منا/فقین کا گروہ اس قدر وسیع اور پیچیدہ تھا، اور نفا/ق صحابہ کے درمیان اس قدر سرایت کر چکا تھا، کہ ہر ایک صحابی کو یہ اندیشہ لاحق تھا کہ کہیں قرآن کی کوئی آیت اس کے خلاف نازل نہ ہو جائے اور اس کے خفیہ خیانتوں کا پردہ فاش نہ کر دے، جس سے وہ لوگوں کے درمیان رسوا اور ذلیل ہو جائے۔
کیونکہ اس نے لوگوں کو اس قدر رسوا کیا کہ شاید ہی کوئی سلامت بچا ہو۔
کیا ان تمام حقائق کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمام صحابہ عادل (نیک و پاک) تھے اور ان کے لیے جنت واجب ہے؟
کیا یہ عقیدہ قرآن اور خود خلیفہ دوم کے اعتراف کے خلاف نہیں؟
تو آپ جو کہتے ہیں کہ
"صحابہ پر تنقید کرنا کف/ر یا زند/قہ ہے"
پھر عمر کا یہ عمل کس طرح درست ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ
عمر بن خطاب کیوں حذیفہ سے قسم لے کر پوچھتے تھے:
دیگر پاک و مخلص صحابہ جیسے سلمان، ابوذر، مقداد وغیرہ نے ایسا سوال کیوں نہ کیا؟
کیا عمر کو اپنے بارے میں شک تھا؟
اور اگر عمر واقعی ان "عشرہ مبشرہ" میں سے تھے
جنہیں نبی اکرم ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی،
یا پھر حدیثِ عشرہ مبشرہ خود ساختہ ہے؟
یہ تمام روایات اور تاریخی بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ:
۔
۔
۔
قرآن و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ منا/فقین کا خطرہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے کف۔ار و مشر۔کین سے بھی زیادہ رہا ہے۔
قرآن کریم میں ان کے خلاف کئی آیات نازل ہوئیں، یہاں تک کہ ایک مکمل سورت "سورۃ المنافقون" ان پر نازل ہوئی۔
مصری محقق ابراہیم علی سالم کے بقول، قرآن کا تقریباً ایک تہائی حصہ (دس اجزاء کے قریب) منافقین اور ان کی سازشوں سے متعلق ہے۔
"تم دیکھو گے کہ منافقین تم سے روگردانی کرتے ہیں۔"
(النساء: 61)
"تم منافقین کے بارے میں دو گروہوں میں کیوں ہو؟ اللہ نے ان کے اعمال کے سبب ان کو پلٹا دیا۔ کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے گمراہ کیا، اسے تم ہدایت دو؟"
(النساء: 88)
"اللہ نے منافق مردوں، منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کا وعدہ کیا ہے۔"
(التوبہ: 68)
"منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔"
(النساء: 145)
خلیفہ دوم عمر بن الخطاب نے منافقین سے حکومت میں فائدہ اٹھایا اور انہیں عہدے دیے، اور کہا:
جب ایک صحابی حذیفہ نے اس پر اعتراض کیا تو عمر نے کہا:
حالانکہ عمر ہی سے منقول ہے:
"اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناپسند بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہیں کرتے۔"
(الصف: 3)
جیسا کہ بیہقی لکھتے ہیں:
حذیفہ کہتے ہیں:
اس وقت وہ نفاق کو چھپاتے تھے، مگر آج کھلم کھلا کرتے ہیں۔"
لیکن آج کے دور میں نفاق دراصل ایمان کے بعد کفر ہے۔"
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
🔴 حضرت عمر رض فرماتے ہیں اگر منادی آسمان سے آواز دے آپ سب کے سب جنتی ہیں سواء ایک شخص کے، حضرت عمر فرماتے ہیں مجھے امید ہے کہ وہ ایک بد بخت( جھنمی) بندہ میں ہوں
📚 ریاض النضرہ فی مناقب العشرہ والمبشرہ محب الطبری ص۲۵۴ دارالمنار
۔
۔
۔
۔
۔
🔴 عمر کا اقرار کہ میں تو گھر والوں کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہوں
کنزالعمال
کتاب: فضائل کا بیان
باب: حضرت عمر (رض) کی تمنا
حدیث نمبر: 35638
35629- عن جبير بن نفير أن نفرا قالوا لعمر بن الخطاب: والله! ما رأينا رجلا أقضى بالقسط ولا أقول بالحق ولا أشد على المنافقين منك يا أمير المؤمنين! فأنت خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال عوف بن مالك: كذبتم، والله! لقد رأينا خيرا منه بعد النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: من هو يا عوف؟ فقال: أبو بكر، فقال عمر: صدق عوف وكذبتم، والله! لقد كان أبو بكر أطيب من ريح المسك وأنا أضل من بعير أهلي. "أبو نعيم في فضائل الصحابة، قال ابن كثير: إسناده صحيح".
ترجمہ:
35629۔۔۔ جبربن نضیر سے روایت ہے کہ ایک جماعت نے عمربن خطاب ؓ سے کہا کہ واللہ ہم نے کسی شخص کو آپ سے زیادہ انصاف کرنے والا زیادہ حق گو اور منافقین پر آپ سے زیادہ سخت نہیں دیکھا آپ رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر ہیں عوف بن مالک نے کہا واللہ تم نے جھوٹ بولا ہے واللہ ہم نے آپ ﷺ کے ان سے بہتر شخص کو دیکھا ہے پوچھا کون ہے اے عوف؟ بتایا ابوبکر ؓ عمر ؓ نے فرمایا عوف نے سچ بولا تم نے جھوٹ بولا اللہ کی قسم ابوبکر مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ اور میں اپنے گھروالوں کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہوں ۔
ابونعیم فی فضائل الصحابہ ابن کثیر نے کہا اس کی سند صحیح ہے
۔
۔
۔
۔
۔
🔴 حضرت عمر کو کیا خوف تھا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہ نازل ہو جائے؟
مجھ سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور انہیں ان کے والد اسلم نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر یعنی (سفر حدیبیہ) میں تھے، رات کا وقت تھا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کچھ پوچھا لیکن آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر! تیری ماں تجھ پر روئے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تم نے تین مرتبہ سوال کیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور مسلمانوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہ نازل ہو جائے۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ میں نے سنا ‘ ایک شخص مجھے آواز دے رہا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سوچا کہ میں تو پہلے ہی ڈر رہا تھا کہ میرے بارے میں کہیں کوئی وحی نازل نہ ہو جائے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے اور وہ مجھے اس تمام کائنات سے زیادہ عزیز ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» ”بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح دی ہے۔“ کی تلاوت فرمائی۔
بخاری شریف حدیث نمبر ۴۱۷۷
يَحْذَرُ الْمُنَافِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْـهِـمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُـمْ بِمَا فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ ۚ قُلِ اسْتَـهْزِئُـوْاۚ اِنَّ اللّـٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ( سورۃ التوبۃ آیت نمبر64)
منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورۃ نازل ہو کہ انہیں بتا دے جو منافقوں کے دل میں ہے، کہہ دو ہنسی کیے جاؤ، جس بات سے تم ڈرتے ہو اللہ اسے ضرور ظاہر کر دے گا۔
Gallery
Tap any image to view full screen