ابو لولو فیروز
ابو لولو فیروز نے خلیفہ دوم عمر ابن الخطاب کو قتل کیا۔ اس چیز کو نا۔۔۔صبی حضرات آج ایران اور اہل تشیع کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انکا زہریلا پروپیگنڈہ یہ ہوتا ہے کہ عجمی اہل ایران ہمیشہ سے عربوں اور اسلام کے خلاف رہے ہیں اور انہوں نے اس لیے عمر ابن الخطاب کو قتل کیا اور آج کے اہل ایران (شیعہ) بھی اس لیے منافق ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ بذات خود متعصب ہیں۔ اس لیے انہوں نے نہ صرف ابو لولو فیروز بلکہ اسکی کی چار سالہ مسلمان بچی کو بھی قتل کر ڈالا۔
اسی لیے انہوں نے تاریخی حقائق کو بھی مسخ کرنا چاہا اور اس لیے انکے تاریخی مواد میں بہت تضاد پیدا ہو گیا۔ انکے خیال میں عمر ابن الخطاب تو مسلمانوں میں بہت مقبول تھے، لہذا اگر یہ مان لیتے کہ عمر ابن الخطاب کو کسی مسلمان نے قتل کیا ہے تو پھر انہیں وہ وجہ بھی بیان کرنا پڑتی کہ کیوں ایک مسلمان عمر ابن خطاب کے ظلم کے خلاف ہو گیا اور حتی کہ انہیں قتل کر دیا۔
چنانچہ عمر ابن خطاب کے ظلم کو چھپانے کے لیے بھی ابو لولو فیروز کو غیر مسلم بنانا ضروری تھا تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ قتل عمر ابن خطاب کے کسی ظالمانہ فیصلے کی وجہ سے نہیں بلکہ عجمی تعصب کی وجہ سے ہوا ہے۔
ذیل کی تحقیق کا مقصد ان تعصب زدہ مسخ شدہ حقائق کو اصل حالت میں پیش کرنا ہے تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آ سکے اور وہ حقائق بھی سامنے آئیں جو یہ لوگ چھپاتے ہیں اور بیان نہیں کرتے۔
ہمیں اس سلسلے میں بے شمار متضاد روایتوں سے واسطہ پڑا۔
جن میں تاریخ طبری میں ابو لولو فیروز کو نصرانی کہا گیا
جبکہ کچھ جگہ اسے کافر کہا گیا
جبکہ طبقات ابنِ سعد، الفاروق اور تاریخ ابنِ خلدون میں اسے مجوسی لکھا گیا ہے۔
جبکہ صاحبِ عیون الاخبار اپنی کتاب کی جلد ج۲ص۱۴۳ به نقل از کتاب فصل الخطاب فی تاریخ قتل عمر بن خطاب ص ۱۷۸ میں کچھ اس طرح نقل کرتے ہیں۔
“انه قد تشرف بالاسلام بعد سکناه المدینه“
یعنی وہ مدینہ میں سکونت کے بعد مشرف بہ اسلام ہو گئے تھے
اس بات کو تقویت کچھ ان متضاد قسم کے واقعات سے بھی ملتی ہے۔
اول:۔
کہ عمر کو ابولولو کے خنجر کا نشانہ بنانے سے متعلق ابن سعد اپنی طبقات میں دو مختلف باتیں درج کرتا ہے۔
1:۔ عمر ابن الخطاب لوگوں کو نماز کے لئے جگا رہے تھے اور ابولولو مسجد میں ایک کونے میں چھپا بیٹھا تھا جب عمر وہاں پہنچے تو اس نے ان پر حملہ کر دیا۔
2:۔ ابو لولو مسجد نبوی میں پہلی صف میں عمر ابن خطاب کے ساتھ کھڑا تھا جب عمر ابن الخطاب نے تکبیر کہی تو اس نے تو اس نے ان پر خنجر سے حملہ کر دیا۔
اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ ابولولو نے اسلام قبول کر لیا تھا تبھی وہ مسجد نبوی میں نماز کے وقت پہلی صف میں موجود تھا۔
دوئم:۔
ابولولو سے متعلق اسلام کا دعویٰ نہ رکھنے سے متعلق صرف دو لوگوں نے دعویٰ کیا ایک حضرت عمر کہ جنہیں زخمی کیا گیا اور دوسرے حضرت ابن عباس نے
