امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ عائشہ نے جس طرح عثمان کو قتل کیا، اسی طرح مجھے بھی قتل کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ یہ روایت اہل سنت کی کتابوں میں ایسی سند کے ساتھ منقول ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ متعدد طرق سے یہ واقعہ نقل ہوا ہے۔
حدیث کا متن:
وحدثني أحمد بن إبراهيم الدورقي ، حدثنا أبو النضر ، حدثنا إسحاق بن سعيد ، عن عمرو بن سعيد ، حدثني سعيد بن عمرو : عن ابن حاطب قال : أقبلت مع علي يوم الجمل إلى الهودج وكأنه شوك قنفذ من النبل ، فضرب الهودج ؛ ثم قال : إن حميراء إرم هذه أرادت أن تقتلني كما قتلت عثمان بن عفان . فقال لها أخوها محمد : هل أصابك شيء ؟ فقالت : مشقص في عضدي . فأدخل رأسه ثم جرها إليه فأخرجه
۳۱۰۔ احمد بن ابراہیم دورقی نے مجھے حدیث بیان کی، ابوالنصر نے ہم سے حدیث بیان کی، اسحاق بن سعید نے عمرو بن سعید سے، انہوں نے سعید بن عمرو سے، انہوں نے ابن حاطب سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا:
جنگ جمل کے دن میں علی علیہ السلام کے ساتھ ہودج کی طرف گیا۔ ہودج تیروں سے اس طرح بھرا ہوا تھا جیسے جھیل کا جسم کانٹوں سے بھرا ہوتا ہے۔ علی علیہ السلام نے ہودج پر ضرب لگائی اور فرمایا: "یہ حمیراء (عائشہ) ارادہ رکھتی تھی کہ مجھے قتل کر دے جس طرح اس نے عثمان بن عفان کو قتل کیا۔"
پھر اس کے بھائی محمد نے اس سے کہا: "کیا تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے؟"
اس نے کہا: "میرے بازو میں ایک باریک تیر لگا ہوا ہے۔"
تو محمد نے اپنا سر ہودج کے اندر ڈالا، پھر اسے اپنی طرف کھینچا اور تیر کو باہر نکال لیا۔
**ماخذ:**
انساب الاشراف للبلاذری، جلد ۲، صفحہ ۲۵۰
مصنف: احمد بن یحییٰ بن جابر البلاذری (وفات ۲۷۹ ہجری)
تحقیق: سهیل زکار و ریاض زرکلی
ناشر: دار الفکر، بیروت، پہلی اشاعت ۱۴۱۷ ہجری - ۱۹۹۶ء
**سند کی جانچ:**
**راوی اول:**
احمد بن ابراہیم بن کثیر بن زید الدورقی — ثقہ حافظ، دسویں طبقہ، وفات ۲۴۶ ہجری۔ (تقریب التهذیب، ابن حجر، جلد ۱، ص ۷۷)
**راوی دوم:**
ہاشم بن القاسم ابو النضر — ثقہ ثبت، نويں طبقہ، وفات ۲۰۷ ہجری۔ (تقریب التهذیب، جلد ۱، ص ۵۷۰)
**راوی سوم:**
عمرو بن سعید القرشی — ثقہ، پانچویں طبقہ۔ (تقریب التهذیب، جلد ۱، ص ۴۲۲)
**راوی چوتھا:**
اسحاق بن سعید بن عمرو الاموی — ثقہ، ساتویں طبقہ، وفات ۱۷۰ ہجری کے قریب۔ (تقریب التهذیب، جلد ۱، ص ۱۰۱)
**راوی پانچواں:**
سعید بن عمرو بن سعید الاموی — ثقہ، تیسری طبقہ کے چھوٹے راوی، وفات ۱۲۰ ہجری کے بعد۔ (تقریب التهذیب، جلد ۱، ص ۲۳۹)
**آخری راوی:**
محمد بن حاطب الجمحی — صحابی صغیر، مختلف فیہ کنیت، وفات ۷۴ ہجری۔ (تقریب التهذیب، جلد ۱، ص ۴۷۳)
**تشریح:**
یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ عائشہ منافق اور امیر المومنین علی علیہ السلام کی سخت ترین دشمن تھی۔ یہ حدیث یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عائشہ نے عثمان کے قتل میں کردار ادا کیا تھا۔
یہ حدیث اہل سنت کے ان لوگوں کے جواب میں ہے جو کہتے ہیں کہ عائشہ صلح کا ارادہ رکھتی تھی۔ لیکن امیر المومنین علی علیہ السلام خود فرماتے ہیں کہ عائشہ مجھے قتل کرنا چاہتی تھی۔ اس حدیث میں امیر المومنین عثمان کے قاتلوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگر عائشہ کا مقصد اصلاح ہوتا تو علی علیہ السلام یہ نہ فرماتے کہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتی ہے جس طرح عثمان کے ساتھ کیا گیا۔
یہ حدیث بالکل واضح طور پر ان جھوٹوں کو باطل کر دیتی ہے جو سنی لوگوں نے عائشہ کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے گھڑے تھے۔ الحمد للہ۔
Gallery
Tap any image to view full screen