Back to حضرت عمر

پردے کا حکم کیسے نازل ہوا

پردے کا حکم کیسے نازل ہوا
پردے کا حکم کیسے نازل ہوا
پردے کا حکم کیسے نازل ہوا
 
روایت میں ہےکہ
خلیفہ ثانی اکثر رسول اللّه ص سے فرمایا کرتے تھے *امہات المومنینؓ* کو پردہ کرائے،
خلیفہ ثانی بار بار رسول اللّه ص سے کہتے تھے اپنی بیویوں کو پردہ کرائے،
مگر رسول اللّه نے اس پر عمل نہیں کیا۔
 
📚 بخاری شریف
 
▪ *اول* تو اس روایت سے معاز اللّه خلیفہ ثانی کو جنابِ رسول اللّه ص سے زیادہ غیرت مند ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کہ خلیفہ ثانی کو بہت بے چینی تھی امہات المومنینؓ کے پردے کی لیکن رسول اللّه کو نہیں تھی۔ ؟
▪ *دوم* روایات سے ثابت ہے کہ امہات المومنینؓ رات کو جب اپنی طبعی ضرورت کے لئے نکلتی تھیں تو کچھ منافقین انکے لئے اذیت کا باعث بنتے تھے۔ پیچھے سے آوازیں لگاتے تھے۔
 
📚 درالمنثور
 
▪ *سوم* بخاری شریف و دیگر روایات کے مطابق خلیفہ ثانی ازواجِ رسول ص پر آوازیں کستے تھے۔
*حضرت سودہ بنت زمعہؓ کو پیچھے سے پہچان کر آوازیں لگاتے،*
اپنے اس غیر اخلاقی فعل کو justify کرنے کیلئے ساتھ فرماتے ہیں کہ خواہش یہ تھی کہ پردہ نازل ہو جائے
 
تبصرہ
 
حقیقت یہی ہے کہ پردہ منافقین کی وجہ سے ہی نازل ہوا *جو امہات المومنین پر آوازیں کسا کرتے تھے۔* اس میں کوئی شق نہیں ۔نا اس میں کسی کی فضیلت ثابت ہوئی۔ بلکہ اللّه نے منافقین کی آوازیں کسنے والی حرکتوں سے امہات المومنینؓ کو محفوظ کیا۔
 
.
.
.
.
عمر نے نبی کی زوجہ سودہ کو رات کے وقت کتنی بار آواز دی؟
 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کا پردہ کرائیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور ازواج مطہرات رفع حاجت کے لیے صرف رات ہی کے وقت نکلتی تھیں (اس وقت گھروں میں بیت الخلاء نہیں تھے) ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا باہر گئی ہوئی تھیں۔ ان کا قد لمبا تھا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا۔ اس وقت وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا سودہ میں نے آپ کو پہچان لیا یہ انہوں نے اس لیے کہا کیونکہ وہ پردہ کے حکم نازل ہونے کے بڑے متمنی تھے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیت نازل کی۔
 
📚 صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 6240
 
دوسری روایت: (پردہ نازل ہونے کے بعد)
 
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد قضائے حاجت کے لیے نکلیں وہ بہت بھاری بھر کم تھیں جو انہیں جانتا تھا اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں۔ راستے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا اور کہا کہ اے سودہ! ہاں اللہ کی قسم! آپ ہم سے اپنے آپ کو نہیں چھپا سکتیں دیکھئیے تو آپ کس طرح باہر نکلی ہیں۔ بیان کیا کہ سودہ رضی اللہ عنہا الٹے پاؤں وہاں سے واپس آ گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرہ میں تشریف رکھتے تھے اور رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس وقت گوشت کی ایک ہڈی تھی۔ سودہ رضی اللہ عنہا نے داخل ہوتے ہی کہا: یا رسول اللہ! میں قضائے حاجت کے لیے نکلی تھی تو عمر (رضی اللہ عنہ) نے مجھ سے باتیں کیں، بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد یہ کیفیت ختم ہوئی، ہڈی اب بھی آپ کے ہاتھ میں تھی۔ آپ نے اسے رکھا نہیں تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں (اللہ کی طرف سے) قضائے حاجت کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
 
📚 صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 4795
 
کیا عمر بن خطاب نبی کے دروازے پر بیٹھتے تھے اور ان کی عورتوں کو دیکھتے تھے؟
 
اور کیا وہ صرف سودہ کو پہچانتے تھے کیونکہ وہ جسیمہ تھیں جیسا کہ کہا جاتا ہے؟!
اور کیا ہر بار جب پہچانتے تو انہیں آواز دیتے تھے، تو کیا یہ نبی اکرم کی بیویوں کے ساتھ اخلاق اور ادب کے مطابق تھا؟
کیا عمر نے سودہ کو دو مرتبہ آواز دی، ایک بار حجاب نازل ہونے سے پہلے اور ایک بار حجاب نازل ہونے کے بعد؟!!
اور کیا اُمّ المؤمنین سودہ پردے کے بغیر نکلنے پر اصرار کرتی تھیں اور وہ بھی نبی اکرم کے علم کے ساتھ؟
 
ہمیں بتائیے اے صاحبانِ عقل!

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2