مگر ہمیں ابنِ عباس کا دعوی کہیں درست نظر نہیں آیا
بلکہ یہ صاحبِ کتاب نے بریکٹ (قوسین) میں لکھا کہ ابنِ عباس نے کہا مجوسی ابولولو نے آپ پر حملہ کیا۔
جبکہ ابولولو سے متعلق ایسا دعویٰ مغیرہ بن شعبہ کہ جس کا یہ غلام تھا اس نے بھی نہیں کیا حالانکہ وہ حضرت علی علیہ اسلام کا سخت دشمن اور عمر ابن خطاب کو دوست رکھنے والوں میں سے تھا۔
اور مزے کی بات کہ ابن سعد لکھتا ہے کہ “عمرو بن میمون“ روایت کرتے ہیں کہ
مغیرہ کے غلام ابولولو نے مسجد نبوی میں عین نماز کی جماعت کھڑے ہونے کے وقت عمر ابن الخطاب کو روکا اور وہ مسجد نبوی میں کھڑی ہونے والی جماعت کی صف اول میں کھڑا تھا اور اُس نے باقاعدہ عمر ابن الخطاب کے کان میں کچھ کہا اور صرف اسکے بعد خنجر مارے۔
مگر اس کے باوجود عمر ابن خطاب کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ قاتل کون ہے اور وہ زخمی ہونے کے بعد پچھواتے ہیں کہ کس نے ان پر حملہ کیا۔
یعنی پچھلی صف میں کھڑے عمرو بن میمون نے تو پہچان لیا مگر جس کے کان میں کچھ کہا اسے پتہ ہی نہیں اور وہ ابن عباس کو تصدیق کے لئے بھیج رہے ہیں۔
عجیب تضاد ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ابو لولو فیروز کو غیر مسلم بنانے کے لیے یہ دیگر روایتیں گھڑی گئیں۔
سوئم:۔
تاریخ میں ملتا ہے کہ حضرت عمر نے مدینہ میں بالغ قیدیوں کا داخلہ منع فرمایا تھا
جبکہ ابولولو کو مغیرہ بن شعبہ کی سفارش پر رہنے دیا گیا۔
جبکہ ابنِ سعد اپنی طبقات میں لکھتا ہے کہ جب ابولولو نے عمر پر حملہ کیا تو عبیداللہ بن عمر کو کسی نے خبر دی کہ اس سازش میں دو اور عجمی شریک ہیں جن میں سے ایک ہرمزان، اور دوسرا جفینہ جن کو عبیداللہ بن عمر نے قتل کر دیا۔ اور اس کے علاوہ ابولولو کی ایک چھوٹی مسلمان بیٹی کو بھی قتل کیا۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ ہرمزان اور ابولولو کی بیٹی دونوں نے اسلام لانے کا دعویٰ کیا بلکہ ہرمزان نے تو مرتے وقت کلمہ بھی پڑھا اور یہ ہرمزان حضرت علی (ع) کو خاص دوست رکھتا تھا۔ اور یہ وہی ہرمزان ہے جو ابولولو کے ساتھ ہی قید ہو کر مدینے آیا تھا۔
اور پھر مدینے میں یہی عجمی نہیں تھے بلکہ ابن سعد مزید لکھتا ہے کہ
عبیداللہ بن عمر اس دن اتنے غصے میں تھے کہ اپنی تلوار سے عجمیوں کو دھکیلتے تھے اور انہیں قید کر کے چھٹکارا حاصل کیا گیا۔ یعنی مدینے میں اس وقت پابندی کے باوجود کئی عجمی قیدی موجود تھے۔ اور پھر ابولولو کی بیٹی اور ساتھی کا اسلام کا دعویٰ کرنا بھی اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ ابولولو نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔
ابولولو کی یہ بیٹی جب قتل ہوئی تو اس کی عمر 4 سال کے قریب تھی یعنی وہ سنِ بلوغت کو بھی نہیں پہنچی تھی ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ از خود اسلام کا اعلان کر دے؟
بلکہ لازمی بات ہے کہ اس کے باپ نے اسلام قبول کیا تبھی بیٹی نے بھی مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا۔
