Back to حضرت عمر

زید بن علی شراب پیتے تھے ?

زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
زید بن علی شراب پیتے تھے ?
✅ جواب
 
پہلے تو روایت ملاحظہ فرمائیں جسکا جواب خود اسی روایت میں موجود ہے
 
📜 حَمْدَوَيْهِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَنَانُ بْنُ سَدِيرٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِساً عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَكَانَ مِنْ رُؤَسَاءِ الزَّيْدِيَّةِ فَقَالَ: مَا تَرَى فِي النَّبِيذِ فَإِنَّ زَيْداً كَانَ يَشْرَبُهُ عِنْدَنَا ؟ قَالَ: مَا أَصَدِّقُ عَلَى زَيْدٍ أَنَّهُ يَشْرَبُ مُسْكِراً. قَالَ: بَلَى قَدْ شَرِبَهُ. قَالَ: فَإِنْ كَانَ فَعَلَ فَإِنَّ زَيْداً لَيْسَ بِنَبِيٍّ وَلَا وَصِيَّ نَبِيٍّ إِنَّمَا هُوَ رَجُلٌ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ."
 
📃 حمدویہ نے کہا: ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حنان بن سدیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حسن بن الحسین کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سعید بن منصور آیا، اور وہ زیدیہ کے سرداروں میں سے تھا۔ اس نے کہا: تم نبیذ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ کیونکہ ہمارے نزدیک زید اسے پیتے تھے۔
 
انہوں نے کہا: میں زید کے بارے میں اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ وہ کوئی نشہ آور چیز پیتے تھے۔
اس نے کہا: کیوں نہیں، وہ اسے پی چکے ہیں۔
 
انہوں نے کہا: اگر انہوں نے ایسا کیا بھی ہو، تو زید نہ نبی ہیں اور نہ کسی نبی کے وصی، بلکہ وہ آلِ محمد میں سے ایک شخص ہیں، جو غلطی بھی کر سکتا ہے اور درست بھی۔
 
📚 رجال طوسی 2/506
 
👈 تو اول تو واضح ہے کہ اگر زید نے کوئی بُرا فعل انجام دیا ہے تو اسکا گناہ اسکے سر ہے۔ کیوں کہ نہ تو زید نبی ہے اور کسی نبی کے وصی یا کسی وصی کے وصی ہیں
 
👈 نمبر 2 : یہاں نبیذ کی بات ہو رہی ہے اور نبید اگر سخت یا تیز یا بہت زیادہ گاڑھی یا پکائی نہ گئی ہو تو حلال ہے یعنی وہ نشہ آور نہیں ہوتی اور اگر شدید یا تیز ہو تو وہ نشہ آور ہوتی ہے
 
یہ واضح ہونے کے بعد
 
🔴 اب میں یہاں آپ کی خدمت میں کچھ حوالہ جات رکھتا ہوں کہ خلیفہ الثانی صاحب تیز و شدید نبیذ پیتے تھے۔
 
جی وہی نبیذ جس کے پینے پر آپ نے زید پر علی کو تو شرابی کہہ دیا جبکہ وہ شدید یا تیز نبیذ نہیں پیتے تھے
 
اب دیکھتے ہیں کہ آپ اپنے خلیفہ پر کیا حکم لگاتے ہیں جو شدید و تیز نبیذ پیتے تھے
 
⭕ خلیفہ الثانی نبیذ کے نام پر شراب پیتے تھے، اور اس بارے میں مخالفین کی کتب میں بکثرت روایات موجود ہیں۔
 
▪️ان میں سے ایک روایت متقی ہندی نے انس سے نقل کی ہے کہ:
 
📜 "عمر کو سب سے زیادہ پسند کھانا ثفل تھا اور سب سے زیادہ پسند مشروب نبیذ تھا!"
 
📚 کنز العمال، ج12، ص626
 
▪️بلکہ خلیفہ ثانی کو نبیذ سے حد درجہ لگاؤ تھا، یہاں تک کہ نشے کی حد تک۔
 
📜 روایت ہے کہ ان کے پاس کشمش کا نبیذ لایا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا اور اس میں ملا دیا (ظاہر ہے کیونکہ وہ تیز/شدید تھی) ، پھر پیا، اور کہا:
"طائف کے نبیذ سے خاص محبت ہے!"
 
📚 المبسوط، ج24، ص8
 
عمر اپنے نبیذ پینے کی یہ توجیہ پیش کرتے تھے کہ یہ اونٹ کے گوشت کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بیہقی نے عمرو بن میمون سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا:
 
📜 "ہم نبیذ اس لیے پیتے ہیں کہ یہ ہمارے پیٹ میں اونٹ کے گوشت کو کاٹ دیتا ہے تاکہ وہ ہمیں تکلیف نہ دے!"
 
