🔴 جس شخص کے دل میں عث//مان کی محبت ہوگی، وہ دج/ال کا پیروکار بنے گا!
▪️ ان روایات میں سے ایک جو مخالفینِ شیعہ کو لرزا دیتی ہے، وہ روایت ہے جسے زید بن وہب نے حذیفہ بن یمان (جو رسول ﷺ کے راز دار صحابی تھے اور منا/فقین کے نام جانتے تھے) سے نقل کیا ہے۔
📜 حدیث: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی الْأَسْوَدِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ حُذَیْفَةَ قَالَ: مَنْ کَانَ یُحِبُّ { عثمان } مَخْرَجَ الدَّ/جَّالِ تَبِعَهُ، فَإِنْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ آمَنَ بِهِ فِی قَبْرِهِ.
📃 ہم سے ابن نمیر نے روایت کی، انہوں نے محمد بن الصلت سے، انہوں نے منصور بن ابی الاسود سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے حذیفہ سے نقل کیا کہ حذیفہ نے کہا:
📜 "جو شخص عثمان سے محبت رکھتا ہوگا، دج/ال کے خروج کے وقت اس کی پیروی کرے گا، اور اگر وہ دجال کے نکلنے سے پہلے مر گیا تو اپنی قبر میں اس پر ایمان لے آئے گا۔"
📚 المعرفہ والتاریخ، جلد 2، صفحہ 768، مطبوعہ مکتبۃ الدار، مدینہ منورہ
💯✅ اس روایت کی سند سو فیصد صحیح ہے اور اس پر کوئی معمولی اشکال بھی وارد نہیں ہوتا۔
۔
🔍 سند کی تحقیق:
▪️ حذیفہ بن یمان، ابو عبداللہ العبسی:
رسول ﷺ کے راز دار صحابی (اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس روایت میں ممکن ہے انہوں نے اشارے کے ذریعے کچھ راز بیان کیے ہوں)
▪️ زید بن وہب الجہنی، ابو سلیمان الکوفی:
ان سے کتبِ ستہ میں روایت موجود ہے، اور چونکہ وہ صحیحین کے راویوں میں سے ہیں، اس لیے ان کی ثقاہت ثابت ہے۔
🔸 اہل سنت علماء کے اقوال:
📜 زہیر، اعمش سے نقل کرتے ہیں: "جب زید بن وہب تم سے کسی کے بارے میں حدیث بیان کرے، تو گویا تم نے خود اسی شخص سے سنی ہے۔"
📜 ابن معین نے کہا: وہ ثقہ ہیں۔ ابن خراش نے کہا: وہ کوفی اور ثقہ ہیں۔
📚 تہذیب التہذیب، جلد 3، صفحہ 427
لہٰذا زہیر کے قول کے مطابق، ایسا ہے جیسے ہم یہ حدیث براہِ راست صحابیِ جلیل حذیفہ بن یمان سے سن رہے ہوں۔
📜 زید بن وہب الجہنی، ابو سلیمان الکوفی انہوں نے عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے اور وہ ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں۔
📚 لسان المیزان، جلد 7، صفحہ 224، مطبوعہ مؤسسۃ الاعلمی
▪️ سلیمان بن مہران الاسدی الکاہلی، ان کے آزاد کردہ غلام، ابو محمد الکوفی (المعروف الاعمش):
ان سے تمام کتبِ ستہ میں روایت موجود ہے، اور چونکہ وہ صحیحین کے راوی ہیں اس لیے ان کی تحقیق کی ضرورت نہیں، تاہم بطور نمونہ ایک قول پیش ہے:
📜 "الاعمش، حافظ، ثقہ، شیخ الاسلام ابو محمد سلیمان بن مہران الاسدی الکاہلی، کوفی۔"
📚 تذکرة الحفاظ للذہبی، جلد 1، صفحہ 116، دار الکتب العلمیہ
▪️ منصور بن ابی الاسود:
یہ راوی بھی صدوق (سچا/قابلِ اعتماد) ہے۔
📜 یحییٰ (بن معین) کہتے ہیں: منصور بن ابی الاسود ثقہ ہے۔
📚 تاریخ ابن معین (روایة الدوری)، جلد 3، صفحہ 272، مرکز البحث العلمی
📜 عبدالرحمن کہتے ہیں: مجھے ابو بکر بن ابی خیثمہ نے لکھا کہ میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا: منصور بن ابی الاسود ثقہ ہے۔
