ابوحنیفہ کی جامع المسانید میں لکھا ہے کہ
احبسوه فإن صحى فاجلدوه، ودعا عمر بفضله ودعا بماء فصبه عليه فكسره ثم شرب وسقى أصحابه، ثم قال: هكذا فاكسروه بالماء إذا غلبكم شيطانه
حماد، ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن الخطاب کے پاس ایک دیہاتی لایا گیا جو نشے کی حالت میں تھا۔ آپ نے اس کے لیے کوئی عذر تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن جب کوئی عذر نہ ملا تو فرمایا:
"اسے قید کر دو، اگر ہوش میں آ جائے تو اسے کوڑے لگاؤ۔"
پھر عمر بن الخطاب نے اپنے پاس موجود (تیز) مشروب کا بچا ہوا حصہ منگوایا، پھر پانی منگوا کر اس میں ڈال دیا اور اسے توڑ (یعنی پانی ملا کر اس کی شدت کم) کر دیا۔ پھر خود پیا اور اپنے ساتھیوں کو بھی پلایا، پھر فرمایا:
"جب اس کا شیطان تم پر غالب آ جائے تو اسی طرح اسے پانی ملا کر توڑ دیا کرو۔"
راوی کہتے ہیں:
"وہ (عمر بن الخطاب) سخت (یعنی گاڑھا یا تیز) مشروب پسند کرتے تھے۔"
.
.
.
حماد بن ابی سلمان استاد ہے ابوحنیفہ کا
اور انکے بارے میں کہا گیا کہ ابو حنیفہ نے ثقہ لوگوں سے روایات نقل کی ہیں۔
Gallery
Tap any image to view full screen