Back to حضرت عمر

حضرت عمر سے شیطان ڈرتا ہے؟

حضرت عمر سے شیطان ڈرتا ہے؟
کتب ِاہلسنت میں یہ {جھوٹی} روایت آئی ہے جس میں سے ایک سنن ترمذی ہے ترمذی لکھتے ہیں:
جناب رسول اکرم [ص] کسی غزوہ کے لئے تشریف لیجانے کے بعد لوٹتے ہیں تو ایک سیاہ عورت رسول اکرم [ص]سے کہتی ہے میں نے نذر کی تھی کہ آپ اگر فاتح [بعض روایت میں سالم ہے یعنی صحیح و سالم ] لوٹ آئے تو میں آپ کے سامنے دف بجاونگی اور گانا گاونگی { غناء کرونگی}
آپ نے {معاذ اللہ: مترجم}کہا اگر نذر کی ہے تو انجام دو ورنہ چھوڑ دو ۔ پس وہ عورت نے دف بجانا شروع کیا اتنے میں ابوبکر آتے ہیں [اور محفل میں شامل ہوجاتے ہیں] اور وہ خاتون اپنا کام جاری رکھتی ہے[معاذ اللہ :مترجم ] علی[ع] آتے ہیں اور وہ عورت اپنا کام جاری رکھتی ہے ۔
عثمان آتے ہیں اور وہ خاتون اپنا کام جاری رکھتی ہے ۔ لیکن جب عمر داخل ہوتے ہیں تو وہ عورت دف کو اپنے رانوں کے نیچے رکھ کر اس پر بیٹھ جاتی ہے تب رسول اکرم [ص]فرماتے ہیں {معاذاللہ مترجم }اے عمر تم سے شیطان ڈرتا ہے
متن
حدثنا الحسين بن حريث حدثنا علي بن الحسين بن واقد حدثني أبي حدثني عبد الله بن بريدة قال سمعت بريدة يقول :
خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض مغازيه فلما انصرف جاءت جارية سوداء فقالت يا رسول الله إني كنت نذرت إن ردك الله صالحا أن أضرب بين يديك بالدف وأتغنى فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم إن كنت نذرت فاضربي وإلا فلا فجعلت تضرب فدخل أبو بكر وهي تضرب ثم دخل علي وهي تضرب ثم دخل عثمان وهي تضرب ثم دخل عمر فألقت الدف تحت استها ثم قعدت عليه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الشيطان ليخاف منك يا عمر إني كنت جالسا وهي تضرب فدخل أبو بكر وهي تضرب ثم دخل علي وهي تضرب ثم دخل عثمان وهي تضرب فلما دخلت أنت يا عمر ألقت الدف
قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث بريدة
وفي الباب عن عمر و سعد بن أبي وقاص و عائشة
قال الشيخ الألباني : صحيح
حوالہ
سنن الترمذي ج 5 ص 620
المؤلف : محمد بن عيسى أبو عيسى الترمذي السلمي
الناشر : دار إحياء التراث العربي - بيروت
تحقيق : أحمد محمد شاكر
شاید کوئی اعتراض کرے کہ رسول اکرم[ ص] کے سامنے صرف دف بجائی گئی ہے ناکہ غناء ہوا ہے
جواب :
اول :روایت میں نذر دو چیز کی گئی ہے دف اور گانا
دوم : ملا علی قاری جو اہل سنت کے مشہور عالم ہیں وہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
وفي قولها واتغنى دليل على أن سماع صوت المرأة بالغناء مباح
اس عورت کے قول "واتغنى " اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کی گانے کی آواز سننا جائز ہے
.........
ملا علی قاری مزید لکھتے ہیں
إن الشيطان ليخاف منك يا عمر يريد به تلك المرأة السوداء لأنها شيطان الإنس وتفعل فعل الشيطان
یہ فرمانا کہ " عمر تم سے شیطان ڈرتا ہے اس سے مراد حضرت کی سیاہ عورت مراد ہے اس لئے کہ یہ عورت شیطان انس ہے اور شیطان کا عمل انجام دے رہی ہے
--------------
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ج 17 ص 357
المؤلف : الملا على القاري
:
اول : کیا ناصبی حضرات کو پسند ہے کہ رسول اکرم ص ابوبکر ،عثمان ، علی [ع] کی توہین کی جائے اور عمر کی فضیلت بڑائی جائے؟
دوم : گناہ کی نذر قابل قبول ہے ؟
سوم : کیا نبی اکرم ص کو زیب دیتا ہے کہ وہ کسی نا محرم خاتون کے سامنے رہے اور وہ دف اور غناء کرے ؟
چہارم : شیطانی فعل عمر کو تو قابل قبول نہ لیکن رسول اکرم اور دیگر کبار اصحاب کے لئے کوئی مسئلہ نہ ہو؟
پنجم : ملا علی قاری کا ایک صحابیہ کو شیطان کہنا توہین اصحاب نہیں ہے ؟
ششم : ڈوب مرو؟
 
۔
 
۔
 
۔
 
شیطان
 
حضرت ابوھریرہ سے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے کہ آپ نے ایک نماز پڑھی اس کے بعد فرمایا کے شیطان میرے سامنے آیا اس نے میری نماز توڑنے کے لیے زور لگایا لیکن اللہ تعالی نے اس کو میرے قابو میں کردیا 
 
تیسیرالباری شرح بخاری پارہ 5 ص 211
 
ابن عباس کہتے ھیں کہ جب آںحضرتﷺ خدا کا کوئی حکم بیان کرتے تو شیطان اس میں اپنی بات بھی ڈال دیتا تھا تب خدا یہ کرتا کہ شیطان کی ملائی ھوئی کی باتوں کو باطل کردیتا اور اپنی آیتوں کو محکم کردیتا
 
تیسیرالباری شرح بخاری پارہ 19
 
حضرت عمر سے شیطان بھی ڈرتا تھا
 
ﺣﻀﺮﺕ ﺑﺮﯾﺪﮦ ﺭﺿﯽ اللہ ﻋﻨﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﺴﯽ ﺟﮩﺎﺩ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺎﮦ ﻓﺎﻡ ﺑﺎﻧﺪﯼ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﷲ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺬﺭ ﻣﺎﻧﯽﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﷲ ﻋﻠﯿﮏ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﺳﻼﻣﺖ ﻭﺍﭘﺲ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﷲ ﻋﻠﯿﮏ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺩﻑ ﺑﺠﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻧﺎ ﮔﺎﺅﮞ ﮔﯽ۔ﺁﭖ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻧﺬﺭ ﻣﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﺠﺎ ﻟﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻑ ﺑﺠﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ اللہ ﻋﻨﮧ ﺁ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﺑﺠﺎﺗﯽ ﺭﮨﯽﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ اللہ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ اللہ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺩﻑ ﺑﺠﺎﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ اللہ ﻋﻨﮧ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﻑ ﮐﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﺭکھ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ بیٹھﮔﺌﯽ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮮ ﻋﻤﺮ ! ﺗﻢ ﺳﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﻑ ﺑﺠﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.ﭘﮭﺮ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ, ﻋﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺜﻤﺎﻥ رضی اللہ عنہما ‏ﯾﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﯾﮕﺮﮮ ‏ ﺁﺋﮯ۔ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺠﺎﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻑ ﺑﺠﺎﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
 ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺗﺮﻣﺬﯼ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺣﺴﻦ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ۔
 
ان حدیثوں کا موازانہ خود کریں کہ کون افضل ھے
.