کیا یہ درست نہیں کہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ عورتیں حجاب کریں، اور اسلام کی شریعت میں عورتوں کے لیے خاص طور پر حجاب کا حکم دیا گیا ہے؟!
اگر یہ ایسا ہے تو پھر کیوں اہل سنت کے خلیفہ، جو خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا جانشین کہتا ہے، ایک ایسی عورت کو جو حجاب کرتی ہے مارے؟ اور کیوں خلیفہ اپنی کنیزوں کو حکم دیتا تھا کہ حجاب اتار دیں؟

سَرَخسی، جو احناف کے مشہور عالم ہیں، اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں:

وَكَانَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إذَا رَأَى أَمَةً مُتَقَنِّعَةً عَلَاهَا بِالدُّرَّةِ وَقَالَ: أَلْقِ عَنْك الْخِمَارَ يَا دِفَارِ وَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إنَّ الْأَمَةَ أَلْقَتْ قُرُونَهَا مِنْ وَرَاءِ الْجِدَارِ أَيْ لَا تَتَقَنَّعُ قَالَ أَنَسٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: كُنَّ جِوَارِي عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَخْدُمْنَ الضِّيفَانَ كَاشِفَاتِ الرُّءُوسِ مُضْطَرِبَاتِ الْبَدَنِ وَلِأَنَّ الْأَمَةَ تَحْتَاجُ إلَى الْخُرُوجِ لِحَوَائِجِ مَوْلَاهَا وَإِنَّمَا تَخْرُجُ فِي ثِيَابِ مِهْنَتِهَا وَحَالُهَا مَعَ جَمِيعِ الرِّجَالِ فِي مَعْنَى الْبَلْوَى بِالنَّظَرِ وَالْمَسِّ كَحَالِ الرَّجُلِ فِي ذَوَاتِ مَحَارِمِهِ

"اور جب عمرؓ کسی کنیز کو دیکھتے جو سر ڈھانپے ہوتی تو اسے درّہ (کوڑا) مارتے اور کہتے: اے بدبودار! یہ دوپٹہ اپنے سر سے اتار دو۔"
اور عمرؓ نے کہا: "کنیز نے اپنے گُندھے ہوئے بال دیوار کے پیچھے ڈالے ہیں یعنی وہ نقاب نہیں کرے گی۔"
انسؓ نے کہا: "عمر کی کنیزیں سر برہنہ اور جسم کے ہلنے لرزنے کے ساتھ مہمانوں کی خدمت کرتی تھیں۔ اور کیونکہ کنیز کو اپنے مالک کے کام کے لیے باہر نکلنے کی ضرورت ہوتی تھی، اس لیے وہ اپنے کام کے کپڑوں میں ہی نکلتی تھی۔ اور اس کی حالت تمام مردوں کے ساتھ اس طرح ہوتی تھی کہ گویا نگاہ اور لمس کا معاملہ اس کے ساتھ ایسے ہے جیسے مرد کے اپنی محرم عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔"

المبسوط، ج 10، ص 151
المؤلف: محمد بن أحمد بن أبی سهل شمس الأئمة السرخسی (م 483ھ)
الناشر: دار المعرفة، بیروت، 1414ھ - 1993م، 30 جلدیں

عورتوں کا حجاب اور عمر بن خطاب کا عقیدہ

محمد ناصر الألبانی، جسے وہابی "بخاریِ دوراں" کہتے ہیں، اپنی کتاب إرواء الغلیل میں لکھتے ہیں:

1796. قال ابن المنذر: ثبت «أن عمر قال لأمة رآها متقنعة: اكشفي رأسك ولا تشبهي بالحرائر وضربها بالدرة »صحيح. أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف

1796۔ ابن منذر نے کہا: ثابت ہے کہ عمرؓ نے ایک کنیز کو دیکھا جو مقنعہ (دوپٹہ) اوڑھے ہوئے تھی تو کہا: "اپنا سر کھولو، اور آزاد عورتوں کی طرح نہ بنو" اور اسے درّہ (کوڑا) مارا۔

یہ روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنّف میں بیان کی ہے اور یہ صحیح ہے۔

حدثنا وكيع، قال: حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال: " رأى عمر أمة لنا مقنعة، فضربها وقال: لا تشبهين بالحرائر ".

قلت: وهذا إسناد صحيح

"ہمیں وکیع نے بیان کیا، کہا کہ شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے انس سے روایت کی: عمر نے ایک ہماری کنیز کو دیکھا جو مقنعہ پہنے تھی، تو اسے مارا اور کہا: آزاد عورتوں کی طرح نہ بنو۔"

میں کہتا ہوں: یہ سند صحیح ہے۔

حدثنا علي بن مسهر عن المختار بن فلفل عن أنس بن مالك قال: " دخلت على عمر بن الخطاب أمة قد كان يعرفها لبعض المهاجرين أو، الأنصار، وعليها جلباب متقنعة به، فسألها: عتقت؟ قالت: لا: قال: فما بال الجلباب؟! ضعيه عن رأسك، إنما الجلباب على الحرائر من نساء المؤمنين، فتلكأت، فقام إليها بالدرة، فضرب بها رأسها حتى ألقته عن رأسها ".

قلت: وهذا سند صحيح على شرط مسلم

انس بن مالک سے روایت ہے: عمر کے پاس ایک کنیز آئی، جو مہاجرین یا انصار میں سے کسی کی تھی، اور وہ جلباب اوڑھے ہوئی تھی۔ عمر نے پوچھا: کیا تم آزاد ہو گئی ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ عمر نے کہا: پھر یہ جلباب کیوں ہے؟ اسے اپنے سر سے اتار دو، یہ جلباب تو مؤمن عورتوں میں صرف آزاد عورتوں کے لیے ہے۔ وہ کنیز کچھ دیر ٹالی مٹولی کرنے لگی، تو عمر اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے سر پر درّہ مارا، یہاں تک کہ اس نے جلباب اتار دیا۔

میں کہتا ہوں: یہ سند صحیح ہے اور مسلم کی شرط پر ہے۔

إرواء الغلیل في تخريج أحاديث منار السبيل، ج6، ص203-204
المؤلف: محمد ناصر الدین الألبانی (م 1420ھ)
ناشر: المكتب الإسلامي، بیروت، 1405ھ - 1985م، 9 جلدیں

فیصلہ بیدار ضمیروں پر ہے، کیا ایسا شخص رسول اللہ کا جانشین بننے کے لائق ہے؟ جو اسلام کے قوانین کو پامال کرے؟ کون سا صحیح العقل اور منصف آدمی خلفا کی سنت کو رسول اللہ کی سنت پر ترجیح دے گا؟