🔴 روایتِ ضعیف، حتی به تصریح علمای اهل سنت 🔴
‼️⁉️ حقیقت یہ ہے کہ عمریہ (اہل سنت) کے پاس خلیفہ اول ابوبکر کے فضائل میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے جس کی سند صحیح ہو، جبکہ وہ اس خلیفہ کو "افضل الناس بعد النبی" (نبی کے بعد سب سے افضل) ماننے کے بڑے دعوے کرتے ہیں۔
روایت:
📜 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ قثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ فَقُلْتُ: مَا قَوْلُكَ فِي حِلْيَةِ السُّيُوفِ؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ، قَدْ حَلَّى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ سَيْفَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَتَقُولُ الصِّدِّيقُ؟ قَالَ: فَوَثَبَ وَثْبَةً وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ قَالَ: نَعَمُ الصِّدِّيقُ، نَعَمُ الصِّدِّيقُ، نَعَمُ الصِّدِّيقُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَمَنْ لَمْ يَقُلْ لَهُ الصِّدِّيقَ فَلَا صَدَّقَ اللَّهُ لَهُ قَوْلًا فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَةِ۔
📃 عروہ بن عبداللہ کہتے ہیں:
میں امام محمد بن علی الباقر علیہ السلام کے پاس آیا اور عرض کیا: "آپ کی رائے تلوار پر زیور چڑھانے (چاندی یا سونے کی پٹی لگانے) کے بارے میں کیا ہے؟"
تو امام نے فرمایا: "اس میں کوئی حرج نہیں، ابوبکر صدیق نے اپنی تلوار پر زیور چڑھایا تھا۔"
میں نے پوچھا: "آپ اسے صدیق کہتے ہیں؟"
تو امام اٹھ کھڑے ہوئے، قبلہ رخ ہو کر فرمایا:
"ہاں، صدیق، ہاں، صدیق، ہاں، صدیق۔ جس نے اسے صدیق نہ کہا، اللہ تعالیٰ اس کی بات دنیا و آخرت میں سچ نہ کرے۔"
اہم نکتہ:
یہ روایت اکثر اہل سنت کی کتب میں امام باقر علیہ السلام کی طرف نسبت دی جاتی ہے، تاکہ ابوبکر کو "صدیق" کے لقب پر امام اہل بیت سے تائید دلائی جائے۔
لیکن اس روایت کی سند میں کئی اہم نکات ہیں جن کی بنا پر یہ روایت ضعیف و مشکوک سمجھی جاتی ہے، مثلاً:
1. یونس بن بُکیر: وہ ناصبی رجحان رکھتا تھا اور اہل بیت کے خلاف روایات نقل کرنے میں معروف تھا۔
2. ابو عبداللہ الجعفی: اگر اس سے مراد عبداللہ بن شُریک الجعفی ہو تو وہ اہل سنت کے نزدیک بھی متکلم فیہ (ناقابل اعتماد) راوی ہے۔
3. عروہ بن عبداللہ: یہ شخص اہل بیت سے روایات کے لیے معروف نہیں، اور اس کا ذکر عام طور پر صرف ایسی روایات میں آتا ہے جن سے اہل سنت اپنی حمایت کشید کرتے ہیں۔
شیعہ علماء کی رائے:
یہی روایت شیعہ کتب میں بھی سنی کتب سے منقول ہوئی ہے ، شیعہ محدثین اور علم رجال کے ماہرین اس روایت کو موضوع (من گھڑت) قرار دیتے ہیں، کیونکہ اہل بیت علیہم السلام کا مسلک اور اقوال خلفائے ثلاثہ کے بارے میں واضح اور مستند طریقے سے موجود ہیں، جن میں ایسی مدح موجود نہیں۔
📑 بدر علی .
#تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#بدر_علی #التماس_دعا #talimaat_e_ahlbait
Gallery
Tap any image to view full screen