اور بعد میں حضرت علی (ع) اور مقداد اور دیگر صحابہ نے حضرت عثمان سے مطالبہ بھی کیا کہ عبیداللہ بن عمر سے ابولولو کی بیٹی کو قتل کرنے کا قصاص دلوایا جائے
مگر حضرت عثمان بہت سے بزرگان صحابہ کی مداخلت کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔
(تاریخ دمشق ج۳۸ص۶۸ و الغدیر ج۸ص۶۸)
حضرت علی (ع) کے دورِ حکومت میں عبیداللہ بن عمر اسی قصاص کے خوف سے معاویہ سے جا ملا اور جنگِ صفین میں قتل ہوا
(الغدیر ج۸ص۱۳۶)
اور عبدالرحمن بن ابی بکر روایت کرتے ہیں کہ جس دن ابولولو کی مسلمان بیٹی کو قتل کیا گیا زمین تاریک ہو گئی
(الطبقات الکبری ج۵ص۱۶ - تاریخ دمشق ج۳۸ص۶۴ - الغدیر ج۸ص۱۳۳)
(عجیب بات ہے یعنی زمین تاریک ہوئی ابولولو کی بیٹی کے قتل کی وجہ سے اور اہلِ سنت حضرات زمین کے اس تاریک ہونے کو حضرت عمر کی فضیلت میں سے قرار دیتے ہیں کہ زمین ان کے قتل کی وجہ سے تاریک ہوئی۔ واہ رے جھوٹے قصیدہ خوانو!)
اور صاحب مستدرک سفینة البحار لکھتے ہیں کہ
“اعلم ان فیروز من اکابر المسلمین و المجاهدین بل من خلص اتباع امیرالمومنین علیه السلام “
معلوم یہی ہے کہ فیروز اکابر مسلمین اور مجاھدین میں سے تھا اور خاص کر امیر المومنین علیہ اسلام کی اتباع کرنے والوں میں سے
(مستدرک سفینة البحار ج۹ص۲۱۴)
اس کے علاوہ صاحب مستدرک الاستیعاب سے نقل کرتا ہے کہ ابولولو کے مسلمان بھائی ذکوان اور اس کے بیٹے عبداللہ بن ذکوان کا شمار علم حساب، شعر، حدیث، فقہ اور نحو میں مدینے کے بڑے علماء میں سے ہوتا تھا۔
(فصل الخطاب فی تاریخ قتل عمر بن خطاب ص۱۸۴)
اور ذهبی اپنی کتاب “المختصر فی علم الرجال“ میں عبداللہ بن ذکوان کو ابو لولو قاتلِ عمر بن خطاب کے بھائی کا بیٹا لکھتا ہے اور ساتھ میں ابو لولو کے بھائی ذکوان کو روایانِ حدیث میں ثقہ لکھتا ہے۔
کامل بهائی نسخه خطی ص۳۸۳ . اسرار الامامة ص۳۲۵ میں لکھا ہے کہ
مغیرہ بن شعبہ سخت دشمنِ علی (ع) تھا مگر ابولولو حضرت علی (ع) سے محبت رکھتا تھا اسی وجہ سے مغیرہ نے ابولولو پر سخت قسم کا خراج لگا دیا۔ اسی وجہ سے ابولولو حضرت عمر کے پاس شکایت لے کر گیا۔ بعد میں مغیرہ نے ابولولو سے کہا کہ اگر تم حضرت علی (ع) سے محبت چھوڑ دو تو میں تمہارے خراج میں کمی کر دوں گا۔ مگر ابولولو نہیں مانا۔ اور مزید لکھتے ہیں کہ حضرت عمر کو زخمی کرنے کے بعد ابولولو حضرت علی (ع) کے گھر کی طرف ہی فرار ہوا۔
مجمع النورین ص124 لکھتے ہیں کہ
جب ابولولو نے عمر کو زخمی کیا تو بھاگ کر حضرت علی (ع) کے گھر کی طرف گیا اور امیرالمومنین سے کہا: کہ میرے مولا! میں نے اس شخص کا شکم چاک کر دیا (یعنی یہاں حضرت فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیھا کی اس نفرین کی طرف اشارہ ہے کہ بی بی (ع) نے کہا تھا کہ خدا عمر کا شکم چاک کرے جس طرح اس نے میرے شکم پر حملہ کیا۔ کیا اس کے بعد ابولولو کافر ہو سکتا ہے کہ وہ حضرت علی (ع) کو مولا بھی کہہ رہا ہے؟)
