Back to حضرت عمر

حضرت عمر کے مطابق طوائفوں اور ان سے متعلق عادی مجرموں پر حد زنا نہ واجب ہوگی

حضرت عمر کے مطابق طوائفوں اور ان سے متعلق عادی مجرموں پر حد زنا نہ واجب ہوگی
حضرت عمر کے مطابق طوائفوں اور ان سے متعلق عادی مجرموں پر حد زنا نہ واجب ہوگی
حضرت عمر کے مطابق طوائفوں اور ان سے متعلق عادی مجرموں پر حد زنا نہ واجب ہوگی
حضرت عمر کے مطابق طوائفوں اور ان سے متعلق عادی مجرموں پر حد زنا نہ واجب ہوگی
حضرت عمر کے مطابق طوائفوں اور ان سے متعلق عادی مجرموں پر حد زنا نہ واجب ہوگی
کل ایک حوالہ نظر سے گزرا پہلے مجھے لگا کہ میں نے غلط پڑھا ہے لیکن اس کے بلکل نیچے واضح تصریح بھی موجود ہے
حضرت عمر کا فیصلہ کہ
📃 ایک عورت نے کسی مرد سے مال مانگا اور اس نے کہا کہ اگر تو اپنے اوپر قابو دیدے (زنا کرنے دے) تو مال دینے کیلئے تیار ہوں اس صورت میں حضرت عمر نے یہ کہہ کر حد ساقط کردی کہ مال اس کا مہر ہے
📚 احکام شرعیہ ص ٧٢
📜 مذکور و تصریح کے مطابق طوائفوں اور ان سے متعلق عادی مجرموں پر حد زنا نہ واجب ہوگی
🖋 مفتی تقی امینی
 
۔
 
🔴 صدرِ اسلام میں بے پردگی و بے راہ روی کی ترویج خلیفہ ثانی کے حکم سے ⚠️
 
ز/نا کرو، پیسے دو تو کوئی حرج نہیں!! 😳
 
▪ عبد الرزاق صنعانی نے سندِ صحیح کے ساتھ ابو طفیل سے روایت کی ہے:
 
📜 13653 - ابن عیینہ نے ولید بن عبداللہ سے، اور انہوں نے ابو طفیل سے نقل کیا کہ ایک عورت کو سخت بھوک لگی۔ وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اس سے کھانا مانگا۔ چرواہے نے انکار کر دیا جب تک کہ وہ عورت خود کو اس کے حوالے نہ کرے۔ عورت نے کہا: اس نے مجھے تین مُٹھی کھجوریں دیں اور میں سخت بھوک کی حالت میں تھی۔ پھر عورت نے یہ معاملہ عمر (بن خطاب) کے سامنے بیان کیا۔
 
👈 عمر نے تکبیر کہی، 👉 اور کہا: "مہر، مہر، مہر؛ ہر مُٹھی ایک مہر ہے۔"
👈 اور اس پر حد جاری نہیں کی۔👉
 
📚 المصنف، عبدالرزاق صنعانی، ج 7، ص 406، ح 13653
 
⭕ دوستو! دلچسپ یہ ہے کہ کچھ اہل سنت علما نے اسی روایت کی بنیاد پر فتویٰ بھی دیا۔
 
مثال کے طور پر ابو حنیفہ (جنہیں پاسدارِ قرآن کہا جاتا ہے 😂😆) نے اس روایت کی بنیاد پر فتویٰ دیا:
 
📜 "اگر کوئی شخص کسی عورت کو ز/نا کرنے کے لیے اجرت دے تو ان دونوں پر کوئی حد نہیں ہے۔"
 
📚 المبسوط، سرخسی، ج 9، ص 58، دار المعرفہ – بیروت
 
🔘 ابو حنیفہ پر ملامت بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے یہ فتوٰی بلا دلیل نہیں دیا، بلکہ خلیفہ ثانی سے منقول اس روایت پر اعتماد کرتے ہوئے دیا۔ "امامِ اعظم" وهابیون 😆
 
▪ اسی طرح ابن حزم نے بھی اپنی کتاب المحلی میں روایتِ عبدالرزاق کے بعد ابو حنیفہ کے قول کو بیان کیا ہے:
 
📜 ابن حزم کہتے ہیں: ابو حنیفہ اسی کے قائل ہیں اور وہ ز/نا کو صرف وہ مانتے ہیں جو محض کھیل یا وقتی تعلق ہو۔ لیکن اگر اس میں کچھ معاوضہ یا اجرت شامل ہو تو یہ ز/نا نہیں ہے 👈 اور اس میں کوئی حد نہیں۔👉
 
📙 المحلی، ابن حزم، ج 11، ص 250، مسئلہ 2213
 
⁉️ تو پھر سوال یہ ہے کہ ان فتوؤں کے بعد وہ بدنام اڈے (کوٹھے) جہاں عورتیں پیسے لے کر ز/نا کرتی ہیں، ان کے بارے میں کیا کہا جائے؟ وہ بھی تو یہی کرتے ہیں کہ ز/نا کرتے ہیں اور پیسے لے لیتے ہیں‼️
 
ابو حنیفہ نے یہ فتویٰ کس آیت، کس سنت اور کس عقل کی بنیاد پر دیا ہے ⁉️
 
⭕ راویوں کا مختصر تعارف:
 
💡 عبدالرزاق بن ہمام الحميری: ثقہ، حافظ
💡 سفیان بن عیینہ الهلالی: ثقہ، حجت
💡 ولید بن عبداللہ بن جُمیع الزہری: صدوق، حسن الحدیث
💡 عامر بن واثلہ (ابو طفیل): صحابی
 
invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5