Back to حضرت عمر

عمر بن الخطاب سادہ ترین قرآنی مفاہیم کو سمجھنے میں عاجز تھے

عمر بن الخطاب سادہ ترین قرآنی مفاہیم کو سمجھنے میں عاجز تھے
عمر بن الخطاب سادہ ترین قرآنی مفاہیم کو سمجھنے میں عاجز تھے
عمر بن الخطاب سادہ ترین قرآنی مفاہیم کو سمجھنے میں عاجز تھے
محمد الامین الشنقیطی (مشہور سلفی عالم) کا کہنا: عمر بن الخطاب باوجود اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی بار وضاحت کی، کبھی بھی آیتِ "کلالہ" کا مفہوم نہیں سمجھ سکے!
 
جیسا کہ ہم جانتے ہیں، خلیفہ اور امام مسلمین کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اسے قرآنِ کریم پر مکمل عبور اور آگاہی حاصل ہو، کیونکہ قرآن دینی معارف کو سمجھنے کا سب سے اعلیٰ اور معتبر ذریعہ ہے۔
 
لیکن روایات اور مخالفینِ شیعہ علماء کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر بن الخطاب ایک سادہ آیت بھی اس وقت نہیں سمجھ سکے، جبکہ اس کے سامنے سب سے فصیح انسان یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بار بار سمجھایا!
 
محمد الامین الشنقیطی لکھتے ہیں:
📜 "یہی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہے، جو آیتِ کلالہ کا مفہوم سمجھنے میں عاجز رہا یہاں تک کہ وفات پا گیا، اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسے بہت بار پوچھا لیکن نہ سمجھ سکا۔"
 
مزید فرمایا:
📜 "ثابت ہے کہ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں کلالہ سے زیادہ نہیں پوچھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے انگلی سے میرے سینے پر اشارہ کیا اور فرمایا: 'تمہارے لیے سورۃ النساء کی آخر میں آیتِ صیف کافی ہے۔'"
 
📚 الجکنی الشنقیطی، محمد الامین بن محمد بن المختار (متوفی 1393 ہجری)، أضواء البیان فی إیضاح القرآن بالقرآن، جلد 7، صفحہ 568، اشراف: بکر بن عبد اللہ أبو زید، ناشر: دار عالم الفوائد۔
 
نتیجہ: عمر بن الخطاب سادہ ترین قرآنی مفاہیم کو سمجھنے میں عاجز تھے، اور اس پر بھی خلیفہ مقرر ہوا، جبکہ ان کے زمانے میں ایسے افراد موجود تھے جو قرآن پر زیادہ عبور رکھتے تھے، جیسے امیرالمومنین علیہ السلام۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس طرح ایسے شخص کو خلیفہ اور مسلمین کا پیشوا مان لیں جو بنیادی قرآنی مفاہیم نہیں سمجھتا؟
 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3