📚 سنن البیہقی، ج8، ص299
 
▪️عمر کا نبیذ اور شراب سے شغف زندگی کے آخری لمحات تک برقرار رہا۔
 
📜 خطیب نے عمرو بن میمون سے روایت کیا ہے:
 
"میں اس وقت موجود تھا جب عمر کو زخمی کیا گیا، تو ان کے پاس سخت نبیذ لایا گیا اور انہوں نے اسے پیا!"
 
📚 تاریخ بغداد، ج6، ص154
 
👈 یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ ابن میمون نے نبیذ کو "شدید" (یعنی تیز/نشہ آور) قرار دیا، نہ کہ ہلکا جو نشہ نہ کرے۔
 
▪️اسی طرح ایک اور روایت بیہقی نے نقل کی ہے:
 
📜 "جب عمر کو ان کے گھر لایا گیا تو طبیب نے پوچھا: تمہیں کون سا مشروب پسند ہے؟ انہوں نے کہا: نبیذ! پھر نبیذ لایا گیا، انہوں نے پیا تو وہ ان کے زخموں میں سے نکل آیا!"
 
📚 سنن البیہقی، ج3، ص113
 
مصنف ابن ابی شیبہ میں لکھا ہے کہ
 
📜 حدثنا وكيع قال : حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس ابن أبي حازم قال: حدثني عتبة بن فرقد قال: قدمت على عمر فدعا بعس من نبيذ قد كاد يصير خلا فقال: اشرب، فأخذته فشربته فما كدت أن أسيغه، ثم أخذه فشربه ثم قال: يا عتبة! إنا نشرب 👈هذا النبيذ الشديد👉 لنقطع به لحوم الإبل في بطوننا أن يؤذينا.
 
وکیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، انہوں نے عتبہ بن فرقد سے روایت کی کہ:
 
میں عمر کے پاس آیا تو انہوں نے نبیذ کا ایک پیالہ منگوایا جو تقریباً سرکہ بننے کے قریب تھا۔ انہوں نے کہا: پیو۔ میں نے لے کر پیا تو مجھے بمشکل ہی نگلا گیا۔ پھر انہوں نے خود اسے لیا اور پیا، پھر فرمایا:
 
"اے عتبہ! 👈 ہم یہ تیز نبیذ اس لیے پیتے ہیں 👉 تاکہ اونٹ کے گوشت کو اپنے پیٹوں میں توڑ دیں، تاکہ وہ ہمیں تکلیف نہ دے۔"
 
📚 المصنف 12/215
 
📜حدثنا شريك، عن إبراهيم، عن مجاهد قال : قال عمر : إني رجل معجار البطن، أو مشعار البطن، فأشرب هذا السويق فلا يلائمني، وأشرب هذا اللبن فلا يلائمني وأشرب هذا النبيذ الشديد فيسهل بطني۔
 
📃 شریک نے روایت کیا، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے مجاہد سے نقل کیا کہ عمر نے کہا:
 
"میں پیٹ کا سخت مزاج آدمی ہوں (یعنی میرا معدہ سخت ہے)، نہ سَویق مجھے موافق آتا ہے، نہ دودھ میرے لیے ٹھیک رہتا ہے، لیکن یہ تیز نبیذ میرے پیٹ کو نرم کر دیتا ہے (یعنی ہضم میں مدد دیتا ہے)۔"
 
📚 المصنف 12/216
 
⭕ خلیفہ الثانی شدید نبیذ پینا پسند کرتے تھے اور خلیفہ صاحب والی نبیذ پینے سے ایک آدمی مست ہو گیا
 
📜 17015 – عبدالرزاق نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے اسماعیل نے بتایا کہ ایک شخص نے مدینہ کے راستے میں عمر بن خطاب کے نبیذ میں سے پیا اور نشہ میں آ گیا، (کیوں کہ وہ تیز و شدید تھا) تو عمر نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ ہوش میں آ گیا، پھر اس پر حد جاری کی۔ پھر عمر نے اس مشروب کو پانی سے توڑا (ملایا) اور اس میں سے پیا۔
 
اور نافع بن عبدالحارث نے مکہ میں، جب وہ عامل تھے، عمر کے لیے نبیذ تیار کیا، تو عمر نے اسے کچھ دیر چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ تیز ہو گیا، پھر اسے منگوایا، جب اسے سخت پایا تو اسے برتنوں میں ڈال کر پانی سے کمزور کیا، پھر خود بھی پیا اور لوگوں کو بھی پلایا۔
 
📚الصنعانی – المصنف – کتاب الأشربہ – باب حد فی نبیذ الأسقیہ
جلد: (9) – صفحہ: (224)
 
