Back to حضرتِ عثمان

کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟

کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟
کیا عثمان کی قبر جنت البقع میں یے ؟

🔴 کیا حضرت عثمان کی قبر جنت البقیع میں ہے ؟

 

⭕ ابن عساکر لکھتا ہے کہ 

 

اور حضرت عثمان بن عفانؓ کی قبر کی زیارت کرے، کیونکہ وہ ظاہر ہے اور اس پر ایک بلند گنبد موجود ہے، 👈 لیکن وہ جنت البقیع کے اندر نہیں ہے۔

 

ہم نے زہری اور عروہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: جب حضرت عثمانؓ کو شہید کیا گیا تو انصار نے انہیں جنت البقیع میں دفن کرنے سے منع کیا، اس لیے انہیں حَشّ کوکب میں دفن کیا گیا۔

اور حضرت عثمان بن مظعونؓ پہلے شخص تھے جو جنت البقیع میں دفن ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے مہراس کے نچلے حصے کو ایک علامت بنا دیا تاکہ لوگ اس کے اردگرد دفن کیے جائیں۔

 

👈 پھر جب حضرت معاویہؓ کی حکومت قائم ہوئی اور انہوں نے مروان کو مدینہ کا والی بنایا، تو اس نے اس باغ (حشّ کوکب) کو جنت البقیع میں شامل کر دیا، اور وہ پتھر (مہراس) اٹھا کر حضرت عثمان بن عفانؓ کی قبر پر رکھ دیا اور کہا: “عثمان اور عثمان”، پھر لوگ حضرت عثمانؓ کے اردگرد دفن ہونے لگے۔

 

📚 اتحاف الزائر و اطراف المقیم للسائر - ابن عساکر - ص 92

 

⭕ ابن کثیر دمشقی، سلفی اور ابن تیمیہ کے شاگرد، اپنی کتاب البدایة والنہایة میں لکھتے ہیں:

 

📜 "وأما موضع قبره فلا خلاف أنه دفن بحش كوكب شرقي البقيع وقد بنى عليه زمان بني أمية قبة عظيمة وهي باقية إلى اليوم قال الإمام مالك رضي الله عنه بلغني أن عثمان رضي الله عنه كان يمر بمكان قبره من حش كوكب فيقول إنه سيدفن ههنا رجل صالح"

 

📃 "عثمانؓ کی قبر کا مقام کسی میں اختلاف نہیں؛ 👈 وہ بقیع کے مشرق میں حش کوکب میں دفن ہیں، 👉 اور بنی امیہ کے زمانے میں ان کی قبر پر ایک بڑا گنبد بنایا گیا جو آج تک باقی ہے (ابن کثیر اپنے دور کی بات کر رہا ہے)۔ امام مالکؒ نے فرمایا کہ مجھے خبر ملی کہ عثمانؓ 👈 حش کوکب 👉 کے مقام سے گزرتے اور فرماتے کہ یہاں جلد ہی ایک نیک آدمی دفن ہوگا (خود عثمانؓ)۔"

 

📚 البدایة والنہایة، جلد 10، ص 324

 

⭕ ابن الأثير اسد الغابہ میں لکھتے ہیں کہ

 

📜 أسلم بالميم ابن أوس بْن بجرة بْن الحارث بْن غيان بْن ثعلبة بْن طريف بْن الخزرج بْن ساعدة بْن كعب بْن الخزرج بْن حارثة بْن ثعلبة الأنصاري الخزرجي الساعدي قال ابن ماكولا: شهد أحدًا، وقال هشام الكلبي: هو الذي منعهم أن يدفنوا عثمان بالبقيع، فدفنوه في حش كوكب، والحش: النخل 

 

اسلم (میم کے ساتھ) ابن اوس بن بجرة بن الحارث بن غیان بن ثعلبہ بن طریف بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج بن حارثہ بن ثعلبہ الانصاری الخزرجی الساعدی۔

 

ابن ماکولا کہتے ہیں: انہوں نے غزوۂ اُحد میں شرکت کی۔

 

📃 اور ہشام کلبی کہتے ہیں: یہی وہ شخص ہے جس نے 👈 عثمانؓ کو جنت البقیع میں دفن کرنے سے منع کیا، 👈 چنانچہ انہیں حشّ کوکب میں دفن کیا گیا۔

اور “حَشّ” سے مراد کھجوروں کا باغ ہے۔

 

📚 اسد الغابہ، جلد 1، صفحہ 212

 

📜 وقيل: لم يصل عَلَيْهِ أحد، منعوا من ذَلِكَ، ودفن فِي حش كوكب بالبقيع

 

📃 اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان (حضرت عثمانؓ) کی نمازِ جنازہ کسی نے نہیں پڑھی، کیونکہ لوگوں نے اس سے روک دیا تھا، 👈 اور انہیں حشّ کوکب میں، جو جنت البقیع کے علاقے میں ہے، دفن کیا گیا۔