📜 اور عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے منصور بن ابی الاسود کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کی حدیث لکھی جاتی ہے۔
📚 الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم، جلد 8، صفحہ 170
▪️محمد بن الصلت بن الحجاج الاسدی، ابو جعفر الکوفی الاصم:
یہ صحیح بخاری کے راویوں میں سے ہیں، اور یہی بات ان کی توثیق کے لیے کافی ہے، تاہم بطور نمونہ چند اقوال:
📜 عبدالرحمن روایت کرتے ہیں: علی بن الحسین بن الجنید نے کہا: میں نے ابن نمیر کو کہتے سنا کہ محمد بن الصلت ثقہ تھے، البتہ ابو غسان نہدی مجھے ان سے زیادہ پسند ہیں۔
اور ابو زرعہ سے محمد بن الصلت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ثقہ ہیں۔
📜 اور میرے والد (ابو حاتم) سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: کوفی اور ثقہ ہیں۔
📚 الجرح والتعدیل، جلد 7، صفحہ 289
📚 تہذیب التہذیب، جلد 9، صفحہ 233
▪️ محمد بن عبد اللہ بن نمیر الہمدانی الخارفی، ابو عبد الرحمن الکوفی:
ان سے تمام کتبِ ستہ میں روایت موجود ہے، اور چونکہ وہ صحیحین کے راوی ہیں اس لیے ان کی ثقاہت بھی ثابت ہے۔
📜 عجلی کہتے ہیں: کوفی، ثقہ، اور اصحابِ حدیث میں شمار ہوتے ہیں۔
📜 ابو حاتم کہتے ہیں: ثقہ ہیں، ان کی حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔
📜 ابو عبید الآجری، ابو داود سے نقل کرتے ہیں: محمد بن عبد اللہ بن نمیر اپنے والد سے زیادہ مضبوط (حافظہ میں) ہیں۔
📜 نسائی کہتے ہیں: ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں۔
📚 تہذیب الکمال للمزی، جلد 25، صفحہ 569
۔
🔴 کتاب کے مؤلف کا تعارف: یعقوب بن سفیان الفسوی
📜 امام، حافظ، حجت، کثرت سے سفر کرنے والے، اور اقلیمِ فارس کے محدث۔
📚 سیر اعلام النبلاء، جلد 13، صفحہ 180، مؤسسۃ الرسالہ
📜 یعقوب بن سفیان بن جوان الفارسی الفسوی، ابو یوسف:
حدیث کے بڑے حفاظ میں سے ہیں۔
📚 الاعلام للزرکلی، جلد 8، صفحہ 198، دار العلم للملایین
۔
🔍 حدیث پر وارد شبہات کا رد 💉
1⃣. اعمش کی "عنعنہ" پر اعتراض اور اس کا جواب:
جب مخالفین کو سند پر طعن کرنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ صحیحین کے راوی پر ہی اعتراض کرنے لگتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہاں "اعمش" نے عنعنہ (یعنی "عن" کے ساتھ روایت) کی ہے، اور چونکہ وہ مدلس ہیں، اس لیے سند منقطع (ٹوٹا ہوا) شمار ہوگی۔
✅ جواب:
یہ اعتراض بالکل بے بنیاد ہے، اور خود مخالفین کے علماء بھی اسے قبول نہیں کرتے۔ لیکن چونکہ اس مقام پر انہیں کوئی اور راستہ نہیں ملا، اس لیے انہوں نے اس غیر علمی شبہ کا سہارا لیا ہے۔
اگر آپ سند پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ "اعمش" نے "زید بن وہب" سے عنعنہ کی ہے،
یعنی:
📜 "عن الاعمش عن زید بن وہب"
👈 دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی سند (اعمش عن زید بن وہب) کم از کم 7 مقامات پر صحیح بخاری میں اور 7 مقامات پر صحیح مسلم میں موجود ہے!