حضرت علی (ع) نے یہ خبر سُنی تو آپ (ع) پر دکھ کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ نے فرمایا کہ اے کاش! آج دخترِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہوتیں تو یہ خبر خود سُنتیں۔
(اب اگر ہم مجمع النورین کی بات پر یقین کریں تو یہ بات تو ابولولو کی شان میں مزید اضافہ کر دیتی ہے کہ وہ حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیھا) کی دعا کی قبولیت کی صورت بن گیا۔)
چہارم:۔
ابولولو کے مستقبل کے حوالے سے بھی ہمیں دو متضاد دعوے نظر آئے۔
1:۔ کہ اس نے عمر کو زخمی کرنے کے بعد بہت سے لوگوں کو ہلاک یا زخمی کیا اور پھر پکڑے جانے کے بعد خودکشی کر لی۔
2:۔ دوسری جگہ صاحبِ طبقات لکھتا ہے کہ ابولولو قتل کرنے کے بعد ہرمزان اور جفینہ سے ملا اور جب عبدالرحمن بن ابی بکر جب ان کے پاس سے گزرے تو وہ تینوں بھاگ گئے اور ایک خنجر ان کے درمیان سے گر پڑا جو وہی تھا جس سے اس نے عمر کو قتل کیا تھا۔
کس قدر تضاد کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے یعنی ایک جگہ لکھا کہ اس نے خودکشی کر لی اور دوسری جگہ وہ آزادانہ دیگر ساتھیوں سے ملا اور پھر بھاگ بھی گیا۔
پہلی صورت میں اہلِ سُنت کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ خودکُشی نے بعد اس کی لاش کہاں گئی؟
اگر مدینہ میں دفن ہوا تو کاشان میں مزار کیسے بن گیا؟
اگر لاش کاشان میں آئی تو کون لایا؟
اور
اگر دوسری بات سچ ہے تو وہ بھاگ کر کہاں گیا؟
جہاں تک دوسری بات کا تعلق ہے تو تھوڑی سی تگ و دو کے بعد ہمیں “کامل بهائی ج2ص111- مجمع النورین ص222- فصل الخطاب فی تاریخ قتل عمر بن خطاب ص211“ سے ایک عبارت ملی کہ جس کے مطابق حضرت علی علیہ اسلام نے اسے اپنے خصوصی گھوڑے پر (دلدل) پر سوار کر کے کاشان روانہ کر دیا تھا اور قاضی کاشان کے نام ایک خط بھی لکھا کہ اسے پناہ دی جائے اور اس کی عزت و تکریم کرو اور اپنی بیٹی سے اس کی شادی کروا دو۔ اسے کاشان پہنچنے پر عزت و تکریم سے نوازا گیا اور ایک مکان رہائش کے لئے دیا گیا۔ بعد میں اس نے اسی مکان میں ماہِ رمضان میں 31 ھجری میں وفات پائی۔
(مستدرک سفینة البحار ج۹ص۲۱۵)
یہ تمام حقائق اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ اہلِ سُنت کا یہ دعویٰ کہ ابولولو مجوسی یا نصرانی یا کافر تھا بلکل غلط اور حقائق کے خلاف ہے۔
بلکہ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ ابولولو نہ صرف مسلمان تھا بلکہ حضرت علی (ع) سے محبت کرنے والوں میں سے تھا۔ صرف قتلِ عمر کی وجہ سے اسے مجوسی یا کافر کہہ کر غصہ اتارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں ابولولو کے حق میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے رحمت بھیجنے کی روایت بھی ملی کہ جس میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ابولولو پر رحمت بھیجی کہ اس شخص کے ہاتھوں بی بی فاطمۃ الزہرہ سلام اللہ علیہا کی یہ دعا قبول ہوئی۔
واللہ اعلم
.
