سخت مزاجی
سخت مزاجی
🔴 وہ حضرات جو یہ کہتے ہیں کہ دوسرے خلیفہ (عمر بن خطاب) سے یہ بات بہت بعید ہے کہ وہ رسولِ اکرم ﷺ کی بیٹی سے سختی سے پیش آئے ہوں یا انہیں دھمکایا ہو، اور یہ کہ انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے کہا ہو:
 
📜 "اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر یہ لوگ بیعت کے لیے نہ آئے تو میں ان کے گھر کو، اس کے رہنے والوں سمیت، آگ لگا دوں گا" —
 
میں اہلِ سنت کے بھائیوں سے بہت دوستانہ سوال کرتا ہوں اور صحیح مسلم کی ایک روایت پیش کرتا ہوں، نہ کہ کسی دوسرے یا تیسرے درجے کی کتاب سے۔
 
درخواست ہے کہ اہلِ سنت حضرات وسعتِ نظر اور انصاف کے ساتھ اس روایت پر غور کریں اور اس کا جواب دیں:
 
📜فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد أن لا إله الا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة، فكان أول من لقيت عمر، فقال: ما هاتان النعلان يا أبا هريرة؟ فقلت: هاتان نعلا رسول الله صلي الله عليه و سلم بعثني بهما من لقيت يشهد ان لا إله إلا الله مستيقنا بها قلبه بشرته بالجنة. فضرب عمر بيده بين ثديي، فخررت لاستي، فقال: إرجع يا أبا هريرة. فرجعت إلي رسول الله صلي الله عليه و سلم فأجهشت بكاء و ركبني عمر، فإذا هو علي أثري. فقال رسول الله صلي الله عليه و سلم: مالك يا أبا هريرة؟ قلت: لقيت عمر فأخبرته بالذي بعثتني به، فضرب بين ثديي، ضربة خررت لاستي، قال: ارجع. قال: رسول الله صلي الله عليه و سلم: يا عمر! ما حملك علي ما فعلت؟ قال: يا رسول الله! بابي أنت و أمي، أبعثت أبا هريرة بنعليك من لقي يشهد أن لا إله إلا الله مستيقنا بها قلبه بشره بالجنة؟ قال: نعم. قال: فلا تفعل، فإني أخشي ان يتكل الناس عليها فخلهم يعملون.
 
📃 ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
“جو بھی اس دیوار کے پیچھے مجھے ملے اور یقینِ قلبی کے ساتھ لا إله إلا الله کی گواہی دے، اسے جنت کی خوشخبری دو۔”
میں (ابو ہریرہ) سب سے پہلے عمر سے ملا۔
انہوں نے کہا: “اے ابو ہریرہ! یہ دو نعلین (جوتے) کیا ہیں؟”
میں نے کہا: “یہ رسولِ خدا ﷺ کے نعلین ہیں، اور انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ جسے بھی ملوں اور وہ لا إله إلا الله پر یقین رکھتا ہو، اسے جنت کی بشارت دوں۔”
👈 تو عمر نے اپنے ہاتھ سے میرے سینے پر ایسا زور دار دھکا دیا کہ میں پیچھے گر پڑا۔
انہوں نے کہا: “واپس چلے جاؤ، اے ابو ہریرہ۔”
میں واپس رسولِ خدا ﷺ کے پاس آیا اور روتے ہوئے عرض کیا کہ عمر نے میرے ساتھ ایسا کیا۔
اتنے میں عمر بھی میرے پیچھے آئے۔
رسولِ خدا ﷺ نے پوچھا: “اے ابو ہریرہ! تمہیں کیا ہوا؟”
میں نے کہا: “یا رسول اللہ، میں عمر سے ملا، میں نے آپ کا پیغام پہنچایا، تو انہوں نے میرے سینے پر ایسا زور کا دھکا دیا کہ میں گر پڑا، اور کہا واپس جاؤ۔”
رسولِ خدا ﷺ نے عمر سے پوچھا: “اے عمر! تم نے یہ کیوں کیا؟”
انہوں نے کہا: “یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ نے ابو ہریرہ کو اپنے نعلین دے کر بھیجا کہ جو بھی لا إله إلا الله کہے، اسے جنت کی خوشخبری دے؟”
فرمایا: “ہاں۔”
👈 عمر نے کہا: “ایسا نہ کریں، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ لوگ صرف اسی پر بھروسہ کر لیں گے اور عمل چھوڑ دیں گے۔ انہیں چھوڑ دیں کہ وہ اعمال کریں۔”
 
📚 صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 45،
 
باب: "جو ایمان پر یقین کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرے"
 
❓❓جس شخص نے نبی اکرم ﷺ سے انکے حکم پر اس قدر جرات مندانہ انداز میں اعتراض کیا، اور ہاتھ اٹھانا معمول تھا اسکا، کیا یہ بعید ہے کہ وہی شخص رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کو دھمکی نہ دے؟
 
نوٹ اسکین کے ترجمے میں اسے باداب دیکھانے کیلئے جملے کا اضافہ کیا گیا ہے
 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2