👈 یعنی مجموعی طور پر 14 اسناد میں صحیحین کے اندر "اعمش" نے "زید بن وہب" سے عنعنہ کے ساتھ روایت کی ہے۔
۔
🔴 صحیح بخاری سے چند اسناد:
📜 ہم سے احمد بن یونس نے روایت کی، انہوں نے ابو شہاب سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے...
📚 صحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 116، حدیث 2388
📜 ہم سے حسن بن ربیع نے روایت کی، انہوں نے ابو الاحوص سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے کہا: عبد اللہ نے کہا...
📚 صحیح البخاری، حدیث 3208
📜 ہم سے محمد بن کثیر نے روایت کی، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے ابن مسعود سے...
📚 صحیح البخاری، جلد 4، صفحہ 199، حدیث 3603
📜 ہم سے حسن بن ربیع نے روایت کی، انہوں نے ابو الاحوص سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے کہا: ابو ذر نے کہا...
📚 صحیح البخاری، جلد 8، صفحہ 94، حدیث 6444
📜 ہم سے محمد بن کثیر نے روایت کی، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے کہا: ہم سے حذیفہ نے بیان کیا...
📚 صحیح البخاری، جلد 8، صفحہ 104، حدیث 6497
📜 ہم سے محمد بن کثیر نے روایت کی، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے کہا: ہم سے حذیفہ نے بیان کیا...
📚 صحیح البخاری، جلد 9، صفحہ 52، حدیث 7086
📜 ہم سے محمد بن سلام نے روایت کی، انہوں نے ابو معاویہ سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب اور ابو ظبیان سے، انہوں نے جریر بن عبد اللہ سے...
📚 صحیح البخاری، جلد 9، صفحہ 115، حدیث 7376
⭕ نتیجہ:
جب یہی طریقہ (اعمش کا زید بن وہب سے عنعنہ) صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں متعدد بار موجود ہے اور اسے قبول کیا گیا ہے، تو اسی بنیاد پر اس روایت کو ضعیف کہنا درست نہیں۔
۔
🔴 صحیح مسلم کی اسناد (ترجمہ):
📜 ہم سے ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کی، انہوں نے ابو معاویہ اور وکیع سے، اور (دوسری سند میں) ہم سے ابو کریب نے روایت کی، انہوں نے ابو معاویہ سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے حذیفہ سے۔
📚 صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 126، حدیث 230
📜 ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابو بکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور ابو کریب — سب نے ابو معاویہ سے روایت کی۔ یحییٰ کہتے ہیں: ہمیں ابو معاویہ نے خبر دی، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے ابو ذر سے۔
📚 صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 687، حدیث 32
📜 ہم سے ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کی، انہوں نے ابو الاحوص اور وکیع سے، اور ہم سے ابو سعید الاشج نے روایت کی، انہوں نے وکیع سے، اور ہم سے ابو کریب اور ابن نمیر نے روایت کی، انہوں نے ابو معاویہ سے، اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے روایت کی، انہوں نے عیسیٰ بن یونس سے — یہ سب اعمش سے روایت کرتے ہیں — اور ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے روایت کی (اور الفاظ انہی کے ہیں)، انہوں نے جریر سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے عبد اللہ سے۔
📚 صحیح مسلم، جلد 3، صفحہ 1472، حدیث 45
