Back to حضرت عمر

اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔۔

اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔۔
اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔۔
اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔۔
اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔۔
وہ مواقع کہ جن پر عمر نے ان الفاظ کو بیان کیا:
📜 قال أحمد ابن زهير حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا مؤمل بن إسماعيل حدثنا سفيان الثوري عن يحيي بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال كان عمر يتعوذ بالله من معضلة ليس لها أبو الحسن وقال في المجنونة التي أمر برجمها وفي التي وضعت لستة أشهر فأراد عمر رجمها فقال له علي إن الله تعالي يقول وحملة وفصاله ثلاثون شهرا الحديث وقال له إن الله رفع القلم عن المجنون الحديث فكان عمر يقول لولا علي لهلك عمر.
📃 عمر نے ایک پاگل عورت کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور ایک عورت کہ جس کے ہاں حاملہ ہونے کے 6 مہینے بعد بچہ پیدا ہوا تھا، اس کو بھی عمر نے حکم دیا کہ اسکو سنگسار کر دیا جائے۔ اس پر حضرت علی نے عمر سے کہا کہ بے شک خداوند نے قرآن میں حمل اور دودھ پلانے کی مدت تیس مہینے ذکر کی ہے.....، اور اسی طرح عمر سے کہا کہ: بے شک خداوند نے پاگل انسانوں سے رفع قلم کیا ہے، اور انکے لیے کوئی شئی حلال و حرام و واجب نہیں ہے.....، یہ سب سن کر عمر نے کہا: میں ایسے علمی مسئلے سے پناہ مانگتا ہوں کہ جس کے حل کرنے کے لیے ابو الحسن علی نہ ہوں، اگر علی نہ ہوتے تو میں عمر ہلاک ہو جاتا۔
📚 استيعاب ابن عبدالبر ج 3 ص 1103.
🔍 سند روايت:
▪سعيد بن مسيب (یہ کتاب صحيح بخاری کے راویوں میں سے بھی ہے،)
📜 سعيد بن المسيب ... أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار من كبار الثانية اتفقوا علي أن مرسلاته أصح المراسيل وقال ابن المديني لا أعلم في التابعين أوسع علما منه.
📃 علماء نے اتفاق کیا ہے کہ اسکی روایات صحیح ہیں اور ابن مدینی نے کہا ہے کہ: تابعین میں سے کوئی بھی سعید ابن مسیب سے زیادہ عالم نہیں ہے۔
📚 تقريب التهذيب - ابن حجر - ج 1 ص 364.
▪يحيی بن سعيد ( یہ کتاب صحیح بخاری کے راویوں میں سے بھی ہے،)
📜 يحيي بن سعيد بن قيس بن عمرو ، الإمام أبو سعيد الأنصاري ، قاضي السفاح ، عن أنس ، وابن المسيب ، وعنه مالك ، والقطان ، حافظ فقيه حجة ، مات 143
📃 یحیی حافظ و فقیہ ہے اور اسکی روایات حجت و معتبر ہیں۔
📚 الكاشف في معرفة من له رواية في كتب الستة - الذهبي - ج 2 ص 366.
📜 يحيي بن سعيد بن قيس الأنصاري المدني أبو سعيد القاضي ثقة ثبت ، من الخامسة مات سنة أربع وأربعين أو بعدها / ع .
📃 یحیی ابن سعید ایک ثقہ راوی ہے.....،
📚 تقريب التهذيب - ابن حجر - ج 2 ص 303.
▪سفيان ثوری (یہ کتاب صحيح بخاری کے راویوں میں سے بھی ہے،)
📜 وقال شعبة ، وسفيان بن عيينة ، وأبو عاصم النبيل ، ويحيي بن معين ، وغير واحد من العلماء : سفيان أمير المؤمنين في الحديث .
📃 سفیان کو اپنے زمانے میں علم حدیث میں امیر المؤمنین کہا جاتا تھا۔
📚 تهذيب الكمال - المزي - ج 11 ص 165.
▪مومل بن اسماعيل (یہ کتاب صحيح بخاری کے راویوں میں سے بھی ہے،)
📜 مؤمل بن إسماعيل البصري العمري مولاهم ... قال أبو حاتم: صدوق شديد في السنة كثير الخطأ ... مات 206 . ت س ق .
📃 حدیث میں ایک سچا راوی تھا......،
📚 الكاشف في معرفة من له رواية في كتب الستة - الذهبي - ج 2 ص 309.
📜 قال ابن أبي خيثمة عن ابن معين ثقة وقال عثمان الدارمي قلت لابن معين أي شئ حاله فقال ثقة قلت هو أحب إليك أو عبيد الله يعني ابن موسي فلم يفضل وقال أبو حاتم صدوق شديد في السنة كثير الخطأ .
📚 تهذيب التهذيب - ابن حجر - ج 10 ص 340
▪عبيد الله بن عمر القواريری (یہ کتاب صحيح بخاری کے راویوں میں سے ہے،)
📜 عبيد الله بن عمر القواريري أبو سعيد البصري الحافظ روي مائة ألف حديث ... مات في ذي الحجة 235 . خ م د س.
📚 الكاشف في معرفة من له رواية في كتب الستة - الذهبي - ج 1 ص 685.
📜 عبيد الله بن عمر بن ميسرة القواريري أبو سعيد البصري نزيل بغداد ثقة ثبت.
📚 تقريب التهذيب - ابن حجر - ج 1 ص 637.
▪احمد بن زہير:
📜 احمد بن زهير بن حرب بن شداد ... الحافظ الكبير ابن الحافظ ... قال الخطيب كان ثقة عالما متقنا حافظا بصيرا بأيام الناس وأئمة الأدب.
📚 لسان الميزان - ابن حجر - ج 1 ص 174
لہذا عمر کی روایت اہل سنت کے علم رجال اور علم حدیث کے قواعد کے مطابق صحیح اور معتبر ہو گی۔ ہم نے اطمئنان قلب کے لیے اس روایت کی سند کے بارے میں بحث کی ہے، ورنہ وہ راوی کہ جنکی روایات کتاب صحیح بخاری میں ذکر ہوں، اہل سنت کے عقیدے کے مطابق ان راویوں کی روایت صحیح ہوتی ہے اور انکے بارے بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
🖋 ولی العصر

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4