Back to حضرت عمر

حضرت ابو لؤلؤ اور انکے خاندان کا مسلمان ہونا – صحیح بخاری کی روایت کی روشنی میں

حضرت ابو لؤلؤ اور انکے خاندان کا مسلمان ہونا – صحیح بخاری کی روایت کی روشنی میں
حضرت ابو لؤلؤ اور انکے خاندان کا مسلمان ہونا – صحیح بخاری کی روایت کی روشنی میں
حضرت ابو لؤلؤ اور انکے خاندان کا مسلمان ہونا – صحیح بخاری کی روایت کی روشنی میں
حضرت ابو لؤلؤ اور انکے خاندان کا مسلمان ہونا – صحیح بخاری کی روایت کی روشنی میں
حضرت ابو لؤلؤ اور انکے خاندان کا مسلمان ہونا – صحیح بخاری کی روایت کی روشنی میں
حضرت ابو لؤلؤ اور انکے خاندان کا مسلمان ہونا – صحیح بخاری کی روایت کی روشنی میں
حضرت ابو لؤلؤ اور انکے خاندان کا مسلمان ہونا – صحیح بخاری کی روایت کی روشنی میں
✏️ صحیح بخاری میں حضرت عمر بن خطاب سے ایک ایسی روایت موجود ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت ابو لؤلؤ اور ان کی کم سن بیٹی مسلمان تھے، اور وہ نماز بھی پڑھتے تھے اور حج بھی کرتے تھے۔ بخاری نے اپنی کتاب میں ایک طویل روایت کے دوران یہ الفاظ نقل کیے ہیں:
🔹"... اللہ کا شکر ہے کہ میری موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہوئی جو صرف اسلام کا دعویٰ کرتا ہو۔ اے ابن عباس! تم اور تمہارے والد چاہتے تھے کہ مدینہ میں غیر عرب غلاموں کی تعداد زیادہ ہو جائے، اور (راوی کہتا ہے) عباس کے پاس سب سے زیادہ غلام تھے۔
ابن عباس نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں ان (غلاموں) کو قتل کر دوں؟
حضرت عمر نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو (ایسا نہیں ہو سکتا)، کیونکہ یہ لوگ تمہاری زبان بولتے ہیں، 👈🏻 تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور تمہارے جیسے حج کرتے ہیں..." 👉🏻
✅ اس روایت میں اگرچہ ابتدا میں حضرت عمر کہتے ہیں کہ ان کی موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہوئی جو صرف دعویٰ کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے، لیکن بعد میں وہ خود اس بات کو مانتے ہیں کہ ان غلاموں (جن میں ابو لؤلؤ بھی شامل تھے) نے مسلمانوں کی زبان میں بات کی، مسلمانوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ان کی طرح حج کیا۔
یہ واضح کرتا ہے کہ ان غلاموں کا اسلام حضرت عمر اور دوسروں کی نظر میں کم از کم ظاہری طور پر قابلِ قبول تھا، اور ان پر مسلمانوں کے احکام لاگو کیے جاتے تھے۔
لہٰذا، ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابو لؤلؤ اور ان کی بیٹی کم از کم ظاہری طور پر مسلمان تھے، خواہ حضرت عمر کی ذاتی رائے کچھ بھی رہی ہو۔
🔴 حضرت سیدنا ابو لولو رضوان اللہ تعالیٰ کا اسلام:
⭕️ مصر کے اہلِ سنت کے معروف مورخ، ادیب اور بڑے مفسر عباس محمود العقاد جناب ابو لؤلؤ کے بارے میں لکھتے ہیں:
“عمر کو ایک ایسے غلام نے قتل کیا جو مسلمان ہو چکا تھا، یعنی وہ اسلام لے آیا تھا۔”
🔸“قتله غلام دخیل على الإسلام”
🔹“اسے ایک مسلمان ہو چکے غلام نے قتل کیا۔”
📚 ذو النورین عثمان بن عفان
عباس محمود العقاد، صفحہ 12
عباس محمود العقاد:
وہ ایک بڑے ادیب، شاعر، فلسفی، سیاستدان، مورخ، صحافی اور ادب کے محراب کے راہب تھے۔ ان کی شہرت اس قدر پھیلی کہ دنیا ان کے ادب سے بھر گئی۔ انہوں نے جدید عربی ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا اور اس میں ایک انوکھے مرتبے تک پہنچے۔
📚 مؤسسة هنداوی، مصر

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6