ابو لولو فیروز اہلسنت روایات کے مطابق مسلمان ہے اور جو مجوسی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی دلیل مضبوط نہیں- بڑی آسان بات یہ ہے کہ مدینہ میں غیر مسلموں کو رھنے کی اجازت نہیں تھی تو اگر ابولولو مجوسی ہوتا تو بھلا وہ مغیرہ کا غلام کس طرح مدینہ رہ رہا ھوتا؟ یہ مجوسی کہانی بعد کی پیداوار ہے بعض الناس کے ذھن کی- البتہ شیعہ علماء میں سے بعض ابولولو کو مجہول اور بعض اس کی تحسین کے قائل ہیں- واللہ اعلم بالصواب
.
شیعوں کا نظریہ
⬅️ کیا حضرت ابولولو مسلمان تھے؟ 👇👇👇
اس کمنٹ میں ہم شیعہ اور سنی دونوں کے نقطہ نظر سے ثابت کریں گے کہ حضرت ابولولو رضوان اللہ علیہ مسلمان تھے اور وہ مولا علی علیہ السلام کے ہاتھ سے اسلام قبول کر چکے تھے۔ 👇👇👇
👍 حضرت ابولولو کا اسلام، شیعہ علما کے نقطہ نظر سے: 👇👇👇
🌿 شیعہ کے ایک مرجع عالی، حضرت آیت اللہ صافی گلپایگانی، کی کتاب مجموعة الرسائل، جلد 2، صفحہ 395 میں، ابولولو کے واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے کہا کہ ابولولو مجوسی یا نصرانی تھا، لیکن یہ رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ یقینی طور پر مسلمان تھا:
"ظاہر ہے کہ اس نے اسلام قبول کیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے کافروں کو مدینہ سے نکالنے کا حکم دیا تھا، اگر وہ کافر ہوتا تو خلیفہ اسے مدینہ میں رہنے کی اجازت نہ دیتا، اور وہ مسجد نبوی میں داخل نہ ہو سکتا۔"
🍀 دوسرا حوالہ: بعض لوگوں کے مطابق وہ مسلمان تھا۔
حوالہ: سفينة البحار، جلد 7، صفحہ 560، عن ریاض العلماء
🌳 تیسرا حوالہ: المرزا عبد اللہ الأفندی کہتے ہیں: "جان لیں کہ فیروز (ابولولو) مسلمانوں اور مجاہدین میں سے اعلیٰ مرتبے کا تھا، بلکہ وہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خالص پیروکاروں میں شامل تھا۔"
حوالہ: مستدرك سفينة البحار، جلد 7، صفحہ 560، عن ریاض العلماء
⬅️ اسلام قبول کرنا مولا علی علیہ السلام کے ہاتھ سے: 👇👇👇
💐 کہا گیا ہے کہ ابا لؤلؤة ابتدا میں یہودی، نصرانی یا مجوسی تھا، پھر وہ مولا علی علیہ السلام کے ہاتھ سے اسلام قبول کر گیا۔
کتاب: مجمع النورین، مصنف: شیخ ابو الحسن المرندی، جلد 1، صفحہ 224
⬅️ ابولولو شیعہ اور مولا علی علیہ السلام کے خالص پیروکار تھے: 👇👇👇
🔷 المرزا مخدوم الشریفی کی کتاب نواقض الروافض کے حوالے سے: "فیروز (ابولولو) مسلمانوں اور مجاہدین میں سے اعلیٰ مرتبے کا تھا، بلکہ وہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خالص پیروکاروں میں شامل تھا۔"
کتاب: مستدرك سفينة البحار، مصنف: شیخ علی النمازی، جلد 9، صفحہ 214
🔹🔸 ابولولو: فیروز الأعجمی الفارسی، جو شیعہ میں بابا شجاع الدین کے نام سے مشہور ہیں، اور وہ علی علیہ السلام کے بہترین شیعہ میں شمار ہوتے ہیں۔
