ایک وہا/بی محقق نے اپنی کتاب میں خلیفہ دوم کے سنت رسول اللہ صلوات اللہ علیہ سے جہل کے بارے میں اس طرح لکھا ہے:

خلیفہ دوم نے بہت سے آراء جاری کیں کہ جب اسے سنت رسول اللہ صلوات اللہ علیہ کا علم ہوا اور اس نے دیکھا کہ اس کی آراء سنت کے مخالف ہیں تو انہیں تبدیل کر دیا۔
ــــــــــــــ
اب ہمارا سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ایسے شخص کو خلیفہ کیسے مانتے ہو؟
کیا سنت رسول اللہ سے جاہل شخص کو خلیفہ بننے کا حق ہے؟
ظاہر ہے یہ آراء سنت اور شریعت کے مطابق نہیں تھیں اور خلیفہ وقت نے خود یہ احکام جاری کیے تھے۔
ہم پھر پوچھتے ہیں: کیا ایسا شخص رسول اللہ کا خلیفہ بننے کا حق رکھتا ہے؟
Gallery
Tap any image to view full screen