🔴 جب حضرت حذیفہ بن یمان رض کو عثمان کے ق/تل کی خبر ملی
▪️المسعودی لکھتے ہیں کہ
اسی دن صفوان اور سعد (حذیفہ بن یمان کے بیٹے) شہید ہوئے۔ اور حذیفہ اس وقت کوفہ میں (سن 36 ہجری میں) بیمار تھے۔ جب انہیں عثمان کے قتل اور لوگوں کی علیؑ سے بیعت کی خبر ملی تو انہوں نے کہا: “مجھے اٹھاؤ اور نمازِ جماعت کا اعلان کرو۔”
انہیں منبر پر لایا گیا، انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:
📜 “اے لوگو! لوگوں نے علیؑ کی بیعت کر لی ہے، پس تم پر لازم ہے کہ اللہ سے ڈرو اور علیؑ کی مدد کرو اور ان کا ساتھ دو۔ اللہ کی قسم! وہ آخر میں بھی حق پر ہیں اور شروع میں بھی، اور وہ تمہارے نبی ﷺ کے بعد آنے والوں میں سب سے بہتر ہیں، اور قیامت تک آنے والوں میں بھی بہترین ہیں۔”
📜 پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا: “اے اللہ! گواہ رہ، میں نے علیؑ کی بیعت کر لی ہے۔”
📜 پھر کہا: “اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اس دن تک زندہ رکھا۔”
اور اپنے دو بیٹوں صفوان اور سعد سے کہا: “مجھے اٹھاؤ اور علیؑ کے ساتھ رہو۔ ان کے بہت سے جنگیں ہوں گی جن میں بہت سے لوگ ہلاک ہوں گے، تم کوشش کرو کہ ان کے ساتھ شہید ہو جاؤ، کیونکہ اللہ کی قسم وہ حق پر ہیں اور جو ان کی مخالفت کرے وہ باطل پر ہے۔”
پھر حذیفہ اس دن کے سات دن بعد وفات پا گئے، اور کہا گیا کہ چالیس دن بعد وفات ہوئی۔
📚 مروج الذهب الجزء الثاني ص 299
صحیح یہ ہے کہ قتل عثمان کے 40 دن بعد وفات پا گئے
📚 اسکین ہیجز دیکھیں
▪️مسعودی مشہور مؤرخ ہیں، جن کا تذکرہ شافعیہ کی طبقات میں (225) میں آیا ہے، اور ابن العماد نے "شذرات الذهب" میں ان کے بارے میں کہا کہ انہوں نے تاریخ کو اس طرح تحقیق کے ساتھ بیان کیا جو کسی اور نے نہیں کیا۔
⭕ مسعودی پر شیعہ ہونے کے اعتراض کا جواب اس لنک پر دیکھیں 👇
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=664238785905159&id=100069571310961&mibextid=Nif5oz
Invisibleislam.com
تبدیلی ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen