Back to حضرت عمر
جب عمر بن خطاب اپنی ہی بیوی کو "خدا کی دشمن" اور "نفسانی خواہشات کا کھلونا" کہتا ہے!
ابن شبہ نميری معتبر سند کے ساتھ یہ واقعہ نقل کرتے ہیں:
جب عمر گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی نے کہا: "اے امیرالمؤمنین! آپ عیاض پر کیوں ناراض ہوئے؟"
عمر نے غصے سے کہا: "اے خدا کی دشمن! تمہیں اس معاملے سے کیا لینا؟ تم کب سے میرے اور مسلمانوں کے معاملات میں دخل دینے لگی ہو؟ تم تو صرف ایک کھلونا ہو، جس سے کھیل لیا جاتا ہے اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے!"
-
(الف) اپنی بیوی کو "عدوةُ الله" یعنی خدا کی دشمن کہا۔
(ب) اپنی بیوی کو محض نفسانی کھیل کا آلہ قرار دیا، یہ کہہ کر کہ "تو ایک کھلونا (لُعبَة) ہے، جس سے کھیلا جاتا ہے اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے۔"
آئیے اسے خلاصے اور وضاحت کے ساتھ سمجھتے ہیں
حدیث کے چھ ماخذوں (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) میں ان سے روایت لی گئی ہے۔
محدثین نے انہیں ان القابات سے یاد کیا:
“الحافظ، الإمام، الحجة، شیخ الإسلام”
امام ابوحاتم، ابوولید طیالسی اور دیگر سب نے فرمایا:
"ثقة صدوق" (یعنی نہایت قابلِ اعتماد اور سچّا راوی)
ان سے بھی چھوں صحاح (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابوداؤد، ابن ماجہ) نے روایت کی۔
انہیں کہا گیا:
“الإمام، القدوة، شیخ الإسلام”
امام یحییٰ بن معین نے فرمایا:
"هو أعلم الناس بثابت"
(وہ ثابت البنانی کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے راوی تھے۔)
اور فرمایا گیا:
“من یطعن فی حماد بن سلمة فاتهمه على الإسلام”
(جو حماد بن سلمة پر طعن کرے، اس کے اسلام پر شک کرو۔)
یہ بھی بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ کے رواۃ میں شامل ہیں۔
محدثین نے فرمایا:
امام احمد بن حنبل: “ثابت تَثَبَّتَ فِی الحدیث” یعنی حدیث میں نہایت دقیق و محتاط تھے۔
نسائی: “ثقة”
ابوحاتم رازی: “أثبت أصحاب أنس بن مالک”
(حضرت انس بن مالک کے شاگردوں میں سب سے زیادہ ثابت قدم راوی)
بدری صحابی، جن کے بارے میں قرآن میں آیت نازل ہوئی:
﴿وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا...﴾ (التوبة:118)
ان کا صحابی ہونا روایت کو درجۂ صحتِ اعلیٰ (صحیح) تک پہنچاتا ہے۔
یہ تمام رواۃ:
ہیں، جیسا کہ سیر اعلام النبلاء، میزان الاعتدال، الاستیعاب، اور دیگر کتبِ جرح و تعدیل سے ثابت ہے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ:
“روایت کا کوئی سند نہیں”
یا
“یہ روایت ضعیف یا موضوع ہے”
باطل دعویٰ ہے، کیونکہ سند مکمل، متصل اور راویانِ ثقہ سے ثابت ہے۔
اسلام ویب نے صرف یہ دیکھا کہ روایت “مختصر منہاج القاصدین” میں ذکر ہوئی ہے، اور چونکہ وہ “احیاء العلوم” سے ماخوذ ہے، اس لیے عمومی طور پر اسے “ضعیف” کہہ دیا۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسی روایت کی اصل سند (جو اوپر مذکور ہے) صحیح راویوں کے ساتھ موجود ہے، مگر وہ سند انہوں نے پوری طرح دیکھی ہی نہیں۔
یہ روایت "صحیح الاسناد" ہے۔
اس کے تمام رواۃ جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں۔
اسلام ویب کی طرف سے اس روایت کو ضعیف یا بے سند کہنا علمی خیانت اور تدلیس ہے۔
اشعث بن قیس روایت کرتے ہیں: میں عمر بن خطاب کے ہاں مهمان ہوا۔ رات کے ایک حصے میں وہ اپنی زوجہ کے پاس گیا اور اسے مارا، پھر مجھے بلایا اور کہا:
Gallery
Tap any image to view full screen