 

اسد الغابہ، جلد 3، صفحہ 586

 

⭕ سمہودی لکھتے ہیں کہ 

 

اور عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ: عثمان (رضی اللہ عنہ) کو بقیع میں دفن کرنے سے اسلم بن اوس بن بحرة ساعدی نے منع کیا، تو وہ لوگ انہیں “حشِّ کوکب” کی طرف لے گئے۔ پھر ان پر حکیم بن حزام نے نمازِ جنازہ پڑھی، 👈 اور بنو امیہ نے حشِّ کوکب کو بقیع میں شامل کر دیا۔

 

اور عثمان بن محمد الاخنسی، ام حکیمہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں ان چار افراد کے ساتھ موجود تھی جنہوں نے عثمان بن عفان کو دفن کیا: جبیر بن مطعم، حکیم بن حزام، ابو جہم بن حذیفہ، اور نیار بن مکرم اسلمی۔ وہ انہیں ایک دروازے پر لے گئے، اور ان کے سر کی آواز دروازے سے ٹکراتی تھی جیسے کسی ڈول کی آواز ہو، وہ کہتے جاتے تھے: “دب دب” حتیٰ کہ وہ انہیں “حشِّ کوکب” لے گئے اور وہاں دفن کیا، پھر اس جگہ پر دیوار ڈال دی گئی اور وہیں نماز پڑھی گئی۔

 

اور ابن سعد کی “الطبقات الكبرى 3/58” میں مالک بن ابی عامر سے روایت ہے کہ لوگ اپنے مردوں کو حشِّ کوکب میں دفن کرنے سے اجتناب کرتے تھے۔ تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: قریب ہے کہ ایک نیک آدمی وہاں فوت ہو کر دفن ہوگا، پھر لوگ اس کی پیروی کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ عثمان سب سے پہلے اسی جگہ دفن ہوئے۔

 

📚 كتاب وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى 3/98

 

https://shamela.ws/book/23695/666

 

⭕ اسی طرح عمر بن شبة النميري ابن حجر اور ابن کثیر 

 

▪️یعنی حَشّ کوکب مدینہ منورہ میں جنت البقیع کے مشرقی جانب واقع ہے 

 

▪️جسے بعد میں معاویہ کے دورِ حکومت میں جنت البقیع کے قبرستان میں شامل کر دیا گیا۔

 

▪️حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت کے بعد ابتدا میں ان کی تدفین جنت البقیع میں نہیں ہونے دی گئی، جس کی وجہ سے انہیں بقیع کے باہر مشرقی جانب واقع اسی علاقے “حشّ کوکب” میں دفن کیا گیا۔

 

▪️ جب مروان بن حکم مدینہ کا والی بنا (معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں)، تو اس نے حشّ کوکب اور بقیع کے درمیان موجود دیوار ہٹا کر حضرت عثمان بن عفانؓ کی قبر کو جنت البقیع کے اندر شامل کر دیا۔

 

▪️ جو پتھر بطور نشانی رسول ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعونؓ کی قبر پر رکھا تھا، وہ اٹھا کر عثمان بن عفان کی قبر پر رکھ دیا گیا 

 

📚 الإصابة في تمييز الصحابة 1/566

📚 الإصابة في تمييز الصحابة 5/468

📚 الإصابة في تمييز الصحابة 4/379

 

📚البداية والنهاية 10/324

 

📚 تاريخ المدينة المنورة 1/111،112،113

 

۔

 

⭕ هيثمي و طبرانی مزید لکھتے ہیں کہ 

 

📜 وعن ملك يعني ابن أنس ، قال : قتل عثمان فأقام مطروحا على كناسة بني فلان ثلاثا ،

 

📃 اور مالک (یعنی امام مالک بن انس) سے روایت ہے کہ: جب عثمان (رضی اللہ عنہ) کو شہید کیا گیا تو انہیں بنی فلاں کے کوڑے کے ڈھیر پر تین دن تک پڑا رہنے دیا گیا

 

📚 مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 9/95

📚 المعجم الكبير 1/78،79

 

۔

 

⭕ طبری نے یہاں تک لکھا کہ 

 

📜 حش کوکب میں یہود اپنے مُردے دفن کرتے تھے

 

📚 تاریخ طبری 3/472 اردو 

📚 تاریخ طبری 4/412 عربی

 

۔

 

🔴 اہل مدینہ کے مسلمانوں نے حضرت عثمان کو جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا 

 

⭕ طبری کی روایات میں آتا ہے

 