حوالہ: ریاض العلماء، جلد 5، صفحہ 507
⬅️ ابولولو کا اسلام، عمریہ کتابوں میں: 👇👇👇
🔷 خالد بن محمد الأزدی کہتے ہیں: "میں نے شبابة بن سوّار سے سنا کہ ایک شخص نے کہا: ابا لؤلؤة پر اللہ رحمت کرے! میں نے کہا: کیا آپ ایک مجوسی پر رحمت بھیج رہے ہیں جس نے عمر بن خطاب کو قتل کیا؟ جواب ملا: اس کا وار عمر کے خلاف اس کی اسلامیت کی وجہ سے تھا۔"
کتاب: عيون الاخبار، مصنف: الدینوری، ابن قتیبة، جلد 2، صفحہ 159
🔶 "وہ جس نے عمر کو قتل کیا، اس کا نام فیروز تھا، کنیت ابا لؤلؤة تھی، اور وہ مغيرة بن شعبة کا غلام تھا اور اسلام کا دعویٰ کرتا تھا۔"
حوالہ: عمدة القاری شرح صحیح البخاری، جلد 8، صفحہ 229، مصنف: بدر الدین محمود بن احمد العینی
۔
⬅️ حضرت ابولولو علیہ السلام کی جنتی حیثیت، مدح، توثیق اور جلیل القدر ہونے کا موقف شیعہ علما اور رجالی مراجع میں 👇👇👇
🔵 حافظ البرسی کی مشارق أنوار اليقين میں:
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے عمر بن الخطاب سے فرمایا:
"اے مغرور! میں تجھے دنیا میں ایسے قتل ہوتے دیکھ رہا ہوں کہ عبدِ ام معمر کی طرف سے جو تم پر ظلم کرے گا، تمہاری مرضی کے خلاف تمہیں ہلاک کرے گا، اور یہ تمہارے خلاف توفیق کے ساتھ ہوگا۔" 👈
🌿 یہ ظاہر کرتا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ابولولو کی تعریف کی ہے۔
💐 مفصل روایت فضیلت کے لیے: نواس ربیع الاول
⬅️ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابولولو کا عمل توفیق سے ہوا اور اس میں مدح کا پہلو بھی شامل ہے۔
حوالہ: سفينة البحار، جلد 7، صفحہ 559، عن البحار ط قدیم، جلد 8، صفحہ 228
👌 علامہ مجلسي اور شیخ عباس قمی:
ابولولو کو فردی ممدوح اور معتبر مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قاتل دوم ناصبی عالم ہونے کی توفیق نصیب ہوئی۔
🌗 علامہ شیخ علی نمازی:
ابولولو کی توفیقات اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی روایت کو اس کی تعریف کے لیے دلیل مانتے ہیں۔
💙 ابولولو: قاتل عمر بن الخطاب
کتاب: مستدرك سفينة البحار، مصنف: شیخ علی نمازی، جلد 9، صفحہ 213
اسی علامہ نمازی نے اور جگہ ابولولو کو توثیق بھی دی:
"قاتل عمر، ثقة ثابت"
کتاب: مستدرك سفينة البحار، مصنف: شیخ علی نمازی، جلد 9، صفحہ 215
⬅️ آیت اللہ العظمی سید صادق روحانی:
ابولولو کو فردی اور جلیل القدر تابعي مانتے ہیں۔
🌿 جواب:
"اس کا ذکر اس کے نام کے ساتھ ہے۔ اس نے فاطمہ علیہ السلام کے دشمن میں سے ایک کے پیٹ کو پھاڑا، جس نے ان پر ظلم کیا اور حمل گرایا، جس سے ان کی شہادت ہوئی۔ یہ کام نویں ربیع الاول کے دن جلیل القدر تابعي ابولولو نهاوندی مدنی کے ہاتھ سے ہوا۔"
حوالہ: http://ar.rohani.ir/istefta-6046.htm
۔
⬅️ کیا ابولولو نے عمر بن الخطاب کو ذاتی مسائل کی وجہ سے قتل کیا؟ 👇👇👇
🔵 حذیفہ نے کہا: "پس خداوند نے مستجاب فرمایا دعای مولاتی فاطمہ (سلام اللہ علیھا) کو اس منافق پر، اور یہ کام اس کے قاتل (رحمة اللہ علیہ) کے ہاتھ سے ہوا۔"
کتاب: مستدرك سفينة البحار، مصنف: شیخ علی نمازی، جلد 9، صفحہ 214
🔶 بعد میں، ابولولو نے مکان چھوڑ کر امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس پہنچ کر ان کے سامنے اپنی کارکردگی بیان کی:
"اے امیرالمؤمنین! میں نے اس شخص کو مارا اور اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔"
حضرت نے اس خبر پر شدید رویا اور کہا: "کاش فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا زندہ ہوتیں اور یہ خبر سنتیں۔"
کتاب: مجمع النورين، مصنف: شیخ ابو الحسن المرندی، جلد 1، صفحہ 226
🌿 اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابولولو، واقعے کے بعد امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس آیا، اور حضرت منتظر تھے کہ وہ خبر سنیں۔ لہٰذا ابولولو کے عمل کا مقصد صرف حضرت کی ہدایت اور فاطمہ سلام اللہ علیھا کے حق کی حفاظت تھا، نہ کہ ذاتی انتقام۔
🌳 حضرت کے سننے پر شدید رنج و غم کا اظہار ہوا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ذاتی معاملہ نہیں تھا بلکہ عدالت و توفیق کے تحت ہوا۔
⬅️ ابولولو کو "حضرت" کیوں کہا جاتا ہے؟
🌿 استفتاء کے مطابق، مشاهیر اور یاران اہل بیت علیہم السلام جیسے مالک اشتر، یاسر، حربن یزید بن ریاحی، کمیل، ابولولو وغیرہ کو احترام اور تجلیل کے طور پر "حضرت" کہنا شرعی طور پر جائز ہے۔
آیت اللہ العظمی شیخ جواد تبریزی: اشکال نہیں
آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی: اشکال نہیں
آیت اللہ العظمی بہجت: اشکال نہیں
آیت اللہ العظمی خامنه ای: اشکال نہیں
آیت اللہ العظمی فاضل لنکرانی: اشکال نہیں
آیت اللہ العظمی سیستانی: جائز اور بہتر ہے کہ یاران اہل بیت کو اس القاب سے یاد کیا جائے
⬅️ حضرت ابولولو کہاں دفن ہوئے؟ 👇👇👇
🙈 شیعہ عقیدہ کے مطابق، ابولولو قاتل عمر کے بعد امیرالمؤمنین علیہ السلام کے حکم سے کاشان گئے، وہاں انہوں نے شیعہ زندگی گزاری، اور صالح اولاد حاصل کی۔
کتاب: شاخه طوبی، ص 107، محدث نوری
👌 شیعہ کے مطابق، ابولولو کا مزار کاشان کے باہر، راستہ فین کے کنارے ہے، جہاں ان کی وفات کے بعد دفن کیا گیا۔
کتاب: ناسخ التواریخ تاریخ الخلفاء، ج3، ص 49، مرحوم سپہر
🙈 اہل کاشان نے ابولولو کو احترام دیا اور دشمنان اہل بیت سے محفوظ رکھا، جبکہ عمر کو وہاں حقیر اور کم قدر سمجھا جاتا تھا۔
کتاب: مجالس المومنین، ج1، ص 87-88، شہید ثالث، مرحوم قاضی نورا
Gallery
Tap any image to view full screen