حدیث اس طرح ہے :
أخبرنا أبو غالب بن البنا ، أنا أبو محمد الجوهري ، أنا أبو الحسن الدارقطني ، نا أبو عبيد القاسم بن إسماعيل بن المحاملي ، نا أحمد بن داود بن يزيد بن ماهان أبو يزيد السختياني ، نا يحيى بن أحمد الكوفي ، لقيته ببلخ ، أنا شريك ، عن منصور ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، عن عثمان ، قال : هبط جبريل على النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : " يا جبريل ، أخبرني بفضائل عمر في السماء ، قال : لو مكثت ما مكث نوح في قومه ألف سنة إلا خمسين عاما ما استطعت أن أصف فضائل عمر في السماء ، وإن عمر حسنة من حسنات أبي بكر "
حدیث کا متن : جناب عثمان سے روایت ہے کہ ایک بار جبرائل علیہ السلام نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے جبرائل : عمر بن خطاب کے فضائل سنا مجھے جو آسمانوں میں بیان کئے گئے ہیں۔ تو جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ اگر میں اتنی دیر تک عمر کے فضائل بیان کرتا رہوں جتنی دیر تک نبی نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی اصلاح کی تھی تب بھی میں عمر کے تمام فضائل بیان نہیں کر سکھتا اور یہ عمر ابوبکر کی نیکیوں میں سے ایک ایک نیکی ہے۔
جواب :
اسکی سند حسن نہیں بلکہ ضعیف ہے کیونکہ :
۱ - يحيى بن أحمد الكوفي انکا پورا نام : أحمد بن يحيى بن زيد بن كيسان ہے۔ یہ مجہول ہے ، اسکی کوئی توثیق ھمیں کسی کتب الرجال میں نہیں ملی
۲ - شریک سے یہاں مراد شریک بن عبداللہ القاضی ہے جو حسن الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ ، کثیر الخطا ، مدلس اور آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوا تھا۔ یہاں وہ صیغہ " عن " سے روایت کر رہا ہے۔ اصول الحدیث ہے کہ جب مدلس راوی سماع کی تصریح کے بغیر نقل کرے تو وہ قابل احتجاج نہیں ہوتی۔ اور جب یہ کوفہ میں قاضی مقرر ہوئے تھے تو انکا حافظہ بھی کمزور ہوا تھا لہذا یہ معلوم نہیں کہ انکے شاگرد نے یہ روایت اختلاط سے پہلے سنی یا بعد میں۔
نوٹ : تدلیس کی جرح اس وجہ سے نقل کی کیونکہ کچھ لوگ ہر مدلس کی معنن روایت کو رد کرتے ہیں ۔ اگر کوئی کہے کہ شریک طبقہ ثانیہ کا مدلس ہے جنکی روایت کچھ علماء کے یہاں مقبول ہے تو عرض ہے کہ اختلاط کی جرح پھر بھی باقی رہتی ہے۔
اس روایت کے اور شواھد ہے مثلاً عمار بن یاسر ، ابی سعید الخدری سے لیکن وہ سب موضوع ہے اور محدثین نے صراحت کے ساتھ انکو موضوع قرار دیا ہے۔
لہذا ثابت ہوا کہ یہ سند ضعیف ہے بلکہ اجمالی طور پر روایت موضوع ہے جیسا کہ محدثین نے اسکے باقی طرق پر وضع کا حکم لگایا ہے
والسلام ۔
ذولفقار المشرقی
Gallery
Tap any image to view full screen