📜 ہم سے زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے روایت کی۔ اسحاق کہتے ہیں: ہمیں خبر دی، اور زہیر کہتے ہیں: ہم سے جریر نے روایت کی، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے عبد الرحمن بن عبد رب الکعبہ سے۔
📚 صحیح مسلم، جلد 3، صفحہ 1472، حدیث 46
📜 ہم سے زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم دونوں نے جریر سے روایت کی اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے روایت کی، انہوں نے عیسیٰ بن یونس سے، اور ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء نے روایت کی، انہوں نے ابو معاویہ سے، اور ہم سے ابو سعید الاشج نے روایت کی، انہوں نے حفص بن غیاث سے — یہ سب اعمش سے روایت کرتے ہیں — انہوں نے زید بن وہب اور ابو ظبیان سے، انہوں نے جریر بن عبد اللہ سے۔
📚 صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 1809، حدیث 66
📜 اور مجھ سے قاسم بن زکریا نے روایت کی، انہوں نے عبید اللہ بن موسیٰ سے، انہوں نے شیبان سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے مالک بن حارث سے، انہوں نے ابو الاحوص سے کہا: میں ابو موسیٰ کے پاس آیا تو وہاں عبد اللہ اور ابو موسیٰ موجود تھے۔
اور ہم سے ابو کریب نے روایت کی، انہوں نے محمد بن ابی عبیدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے کہا: میں حذیفہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔
📚 صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 1912، حدیث 113
📜 ہم سے ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کی، انہوں نے ابو معاویہ اور وکیع سے، اور ہم سے محمد بن عبد اللہ بن نمیر الہمدانی نے روایت کی (اور الفاظ انہی کے ہیں)، انہوں نے اپنے والد، ابو معاویہ اور وکیع سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم سے اعمش نے روایت کی، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے عبد اللہ سے۔
📚 صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 2036، حدیث 1
👈 اہم نکتہ جس پر توجہ دینا ضروری ہے یہ ہے کہ ہم نے صحیحین (صحیح بخاری و مسلم) سے جو 14 اسناد پیش کی ہیں، وہ صرف اعمش کی زید بن وہب سے "عنعنہ" والی روایات ہیں۔ جبکہ ہم نے (شاملہ سافٹ ویئر میں تلاش کے ذریعے) تقریباً 558 مقامات ایسے پائے ہیں جہاں اعمش نے مختلف افراد سے عنعنہ کے ساتھ روایت کی ہے۔
❌ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے، اعمش کی عنعنہ پر اعتراض قابلِ توجہ نہیں رہتا۔
✅ اسی وجہ سے مخالفین (اہل سنت) کے اکثر علماء نے بھی ان کی عنعنہ روایات کو قبول کیا ہے۔
👈 مزید یہ کہ:
▪️حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب المستدرک علی الصحیحین میں
▪️ذہبی نے تلخیص المستدرک میں
▪️البانی نے اپنی تصحیحات میں
▪️ارنووط نے اپنی تحقیقات میں
▪️احمد محمد شاکر نے بھی
✅ اور دیگر بہت سے علماء و محققین نے اعمش کی عنعنہ روایات کو مختلف راویوں سے (صرف بڑے اساتذہ تک محدود نہیں) قبول کیا ہے۔
۔
2⃣. کتاب کے مصنف (یعقوب بن سفیان فسوی) کا "زید بن وہب" پر اعتراض اور اس کا رد:
مصنف نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد، جب اسے حدیث کو ضعیف کرنے کا کوئی راستہ نہیں ملا، تو اس نے زید بن وہب پر طعن شروع کر دیا اور انہیں ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی!
حالانکہ غالباً مصنف کو اس بات کا خیال نہیں رہا کہ:
👈 زید بن وہب تمام کتبِ ستہ میں راوی ہیں
👈 وہ کبار تابعین میں سے ہیں
✅ اور ان کی ثقاہت میں کوئی شک نہیں
ہم پہلے سند کی تحقیق میں ان کی وثاقت بیان کر چکے ہیں، یہاں صرف ایک قول اعمش کا بطور دلیل پیش کرتے ہیں تاکہ ان کے مقام کا اندازہ ہو:
▪️امام احمد بن حنبل کے اقوال کی کتاب سے
زہیر، اعمش سے نقل کرتے ہیں کہ اعمش نے کہا:
📜 "جب تم زید بن وہب سے کوئی حدیث سنو، تو گویا تم نے وہ حدیث اسی شخص سے سنی ہے جس سے وہ روایت کر رہے ہیں۔"
📚 موسوعة اقوال الامام احمد بن حنبل فی رجال الحدیث و علله،ج1،ص412 ط عالم الکتب
یہی قول اعمش، زید بن وہب کی ثقاہت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، اگرچہ ہم پہلے بھی ان کی توثیقات ذکر کر چکے ہیں۔
🔍 مزید دلچسپ اور عجیب بات یہ ہے کہ: امام ذہبی نے بھی یعقوب بن سفیان کے اس اعتراض کو مکمل طور پر رد کیا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یعقوب نے صرف اسی قول کی بنیاد پر زید بن وہب کو ضعیف کہا۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ذہبی نے اس روایت کا بھی انکار نہیں کیا۔
اس نکتے کی وضاحت آگے مزید کی جائے گی۔
۔
🔴 ضعیف اور غیر قابل اعتماد روایات سے استدلال اور اس کا رد:
مخالفین (اپنے خیال میں) اس روایت کو رد کرنے کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کرتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ وہ ضعیف یا غیر معتبر روایات سے تمسک کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
▪️ أبو بكر أحمد بن مروان الدينوري المالكي متوفی 333 ہجری اپنی کتاب میں روایت نقل کرتا ہے کہ
📜 زيد بن إسماعيل، نا شبابة بن سوار ، نا حفص بن مورق الباهلي، عن حجاج بن أبي عُثْمَان الصواف ، عن زيد بن وهب، عن حذيفة ، قال :
أول الفتن قتل عُثمان بن عفان ، وآخر الفتن خروج الدجال، والذي نفسي بيده لا يموت رجل وفي قلبه مثقال حبة من حب قتل عُثْمَان إلا تبع الد/جال، إن أدركه، وإن لم يدركه آمن به في قبره
📃 ہم سے زید بن اسماعیل نے روایت کی، انہوں نے شبابة بن سوار سے، انہوں نے حفص بن مورّق الباہلی سے، انہوں نے حجاج بن ابی عثمان الصوّاف سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے حذیفہ سے نقل کیا کہ حذیفہ نے کہا:
"سب سے پہلی فتنہ عثمان بن عفان کا قتل ہے (اللہ ان پر رحم کرے)، اور آخری فتنہ د/جال کا خروج ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جس شخص کے دل میں عثمان کے قتل سے محبت کا ذرہ برابر حصہ بھی ہوگا، اگر وہ د/جال کو پا لے گا تو اس کی پیروی کرے گا، اور اگر نہ پا سکا تو قبر میں اس پر ایمان لے آئے گا۔"
📚 المجالسة و جواهر العلم، جلد 2، صفحہ 164، حدیث 286
📚 تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 39، صفحہ 447
۔
🔍 سند کی حقیقت:
سند پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت انتہائی کمزور (ضعیف) ہے، بلکہ بعض کے نزدیک یہ موضوع (من گھڑت) بھی ہو سکتی ہے۔
