اس روایت کو امام دیلمی رحمہ اللہ نے الفردوس بمأثور الخطاب میں روایت کیا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً .
أبو بكر مني وأنا منه وأبو بكر أخي في الدنيا والآخرة
ابوبکر مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور ابوبکر دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں۔ رضی اللہ عنہ
( كتاب الفردوس بمأثور الخطاب 1/437 )
شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی م852ھ رحمہ اللہ نے مختصر مسند الفردوس میں اسکی سند ذکر کرکے فرمایا ہے .
" قلت: عبد الرحمن كذبوه ".
میں کہتا ہوں عبد الرحمن بن عمرو بن جبلة کو محدثین نے جھوٹا قرار دیا ہے .
( تسدید القوس مختصر مسند الفردوس 1/530 )
ایسا ہی علامہ مصطفیٰ بن کمال الدین بکری م1162ھ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسکی سند میں عبد الرحمن بن عمرو بن جبلة ہے جو جھوٹا ہے ۔
( الصلوات الهامعة بمحبة الخلفاء الجامعة ص17 )
اسی طرح امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بھی اس راوی کو متروک احادیث گھڑنے والا قرار دیا .
اسی طرح امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس راوی کو جھوٹا قرار دیا ہے .
( كتاب ديوان الضعفاء :- 2472 )
اسی طرح امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی اسکو کذاب قرار دیا .
( لسان الميزان :- 4663 )
لہذا ثابت ہوا کہ یہ روایت موضوع ہے کذاب راوی کی وجہ سے .
عرب کے محدث ناصر الدین البانی نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا .
( كتاب سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 5/109 )
اسی طرح محدث احمد بن صدیق الغماری المالکی نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے .
( كتاب المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي 1/98 )
صحیح_حدیث
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن عليا مني وانا منه وهو ولي كل مؤمن بعدي . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور میرے بعد وہ ہر مومن کا ولی ہوگا۔“ رضی اللہ عنہ ...
اس حدیث امام احمد نے "مسند" میں ابن حبان نے "صحیح" میں حاکم نے "مستدرک" میں ترمذی نے "سنن" میں اور نسائی نے "خصائص" میں بسند حسن صحیح روایت کیا ہے تخریج و تحقیق کے لیئے ملاحظہ فرمائیں ۔ رحمهم الله
( سلسله احاديث صحيحه :- 3276 )
«. . . عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ , أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ . . .»
”. . . یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں . .
اس حدیث کو امام احمد نے "مسند" میں امام بخاری نے "الادب المفرد" میں ترمذی نے "سنن" میں حاکم نے "مستدرک" میں ابن ماجہ نے "سنن" میں بسند حسن صحیح روایت کیا تخریج و تحقیق کے لئے ملاحظہ فرمائیں ۔ رحمهم الله
( سلسله احاديث صحيحه :- 1227 )
هذا ما عندي والعلم عندالله
✍🏻 سید_محمد_عاقب_حسین