت (خوف) پیدا کرے ملعون ہے

 

نوٹ: ہم نے یہاں پر جو کچھ نقل کیا ہے وہ کتب اھلسنت سے نقل کیا ہے اپنی طرف سے کچھ بہی نقل نہیں کیا ہے

 

🖌🖍 تحفظ عقائد تشیع

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1