📜 ’’نبذ عثمان رضی اللہ عنہ ثلاثۃ أیام لا یدفن؛ ثم ان حکم بن حزام القرشی ثم أحد بنی أسد بن عبدالعزی، و جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف، کلما علیاً فی دفنہ، وطلبا الیہ أن یأذن لأھلہ فی ذالک، ففعل، و أذن لھم علی، فلما سمع بذلک قعدوا لہ فی الطریق بالحجارۃ، و خرج بہ ناس یسیر من أھلہ؛ و ھم یریدون بہ حائطاً بالمدینۃ، یقال لہ: حش کوکب، کانت الیھود تدفن فیہ موتاھم؛ فلما خرج بہ علی الناس رجموا سریرہ، و ھموا بطرحہ، فبلغ ذالک علیا، فأرسل الیھم یعزم علیھم لیکفن عنہ، ففعلوا، فانطلق حتی دفن رضی اللہ عنہ فی حش کوکب؛ فلما ظھر معاویۃ بن أبی سفیان علی الناس أمر بہدم ذالک الحائط حتی أفضی بہ الی البقیع؛ فأمر الناس أن یدفنوا موتاھم حول قبرہ حتی اتصل ذالک بمقابر المسلمین‘‘۔

 

📝 جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو تین دن تک شرپسندوں نے دفن کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔ آخر تین دن کے بعد مدینہ کے کچھ با اثر لوگوں نے جن میں حضرت حکیم بن حزامؓ اور حضرت جبیر بن مطعمؓ بھی تھے، حضرت علیؓ سے حضرت عثمانؓ کے دفنانے کے بارے میں بات چیت کی اور یہ بھی درخواست کی کہ آپ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھی اس میں مدد کے لئے کہیں۔ جب شرپسندوں کو اس بات کا علم ہوا تو وہ راستہ میں پتھر لے کر بیٹھ گئے اور جنازہ گزرنے پر اس پر پتھراؤ کیا۔ مدینہ میں ایک احاطہ تھا جس کا نام حش کوکب تھا اور یہودی اس میں دفن ہوتے تھے۔ چونکہ جنت البقیع میں شرپسند حضرت عثمانؓ کے جسد مبارک کو دفن نہیں ہونے دیتے تھے اس لئے آپ کی نعش کو حش کوکب میں دفنانے کا پروگرام بنایا گیا۔ اور رات کے وقت آپ کی تدفین کی گئی۔ یہ احاطہ جنت البقیع سے کچھ فاصلے پر تھا۔ جب امیر معاویہ خلیفہ بنے تو انہوں نے احاطہ کی دیوار گرانے کا حکم دیا اور لوگوں کو تلقین کی کہ وہ اپنے مردوں کو اس خالی جگہ میں دفن کریں تاکہ یہ جگہ مسلمانوں کے قبرستان یعنی جنت البقیع میں شامل ہو جائے۔

 

📚 تاریخ الامم والملوک للطبری، الجزء الثانی صفحہ ۶۸۷، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان

 

⭕ کتاب'' استیعاب'' میں امام مالک سے نقل ہوا ہے:

 

جب (مسلمانوں کا تیسرا خلیفہ) عثمان قتل ہو گیا، تین روز تک اس کی لاش کوڑے میں پڑی رہی، چوتھی رات کو بارہ افراد جمع ہوئے جن میں یہ افراد تھے، حویطب بن عبد العزی، حکیم بن حزام، عبد اللہ بن زبیر، محمد بن حاطب اور مروان بن حکم، جس وقت ان لوگوں نے عثمان کے لاش کو اٹھاکر قبرستان پہنچایا، قبیلہ بنی مازن کےکچھ لوگوں نے اواز دی اور کہا: خدا کی قسم اگر تم نے اس کو یہاں دفن کیا تو ہم کل لوگوں کو بتا دیں گے اور وہ اس کو قبر سے باہر نکال دیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے عثمان کی لاش کو دوبارہ اٹھایا اور اور ایک تختے (تختہ دری) پر رکھا، اور عثمان کے جسد کا سر اس تختے پر لگتا تھا اور تق تق کی آواز اس سے آتی تھی، یہاں تک کہ عثمان کے جسد کو '' حش کوکب'' یہودیوں کے قبرستان لے گئے۔ اور وہاں اس کے لئے ایک گڑھا کھودا،اس وقت عثمان کی بیٹی عایشہ اپنے ہاتھ میں چراغ لئے ہوئے ان کے ساتھ تھی،جس وقت انہوں نے چاہا کہ عثمان کو دفن کریں، بیٹی نے چیخ مار کر رونا شروع کر دیا، تو عبد اللہ بن زبیر نے اس سے کہا کہ اگر تو خاموش نہ ہوئی تو میں تیری گردن مار دونگا،یہ سن کر وہ خاموش ہو گئی،اور انہوں نے عثمان کو دفن کر دیا۔

 

