آج جمعہ کا دن تھا تو دفتر سے جلدی نکل آیا
راستے پر سڑک کنارے ایک مسجد سے خطبے کی آواز آ رہی تھی تو میں نے غور سے سننا شروع کر دیا
کہ شاید ولادت سیدہ ص کے حوالے سے کوئی شان بیان کی جا رہی ہوگی
لیکن روایات بیان ہو رہی تھیں یہ والی 👇🏼
1⃣ 📜 مجھے آسمان پر چڑھایا گیا تو میں جب بھی کسی آسمان سے گذرتا اس میں اپنا نام محمد رسول اللہ اور اس کے پیچھے ابوبکر صدیق کا نام لکھا ھوا پاتا
2⃣ 📜 ابوبکر جیسا کون ھو سکتا ھے کہ ( جب) لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو اس نے میری تصدیق کی اور مجھ پر ایمان لایا
مجھے فوراً اندازہ ہو گیا کہ 2 دن بعد حضرت ابوبکر کا یوم وفات ہے اسلئے یہ کچھ بیان ہو رہا 💡
خیر میں چل پڑا
پھر گھر کے پاس کی مسجد کے پاس سے گزرا تو روایت بیان ہو رہی تھی یہ والی 👇🏼
3⃣ 📜 حضرت ابوبکر کو دفن کرتے وقت میت کو پہلے قبر نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر رسول اللّه ص سے اجازت طلب کی گئی۔ اور قبر مبارک سے آواز آئی حبیب کو حبیب سے ملا دو۔
✅ اگر انکے نزدیک ولادت سیدہ ص کی صحیح روایت کوئی اور ہے تو ٹھیک ہے ہمیں کوئی مسلہ نہیں ۔ جو انکے نزدیک صحیح ہے وہی منانی چاہیے 🌹
مگر حد ہے جو بیان ہو رہی ہیں وہ تو صحیح بیان کریں گھڑی گئی روایات جو بیان کر کر کے لوگوں کو گم_راہ کیا ہوا
لوگوں کے پاس پہلے ہی ٹائم نہیں تصدیق کرنے کا۔
کیا انکے علما ان پر کوئی ایکشن نہیں لیتے ؟
ہمارے ذاکرین اگر کوئی گھڑی ہوئی روایت بیان کر دیں فوراً علما اس پر ایکشن لیتے ہیں۔
اپنے مومنین کیلئے بہن بھائیوں کیلئے ان تینوں روایات کی حقیقت یہاں 👇🏼 بیان کر رہا ہوں انکے اپنے علما کی زبانی
1⃣ 📜 مجھے آسمان پر چڑھایا گیا تو میں جب بھی کسی آسمان سے گذرتا اس میں اپنا نام محمد رسول اللہ اور اس کے پیچھے ابوبکر صدیق کا نام لکھا ھوا پاتا
✅ *جواب*
⚖️ امام شوکانی ، امام سیوطی اور علامہ پٹنی نے اسے *وضاع (گھڑی ہوئی)* کہا ھے ۔
📚 الفوائد المجموعۃ ص 333 اللالی المضوعۃ 271/1 تذکرۃ الموضوعات ص 93
📚 حوالہ : 500 سو مشہور ضعیف احادیث ص 85
⚖️ *امام ھثیمی* نے فرمایا کہ اس میں *عبداللہ بن ابراھیم غفاری راوی ضعیف ھے*
📚 مجمع الزوائد 19/9
2⃣ 📜 ابوبکر جیسا کون ھو سکتا ھے کہ ( جب) لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو اس نے میری تصدیق کی اور مجھ پر ایمان لایا
✅ *جواب*
⚖️ *یہ حدیث موضوع ہے*
موضوع حدیث ضعیف حدیث کی وہ قسم ھے جس میں کسی من گھڑت خبر کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کردیا گیا ھو ۔
📚 الفوائدالمجموعہ ص 332 ۔ الموضوعات لا بن الجوزی 316/1
📚 500 سو مشہور ضعیف احادیث ص 85
3⃣ 📜 کیا ابوبکر کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین کے وقت قبر نبوی ص سے اجازت طلب کی گئی؟؟
روایت بیان کی جاتی ہے کہ
📜 «أَمَّا الْآثَارُ» فَلْنَبْدَأْ بِمَا نُقِلَ أَنَّهُ ظَهَرَ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ مِنَ الْكَرَامَاتِ ثُمَّ بِمَا ظَهَرَ عَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ كَرَامَاتِهِ أَنَّهُ لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَتُهُ إِلَى بَابِ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُودِيَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ بِالْبَابِ فَإِذَا الْبَابُ قَدِ انْفَتَحَ وَإِذَا بِهَاتِفٍ يَهْتِفُ مِنَ الْقَبْرِ أَدْخِلُوا الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ
📝 حضرت ابوبکر کو دفن کرتے وقت میت کو پہلے قبر نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر رسول اللّه ص سے اجازت طلب کی گئی۔ اور قبر مبارک سے آواز آئی حبیب کو حبیب سے ملا دو۔
📚 تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (21/ 433)
✅ *جواب۔*
عرض ہے کہ یہ اثر یا کرامت *بے سند ہے،* امام رازی نے اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا لہذا غیر مسموع ہے۔
نیز اس میں وصیت ابوبکر رض کا تذکرہ بھی نہیں ہے ۔
الغرض یہ کہ تفسیر رازی میں مذکورہ بات مکمل ہمیں نہیں مل سکی
👈🏼 مگر بعض دوسری کتب میں یہ روایت ملتی ہے اس کی حقیقت آگے ملاحظہ ہو:
امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571) نے کہا:
📜 أنبأنا أبو علي محمد بن محمد بن عبد العزيز بن المهدي وأخبرنا عنه أبو طاهر إبراهيم بن الحسن بن طاهر الحموي عنه أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن أحمد العتيقي سنة سبع وثلاثين وأربع مائة نا عمر بن محمد الزيات نا عبد الله بن الصقر نا الحسن بن موسى نا محمد بن عبد الله الطحان حدثني أبو طاهر المقدسي عن عبد الجليل المزني عن حبة العرني عن علي بن أبي طالب قال لما حضرت أبا بكر الوفاة أقعدني عند رأسه وقال لي يا علي إذا أنا مت فغسلني بالكف الذي غسلت به رسول الله صلى الله عليه وسلم وحنطوني واذهبوا بي إلى البيت الذي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنوا فإن رأيتم الباب قد يفتح فادخلوا بي وإلا فردوني إلى مقابر المسلمين حتى يحكم الله بين عباده قال فغسل وكفن وكنت أول من يأذن إلى الباب فقلت يا رسول الله هذا أبو بكر مستأذن فرأيت الباب قد تفتح وسمعت قائلا يقول ادخلوا الحبيب إلى حبيبه فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق
📚 [تاريخ دمشق لابن عساكر: 30/ 436 واخرجہ ایضا أبو الفرج عبد المنعم بن كليب الحراني من طریق ابی علی فی مشيخة ابن كليب رقم 18 ترقیم جوامع الکلم]۔
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس پر جرح کرتے ہوئے کہا:
📜 هذا *منكر وراويه* أبو الطاهر موسى بن محمد بن عطاء المقدسي وعبد الجليل *مجهول* والمحفوظ أن الذي غسل أبا بكر امرأته أسماء بنت عميس
📚 تاريخ دمشق لابن عساكر: 30/ 437
اس کی سند میں موجود ابو طاہر المقدسی یہ موسى بن محمد بن عطاء بن طاهر البَلْقاويّ المقدسيّ ہے جیسا کہ خود امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے بھی صراحت کردی ہے ۔
👈 یہ شخص کذاب ہے ۔
امام موسى بن سهل رحمه الله (المتوفى262) نے کہا:
📜 أشهد عليه أنه كان يكذب
📚 الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 161 واسنادہ صحیح]۔
امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264) نے کہا:
📜 كان يكذب
📚 الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 161
امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277) نے کہا:
📜 يكذب وياتى بالا باطل
📚 الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 161
امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322) نے کہا:
📜 يُحَدِّثُ عَنِ الثِّقَاتِ، بِالْبَوَاطِيلِ فِي الْمَوْضُوعَاتِ
📚 الضعفاء الكبير للعقيلي: 4/ 169
ان کے علاوہ اوربھی بہت سارے ائمہ نے اس پر جرح کی ہے۔
نیز سند میں اور بھی علتیں ہیں
💯 عرض ہے کہ یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے ۔
بقلم: بدر علی
#تعلیمات_اہلبیت#بدر_علی
تبدیلی ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen