ناسبی کا ایک روایت کو لے کر آئمہ ع اہل بیت ع پر طعن
کیا یہاں اس روایت میں ہونٹوں کے بوسے کی بات ہو رہی ہے ؟
روایت ملاحظہ فرمائیں
اور جب تم اسے مبارک باد دو تو یہ کہو:
"اللہ تمہارا حج قبول کرے، تمہاری کوشش پر رحم فرمائے، تمہارے خرچ کا بدلہ دے، اور اسے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے گھر (بیت اللہ) کی آخری حاضری نہ بنائے۔"
کوئی ناسبی بتائے گا کہ آخر انکے زہن انکے خلفا کی طرح گندہ کیوں ہے ؟
آخر کیا خرابی ہے اس روایت میں؟
جو لوگ حج عمرہ و زیارات ہر جاتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ
نہ کہ صرف سعودیہ یا عراق بلکہ تمام عرب ممالک میں۔
"بین عینیه وفاه"
یعنی “اس کی آنکھوں کے درمیان اور اس کے منہ کے پاس”
یہاں مراد “ہونٹوں پر بوسہ” نہیں، بلکہ احتراماً چہرہ/پیشانی کے قریب بوسہ دینا ہے۔
لہذا ناسبی کا طعن اسکی جہالت کی عکاسی ہے
اب زرا اسکا جواب بھی ملاحظہ کر لیں کہ یہ لون/ڈے باز امام کون تھے؟
وہ ایک قول تو سنا ہوگا جیسا حکمران ویسی عوام 
Gallery
Tap any image to view full screen