اہلِ سنت کے اپنے بڑے عالموں نے اعتراف کیا ہے کہ عمر بن خطاب علم کے لحاظ سے کمزور اور بعض مسائل کو نہ سمجھنے والا تھا۔
یعنی خود اہل سنت کا یہ عالم کہتا ہے کہ عمر ’’لم یفهم‘‘ یعنی نہ سمجھ پایا۔
لفظ "نفہم" عربی میں نہ سمجھنے والا یا بے شعور کے معنی میں آتا ہے۔
البانی وهابی: اس کی قوتِ حافظہ اور روایات یاد رکھنے کی صلاحیت مجھے ابن تیمیہ کی یاد دلاتی ہے۔
شیخ بکر ابوزید: اگر آج کے زمانے میں کوئی شخص "شیخ الاسلام" کہلانے کا حقدار ہے تو وہ محمد امین شنقیطی ہے۔
حمود العقلا: وہ علم، پرہیزگاری اور زہد میں بہترین علما میں سے تھا۔
یعنی جب وہ خود ایک بنیادی مسئلہ نہ سمجھ سکے تو پھر دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ کیسے بن سکتے ہیں؟
"آیا وہ شخص جو لوگوں کو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے، زیادہ لائق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، یا وہ جو خود ہدایت نہیں پاتا مگر یہ کہ اسے کوئی اور ہدایت دے؟ پس تمہیں کیا ہوگیا ہے، کیسا فیصلہ کرتے ہو؟"
(یونس: 35)
Gallery
Tap any image to view full screen