Back to حضرت عمر

حضرت عمر اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!

حضرت عمر  اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!
حضرت عمر  اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!
حضرت عمر  اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!
حضرت عمر  اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!
حضرت عمر  اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!
حضرت عمر  اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!
حضرت عمر  اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!
حضرت عمر  اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!
حضرت عمر  اور عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ!
عبداللہ بن عمر بن خطاب کے افطار کرنے کا منفرد انداز – معتبر سند کے ساتھ! 👇👇👇
طبرانی "المعجم الکبیر" میں نقل کرتے ہیں:
📜 حدَّثَنَا الْهَیْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِیُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا یَحْیَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ السَّرِیِّ بْنِ یَحْیَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ، قَالَ: رُبَّمَا أَفْطَرَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى الْجِمَاعِ
📃 محمد بن سیرین کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر بعض اوقات روزہ جماع کے ذریعے افطار کرتے تھے۔
📚 المعجم الکبیر، ج 12، ص 269، طبع مکتبة ابن تیمیة
✅ روایت کی سند کا اعتبار:
📜 نور الدین ہیثمی "مجمع الزوائد" میں روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
✔️ "روَاهُ الطَّبَرَانِیُّ فِی الْکَبِیرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ"
☑️ طبرانی نے اس روایت کو "المعجم الکبیر" میں نقل کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
📚 مجمع الزوائد و منبع الفوائد، ج 3، ص 370، طبع دار الفکر
 
سوال : کیا عمری لوگ صحابی کی اس سنت پر عمل کرتے ہیں ؟
 
.
 
🔴 خود حضرت عمر سے بھی یہی واقعہ ثابت ہے کہ
 
روزہ کی حالت میں حضرت عمر کی ایک کنیز انکے پاس سے گزری جسکو دیکھ کر وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے اور اسکو دبوچ لیا :
روينا من طريق وكيع عن سيف بن سليمان المكي عن قيس بن سعد عن داود بن أبي عاصم عن سعيد بن المسيب قال: خرج عمر بن الخطاب يوما على أصحابه فقال: إني أصبحت صائما فمرت بي جارية لي فوقعت عليها فما ترون؟ قال: فلم يألوا ما شكوا عليه، وقال له على: أصبت حلالا وتقضى (1) يوما مكانه، قال له عمر: أنت أحسنهم فتيا.
[المحلى تصنيف الامام الجليل، المحدث، الفقيه، الأصولي، قوي العارضة شديد المعارضة، بليغ العبارة، بالغ الحجة، صاحب التصانيف الممتعة في المعقول والمنقول، والسنة، والفقه، والأصول والخلان، مجدد القرن الخامس، فخر الأندلس أبي محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم المتوفى سنة 456 ه.
طبعة مصححة ومقابلة على عدة مخطوطات ونسخ معتمدة كما قوبلت على النسخة التي حققها الأستاذ الشيخ احمد محمد شاكر الجزء السادس دار الفكر ،ج 6 ص 280]

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9