Back to حضرت ابوبکر

حضرت ابوبکر خلیفہ یا بادشاہ؟

حضرت ابوبکر خلیفہ یا بادشاہ؟

ابو بکر ابن ابی قحافہ: خلیفہ یا بادشاہ؟

 

📜 محمد بن سعد اپنی کتاب الطبقات میں لکھتا ہے:

مسلم بن ابراہیم نے ہشام دستوائی سے، اور انہوں نے عطا بن سائب سے روایت کی:

جب ابو بکر خلیفہ بنے، تو ایک صبح وہ اپنے کندھے پر کچھ کپڑے رکھ کر بازار جانے کے لیے نکلے۔ راستے میں عمر بن خطاب اور ابو عبیدہ بن جراح سے ملاقات ہوئی۔

 

انہوں نے کہا:

"اے رسول خدا ﷺ کے خلیفہ! کہاں جا رہے ہو؟"

 

ابو بکر نے کہا: "بازار جا رہا ہوں۔"

 

انہوں نے پوچھا: "وہ کیوں؟"

 

ابو بکر نے جواب دیا:

"میرے اہل و عیال اور گھر والوں کا خرچ کہاں سے چلے گا؟"

 

انہوں نے کہا:

"واپس چلو، ہم تمہارے لیے وظیفہ مقرر کر دیتے ہیں۔"

 

پس ان کے لیے روزانہ آدھی بکری کا گوشت اور ایک لباس مقرر کر دیا گیا۔

 

پھر عمر نے کہا: "قضاوت کو میرے سپرد کر دو"، اور ابو عبیدہ نے کہا: "غنائم کی نگرانی مجھے دے دو۔"

 

📚 الطبقات الكبرى، ج 3، ص 168

 

⭕ نکتہ:

 

یہاں عمر کہہ رہا ہے کہ "قضاوت مجھے دے دو"۔ لیکن جب وہ خلیفہ بنا تو اس نے کہا:

"وأقضانا علي" — یعنی "ہمارے درمیان بہترین قاضی علی بن ابی طالب ہیں"۔

 

تو سوال یہ ہے:

 

اگر عمر نے خود اعتراف کیا کہ علیؑ سب سے بہتر قاضی ہیں، تو وہ خود قضاوت کے لیے کیوں لپک رہا تھا؟

 

کیا یہ ریاست اور اقتدار کی خواہش نہیں تھی؟

 

✅ روایت کی سند کی جانچ:

 

1. مسلم بن ابراہیم الازدی: ثقہ اور قابلِ اعتماد

https://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=7455

 

2. ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی: ثقہ اور مضبوط

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=8035

 

3. عطا بن سائب ثقفی: صدوق اور حسن الحدیث

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=5629

 

🔴 اگلی روایت:

 

عمرو بن میمون اپنے والد سے نقل کرتے ہیں:

جب ابو بکر خلیفہ بنے، تو ان کے لیے دو ہزار درہم وظیفہ مقرر کیا گیا۔

 

ابو بکر نے کہا:

"اس رقم کو بڑھا دو کیونکہ میرے اہل و عیال زیادہ ہیں، اور خلافت نے مجھے کاروبار سے روک دیا ہے۔"

 

پس پانچ سو درہم مزید بڑھا دیے گئے 😳۔

 

راوی کہتا ہے: یا تو یہ دو ہزار اور پانچ سو تھے، یا دو ہزار تھے جن میں پانچ سو کا اضافہ کر دیا گیا۔

 

📚 الطبقات الكبرى، ج 3، ص 169

 

✅ روایت کی سند کی جانچ:

 

1. احمد بن عبداللہ بن یونس: ثقہ اور حافظ

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=465

 

2. ابو بکر بن عیاش اسدی: صدوق اور حسن الحدیث

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=130

 

3. عمرو بن میمون بن مہران جزری: ثقہ

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=6208

 

4. میمون بن مہران جزری: ثقہ اور فقیہ

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=7822

 

⭕ تبصرہ:

اہلِ سنت کے خلفاء کو مال و دولت سے خاص محبت تھی ۔

 

عمر کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ مرے، تو صرف ایک وارث کو ہی ایک لاکھ سکے ملے۔

 

اور ابو بکر نے بھی خلافت سنبھالتے ہی بیت المال سے اپنی تنخواہ طے کر لی۔ 😑

 

رسولِ خدا ﷺ کا حال:

عائشہ روایت کرتی ہیں:

"رسول اللہ ﷺ نے نہ تو کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری اور نہ ہی اونٹ۔"

 

📚 صحیح مسلم، ج 3، ص 1256، ح 18

 

یہ واضح فرق ظاہر کرتا ہے کہ رسول ﷺ نے دنیاوی مال کو اہمیت نہیں دی، لیکن بعد میں آنے والوں نے خلافت کو اقتدار اور مالی منفعت کا ذریعہ بنا لیا۔

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1