Back to حضرت عمر

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت برائے گمراہی امت

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت برائے گمراہی امت
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت برائے گمراہی امت
ابویعلی موصلی، جو کہ علم حدیث کے بزرگ اہل سنت ہیں، روایت کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور امت اور ان کے انحراف، اور لوگوں کی اپنی طرف دشمنی پر شکایت کی۔
علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
📜 "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، امت کے رویے پر شکایت کی اور رونے لگا۔ آپ نے فرمایا: «اے علی، مت رو۔» پھر میں نے دیکھا کہ دو افراد کو بڑے پتھروں سے سر پر مارا جا رہا ہے، ان کے مغز باہر آ رہے ہیں اور پھر وہ اپنی اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔"
راوی نے مزید کہا: صبح اسی دن میں علی علیہ السلام کے پاس گیا اور لوگوں نے کہا: "امیرالمؤمنین حضرت عمر کو قتل کر دیا گیا ہے۔"
📚 مسند ابی یعلی، جلد ۱، صفحہ ۲۶۹؛ مجمع الزوائد و منبع الفوائد، جلد ۹، صفحہ ۱۳۴
وضاحت اور تجزیہ:
1. سند روایت:
روایت ابو صالح سے نقل ہوئی ہے اور اس کے راوی ثقات ہیں۔
نورالدین ہیثمی نے روایت کی سند کو معتبر قرار دیا ہے۔
2. کچھ مفسرین کی غلط فہمی:
ہیثمی نے دعویٰ کیا کہ یہ دو افراد ابن ملجم اور اس کا ساتھی تھے، لیکن یہ روایت کے متن سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ علی علیہ السلام نے یہ شکایت ابن ملجم کی قتل سے پہلے کی تھی۔
اصل مقصد ان افراد کا ہونا وہ تھے جنہوں نے امت کو گمراہ کیا اور اہل بیت پر دشمنی پیدا کی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانِ قلم و دوات کی مخالفت کرتے ہوئے امت کو گمراہ کرنے کا سبب بنے۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1