📜 23901 – ابو بکر نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبیدہ بن حمید نے، انہوں نے ابو مسکین سے، انہوں نے ہذیل بن شرحبیل سے روایت کی کہ عمر بن خطاب قبیلہ ثقیف کے پاس سے گزرے اور ان سے پانی مانگا۔ انہوں نے کہا: اپنا نبیذ چھپا لو، پھر انہیں پانی پلایا۔ عمر نے کہا: اے ثقیف والو! مجھے اپنے نبیذ میں سے پلاؤ۔ چنانچہ انہوں نے انہیں پلایا۔ پھر عمر نے غلام کو حکم دیا کہ اسے انڈیلا جائے، پھر اسے ہاتھ سے پکڑا اور کہا: تم لوگ اس تیز مشروب کو پیتے ہو، جسے اس میں شک ہو وہ اسے پانی سے توڑ لے۔
 
📚 ابن ابی شیبہ – المصنف
 
کتاب الأشربہ – نبیذ کی رخصت اور اس کے پینے کے بارے میں
جلد: (5) – صفحہ: (82)
 
📜 28401 – ابو بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن مسہر نے، انہوں نے شیبانی سے، انہوں نے حسان بن مخارق سے روایت کی کہ انہیں خبر ملی کہ عمر بن خطاب ایک شخص کے ساتھ سفر میں تھے، وہ روزے سے تھا، جب اس نے افطار کیا تو عمر کے مشکیزے سے پیا جس میں نبیذ تھا اور اونٹ کے ہلانے سے وہ مل چکا تھا، اس نے پیا تو نشہ ہو گیا۔ عمر نے اس پر حد جاری کی۔ اس نے کہا: میں نے تو آپ کے مشکیزے سے پیا ہے۔ عمر نے کہا: ہم نے تمہیں نشہ کرنے پر سزا دی ہے۔
 
📚 ابن ابی شیبہ – المصنف
کتاب الحدود – نبیذ پر حد کے بارے میں
جلد: (5) – صفحہ: (502)
 
📜 17336 – روایت ہے کہ عمر نے ایک شخص کے مشروب کا بچا ہوا حصہ پیا جس پر انہوں نے حد جاری کی تھی۔
📜 17338 – ایک شخص نے عمر کے برتن سے پیا اور نشہ میں آ گیا، اسے عمر کے پاس لایا گیا، اس نے عذر پیش کیا کہ میں نے آپ کے برتن سے پیا ہے۔ عمر نے کہا: میں تمہیں نشہ کی وجہ سے سزا دے رہا ہوں، پھر اسے سزا دی۔
 
📚 البيهقي – معرفة السنن والآثار
کتاب الأشربہ
جلد: (13) – صفحہ: (23)
 
📜 17449 – عبدالرحمن بن عثمان کہتے ہیں: میں عمر بن خطاب کے ساتھ مکہ جا رہا تھا، ثقیف کے ایک قافلے نے انہیں نبیذ کے دو برتن تحفہ دیے۔ عمر نے ان میں سے ایک پیا۔ پھر انہیں دودھ دیا گیا تو انہوں نے دوسرے کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ تیز ہو گیا۔ پھر جب اسے پینا چاہا تو اسے سخت پایا، تو کہا: اسے پانی سے توڑ دو، پھر اسے پیا۔
 
📚 البيهقي – السنن الكبرى
کتاب الأشربہ
جلد: (😎 – صفحہ: (530)
 
📜👉 6458 – بعض لوگوں نے ان آثار کی بنا پر نبیذ کی تھوڑی اور زیادہ مقدار دونوں کو حرام قرار دیا، جبکہ دوسرے لوگوں نے کہا کہ جو مقدار نشہ نہ کرے وہ جائز ہے اور جو نشہ کرے وہ حرام ہے۔ ان کے لیے دلیل یہ تھی کہ بعض صحابہ سے، جن میں عمر بھی شامل ہیں، نبیذ کی تھوڑی مقدار کے جواز کی روایت موجود ہے۔
 
📚 الطحاوی – شرح معانی الآثار
کتاب الأشربہ
جلد: (4) – صفحہ: (217)
 
📜 6459 – روایت ہے کہ عمر سفر میں تھے، ان کے پاس نبیذ لایا گیا، انہوں نے پیا تو چہرہ بگاڑا، پھر کہا: طائف کے نبیذ میں خاص کشش ہے، پھر پانی منگوایا اور اس میں ملا کر پیا۔
 
الطحاوی – شرح معانی الآثار
کتاب الأشربہ
جلد: (4) – صفحہ: (218)
 
اور ظاہر ہے کہ بعض مخالف فقہاء کو مجبوراً ایسا حکم گھڑنا پڑا جو عمر کے عمل کے مطابق ہو اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے خلاف ہو، وہ یہ کہ نبیذ اس حد تک پینا جائز ہے جب تک نشہ نہ ہو، اور اگر نشہ ہو جائے تو پھر حرام ہے۔
جبکہ یہ حکم اس اصول کے خلاف ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہر شخص کے لیے نشہ کی راہ کھول دی جائے کہ وہ نبیذ پئے اور یہ دعویٰ کرے کہ اسے نشہ نہیں ہوا۔
تمام تر حوالہ جات ترتیب کے ساتھ موجود ہیں
 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27