ہم صرف دو بنیادی ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
1⃣. کتاب "المجالسة و جواهر العلم" کے مصنف پر جرح:
📌 احمد بن مروان الدینوری المالکی:
یہ مالکی عالم اور محدث ہیں، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہیں ضعیف قرار دیا گیا ہے اور بعض نے تو انہیں حدیث گھڑنے کا متہم بھی قرار دیا ہے۔
دارقطنی نے "غرائب مالک" میں صراحت کی ہے کہ وہ حدیث گھڑتے تھے۔
📚 لسان المیزان، جلد 1، صفحہ 672
▪️دارقطنی نے کہا:
📜 "یہ روایت اس سند کے ساتھ صحیح نہیں ہے، اور اس میں متہم احمد بن مروان ہے، اور میرے نزدیک وہ حدیث گھڑنے والوں میں سے ہے۔"
📚 الاعلام للزرکلی، جلد 1، صفحہ 256
▪️اسی طرح ذہبی نے بھی انہیں "دیوان الضعفاء" میں ذکر کیا ہے اور دارقطنی کی تضعیف نقل کی ہے۔
📚 دیوان الضعفاء،ص10 ط مکتبة النهضة الحدیثة
👈 مزید یہ کہ سعودی وزارتِ اوقاف کے سافٹ ویئر "جوامع الکلم" میں بھی انہیں "متہم بالوضع" (حدیث گھڑنے کا الزام یافتہ) قرار دیا گیا ہے۔
2⃣. ایک اور راوی کی کمزوری:
سند میں ایک اور راوی ہے: حفص بن مورّق الباہلی
📜 یہ راوی مجہول ہے، اور رجال و تراجم کی کتابوں میں اس کا کوئی واضح تعارف نہیں ملتا۔
📌 نتیجہ:
یہ روایت انتہائی کمزور ہے۔
⚠️ اضافی نکتہ:
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر حذیفہ بن یمان سے اس مضمون کی کوئی صحیح روایت بھی ثابت ہو جائے، تب بھی اسے قابلِ حجت نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ (دعویٰ کے مطابق) وہ عثمان کے بارے میں تقیہ کرتے تھے، اور ان پر شدید قسم کی احتیاط یا تقیہ کی کیفیت تھی، 👇
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1305169451812086&id=100069571310961&mibextid=Nif5oz
۔
🔴 ہماری پیش کردہ روایت کے متن میں بعض مخطوطات میں عثمان کے نام کے نہ ہونے پر اعتراض اور اس کا رد:
مخالفین کے کمزور اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:
📜 بعض مخطوط نسخوں میں روایت کے متن میں "عثمان" کا نام موجود نہیں
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں:
✅ جی ہاں! بعض مخطوطات میں "عثمان" کا نام موجود نہیں، کیونکہ اموی علماء اور بنی امیہ کے پیروکاروں نے امانت دارانہ طور پر اسے حذف کر دیا تھا۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ اسے باقی مقامات سے بھی ختم کریں تاکہ رسوائی نہ ہو!!!
مزید یہ کہ اگر "مخرج الد/جال تبعه" سے پہلے کوئی نام (جیسے عثمان) موجود نہ ہو تو روایت کا مفہوم مکمل طور پر بے معنی ہو جاتا ہے۔
ہم اس بات کے یقینی ہونے کے لیے تین قطعی قرائن پیش کرتے ہیں کہ اصل متن میں "عثمان" کا نام موجود تھا:
۔
🔹 پہلا قرینہ: محققِ کتاب کا اعتراف
کتاب کے سنی محقق ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری (مدینہ اسلامی یونیورسٹی کے استاد) حاشیے میں لکھتے ہیں:
📜 "یہی مناسب ہے کہ اصل نسخے میں لفظ 'یحب' کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کا نام ساقط ہو گیا ہو...