📚 الاستیعاب، جلد 3، صفحه 1047,1048، ناشر: داراحیاءالتراث العربی، بیروت، لبنان 

📚مختصر تاریخ دمشق، جلد 16، صفحه 272،ناشر: دارالفکر، بیروت، لبنان

📚 تاريخ دمشق 39/520

 

⭕ ابن قتيبه الدينوري لکھتے ہیں کہ 

 

عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) کی تدفین کے بارے میں روایت ہے کہ عبدالرحمن بن أزہر نے کہا: میں عثمان کے معاملے میں نہ ان کے حق میں شامل تھا نہ ان کے خلاف، یعنی میں اس معاملے میں داخل نہیں ہوا تھا۔ پھر عثمان کی شہادت کی رات کے بعد میں اپنے گھر کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے پاس منذر بن زبیر آیا اور کہا: میرے چچا زاد بھائی تمہیں بلا رہے ہیں۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا۔

 

اس نے مجھ سے کہا: ہم عثمان کو دفن کرنا چاہتے ہیں، کیا تم شریک ہو گے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس معاملے میں شامل نہیں ہوا تھا اور نہ ہی میں اس میں حصہ لینا چاہتا ہوں۔ میں وہاں سے واپس آ گیا، پھر میں ان کے پیچھے چلا تو دیکھا کہ ایک جماعت موجود ہے، جن میں جبیر بن مطعم، ابو الجہم بن حذیفہ، مسور بن مخرمہ، عبد الرحمن بن ابی بکر، اور عبد اللہ بن زبیر شامل تھے۔

 

انہوں نے عثمان (رضی اللہ عنہ) کو ایک دروازے پر اٹھایا، اور ان کا سر دروازے سے ٹکراتا تھا اور آواز آتی تھی: “ٹک ٹک”۔ پھر انہیں جنازوں کی جگہ رکھا گیا۔

 

اس دوران انصار کے کچھ لوگ آئے اور کہا: اللہ کی قسم! ہم تمہیں ان پر نماز پڑھنے نہیں دیں گے۔

 

ابو الجہم نے کہا: کیا تم ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم ان پر نماز پڑھیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں نے ان پر نماز پڑھی ہے۔

 

تو ایک شخص نے اس سے کہا: اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تمہیں بھی اسی جگہ داخل کرے گا جہاں وہ داخل ہوا ہے۔ اس پر ابو الجہم نے کہا: اللہ مجھے اس کے ساتھ ہی اٹھائے۔

 

پھر اس نے کہا: اگر اللہ نے تمہیں نہیں چھوڑا تو وہ تمہیں شیطانوں کے ساتھ اٹھائے گا۔ اللہ کی قسم! اگر ہم نے تمہیں اس کے ساتھ چھوڑ دیا تو یہ ہماری کمزوری ہوگی۔

 

لوگوں نے ابو الجہم سے کہا: خاموش ہو جاؤ اور بات بند کرو، تو وہ خاموش ہو گیا۔

 

پھر وہ لوگ انہیں اٹھا کر تیزی سے چل پڑے، گویا میں ان کے سر کے لکڑی پر لگنے کی آواز سن رہا تھا، یہاں تک کہ انہیں بقیع کے قریب ترین حصے میں رکھ دیا۔

 

پھر ان کے پاس انصار کے جبلة بن عمر الساعدی آئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم انہیں رسول اللہ ﷺ کے بقیع میں دفن نہیں کرو گے، اور ہم تمہیں ان پر نماز بھی نہیں پڑھنے دیں گے۔

 

ابو الجہم نے کہا: چلو چلتے ہیں، اگر ہم نے ان پر نماز نہ بھی پڑھی تو اللہ نے ان پر نماز پڑھی ہے۔

 

پھر وہ نکلے، اور ان کے ساتھ عائشہ بنت عثمان بھی تھیں، ان کے ساتھ ایک صندوق میں چراغ تھا۔ جب وہ انہیں لے کر “حشِّ کوکب” پہنچے تو وہاں ان کے لیے قبر کھودی گئی۔

 

پھر انہوں نے ان پر نماز پڑھی، اور ان کی امامت جبیر بن مطعم نے کرائی، پھر انہیں قبر میں اتار دیا گیا۔

 

جب ان کی بیٹی نے انہیں دیکھا تو وہ چیخ اٹھی، اس پر ابن زبیر نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم خاموش نہ ہوئیں تو میں تمہاری آنکھ کو نقصان پہنچاؤں گا۔

 

پھر انہیں دفن کیا گیا، ان کے لیے لحد نہیں بنائی گئی بلکہ سیدھا دفن کیا گیا، اور ان پر مٹی جلدی جلدی ڈال دی گئی۔

 

📚 الإمامة والسياسة 1/67,68

 

Invisibleislam.com

 

#تبدیلی_ممنوع

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38
Gallery Image 39
Gallery Image 40