شیعہ مخالفین خلیفۂ دوم عمر بن خطاب کے دور کی فتوحات، خصوصاً ایران کی فتوحات کو اسلام کے پھیلاؤ کی علامت سمجھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ لیکن تاریخی شواہد، خصوصاً ایک معتبر روایت "مغیرہ بن شعبہ" (جو صحابی رسول تھا) سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان جنگوں کی اصل وجہ کچھ اور تھی۔
روایت کا متن (صحیح السند):

جنگ قادسیہ کے موقع پر جب مغیرہ بن شعبہ ایرانی کمانڈر ("عِلج") کے پاس نمائندے کی حیثیت سے گیا، تو ایرانی کمانڈر نے اس سے کہا:
"تم عربوں کے ہم پر حملہ کرنے کی وجہ بالکل واضح ہے؛ تم اپنی سرزمین میں بھوکے اور پیاسے ہو۔ ہم تمہیں کھانا دیتے ہیں تاکہ واپس چلے جاؤ، کیونکہ ہم تمہیں مارنا پسند نہیں کرتے اور تمہارا مرنا ہماری زمین کو ناپاک کر دے گا۔"

مغیرہ بن شعبہ کا جواب:
مغیرہ نے کہا: "خدا کی قسم! یہ (بھوک) ہمیں یہاں نہیں لائی... ہم اس لیے آئے ہیں تاکہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کریں اور تمہارے بچوں کو اسیر بنائیں۔ رہا مسئلہ کھانے کا تو قسم ہے کہ ہم اپنے علاقے میں پیٹ بھرنے کے لیے کھانا نہیں پاتے اور کبھی پینے کو پانی بھی نہیں ملتا۔ پس ہم تمہاری سرزمین میں آئے اور یہاں کھانے پینے کی فراوانی دیکھی۔ خدا کی قسم! ہم یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک یہ سرزمین ہماری نہ ہو جائے یا تمہاری رہے۔"

روایت کی صحت اور نتیجہ:

یہ روایت سند کے لحاظ سے (حاکم نیشابوری، طبرانی اور ہیثمی کی تصدیق کے مطابق) بالکل صحیح ہے۔

اہم عربی ماخذ (بغیر خلاصہ)

الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، جلد 3، ص 510-511، حدیث 5901

الطبرانی، المعجم الکبیر، جلد 20، ص 269

الہیثمی، مجمع الزوائد (تعلیق: "اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں")

عمر بن خطاب کی ایرانیوں سے جنگ کا مقصد پانی، کھانا اور مالِ غنیمت لینا تھا، نہ کہ اسلام کو پھیلانا!
اہل سنت کے عالم شمس الدین ذہبی لکھتے ہیں:

جب جنگ قادسیہ کا دن آیا تو مغیرہ بن شعبہ دس آدمیوں کے ساتھ فارس کے سردار کے پاس گیا۔ فارس کے سردار نے کہا: ہم مجوسی قوم ہیں اور ہم تمہیں قتل نہیں کرنا چاہتے کیونکہ تم ہماری زمین کو ناپاک کرتے ہو۔ مغیرہ نے کہا: ہم وہ قوم ہیں جو پتھروں کی پوجا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ہمارے پاس اپنا رسول بھیجا، تو ہم نے اس کی پیروی کی۔ ہم تمہارے پاس کھانے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنے دشمن سے لڑیں۔ اس لیے ہم آئے ہیں تاکہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کریں اور تمہاری عورتوں اور بچوں کو قید کریں۔ رہا کھانے کا معاملہ، تو ہمیں اپنی سرزمین میں اتنا بھی نہیں ملا جس سے ہم سیر ہو سکیں۔ جب ہم تمہاری زمین میں آئے تو یہاں ہمیں بہت سا کھانا اور پانی ملا۔ اب ہم یہاں سے نہیں جائیں گے یہاں تک کہ یہ (کھانا اور پانی) ہمارے اور تمہارے درمیان تقسیم ہو۔ فارس کے سردار نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے۔ پھر کہا: کل تمہاری آنکھ پھوڑ دی جائے گی۔ اور واقعی دوسرے دن ایک تیر سے اس کی آنکھ پھوٹ گئی۔

سیر أعلام النبلاء، ج 3، ص 32، مصنف: شمس الدین ذہبی، دار النشر: مؤسسه الرسالة - بیروت، 1413ھ، تحقیق: شعیب أرناؤوط، محمد نعیم العرقسوسی

وهابیوں کی لائبریری کا لنک:

لہٰذا واضح ہوتا ہے کہ عمر کے لشکر کی ایران پر چڑھائی کا اصل مقصد عورتوں اور مردوں کو غلام بنانا، مالِ غنیمت اور وسائل (کھانے پینے کی اشیاء اور پانی) حاصل کرنا تھا، نہ کہ صرف اسلام کی تبلیغ۔ یہ دعویٰ کہ یہ فتوحات خالصتاً نیتِ الٰہی کے تحت ہوئیں، تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اہل بیت ع میں سے کسی نے کبھی بھی شیخین کے دور کی فتوحات میں شمولیت اختیار نہیں کی
تفصیلی پوسٹ