📚 المعرفہ و التاریخ، جلد 2، صفحہ 768
۔
🔹 دوسرا قرینہ: مصنف (یعقوب بن سفیان فسوی) کی تصریح
یہ بات واضح کرتی ہے کہ اموی علماء نے کیسے اس کتاب میں تحریف کی، لیکن وہ مکمل طور پر محتاط نہیں رہے تاکہ بعد میں ان کی حقیقت ظاہر نہ ہو سکے۔
⁉️ اصل میں مصنف کے حدیث کو رد کرنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس میں "عثمان" کا نام موجود ہے، ورنہ بغیر نام کے اس روایت کو رد کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
مصنف کا واضح بیان ملاحظہ ہو:
📜 "یہ ان چیزوں میں سے ہے جو زید کی حدیث کے ضعف پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اپنی پہلی حدیث میں کہتا ہے: اگر د/جال نکلے تو جو عثمان سے محبت کرے گا اس کی پیروی کرے گا، اور اگر وہ مر گیا ہو تو قبر میں اس پر ایمان لے آئے گا..."
📚 المعرفہ و التاریخ، جلد 2، صفحہ 770
📌 خلاصہ:
اس دعوے کے مطابق، متن میں "عثمان" کے نام کی موجودگی اصل روایت کا حصہ تھی، اور بعض نسخوں میں اس کا غائب ہونا بعد کی تبدیلی یا حذف کی علامت ہے، جبکہ اصل مفہوم اسی نام کے ساتھ وابستہ ہے۔
جی ہاں! آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ مؤلفِ کتاب، حدیث نقل کرنے کے دو صفحے بعد دوبارہ اسی روایت پر نظر ڈالتا ہے، اور یہ حصہ تحریف کرنے والوں کی نظر سے بچ گیا، اور اس میں واضح طور پر "عثمان" کے نام کی موجودگی کی تصریح کرتا ہے۔
۔
🔹 تیسرا قرینہ: امام ذہبی کی تصریح کہ متن میں "عثمان" کا نام موجود ہے
یہ قرینہ بھی اچھی طرح ثابت کرتا ہے کہ متن میں "عثمان" کا نام موجود ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امام ذہبی نہ صرف یعقوب بن سفیان فسوی کے زید بن وہب پر کیے گئے جرح کو سختی سے رد کرتے ہیں، بلکہ بظاہر وہ اس حدیث کو بھی ضمنی طور پر قبول کرتے ہیں۔
امام ذہبی لکھتے ہیں:
📜 زید بن وہب تابعین کے بڑے اور ثقہ راویوں میں سے ہیں، اور ان سے روایت لینے پر علماء کا اتفاق ہے، سوائے یعقوب فسوی کے، جنہوں نے اپنی تاریخ میں کہا کہ ان کی حدیث میں بہت خلل ہے، لیکن فسوی نے درست نہیں کہا۔
📚 میزان الاعتدال، جلد 3، صفحہ 158
پھر ذہبی ذکر کرتے ہیں کہ فسوی نے زید کی بعض روایات کو رد کیا، مثلاً:
📜 عمر کا قول: "یا حذیفہ! کیا میں منا/فقین میں سے ہوں؟"
اور یہ روایت:
📜 "اگر د/جال نکلے تو جو عثمان سے محبت کرے گا وہ اس کی پیروی کرے گا"
اور اسی طرح بعض دیگر روایات کو بھی فسوی نے کمزور کہا۔
پھر ذہبی فرماتے ہیں:
📜 "فسوی نے زید کی جن روایات پر اعتراض کیا ہے وہ پہلے سے ہی ان کے انکار شدہ مسائل ہیں، اور اگر ہم اس طرح کے وسوسوں کا دروازہ کھول دیں تو بہت سی ثابت شدہ سنتیں بھی غلط وہم کی بنیاد پر رد کرنی پڑیں گی۔"
📌 خلاصہ یہ کہ:
ذہبی نے روایت کو "عثمان" کے نام کے ساتھ نقل کیا ہے
اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا
بلکہ یعقوب فسوی پر رد کیا
اور زید بن وہب کی وثاقت کا دفاع کیا
🔗 آخر میں وھابی-سلفی ویب سائٹ "ملتقى اہل الحدیث" کی بے بسی کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اس روایت کے رد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=169283
http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=69135
Invisibleislam.com
#تبدیلی_ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen