Back to حضرتِ عثمان

صحابی عمرو اور قاتلین عثمان

صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان
صحابی عمرو اور قاتلین عثمان

🔴 صحابی عمرو بن الحمق خزاعی اور قاتلین عثمان?

 

▪️ امام محمد ابن سعد (مؤلفِ "الطبقات الکبریٰ") ان کے بارے میں لکھتے ہیں:

 

📜 عمرو بن الحمق بن الكاهن بن حبيب… خزاعی

 

👈 رسول خدا ﷺ کی صحبت میں رہے۔

پھر کوفہ آئے، اور حضرت علیؑ کے ساتھ جنگوں میں شریک ہوئے۔

👈 اور ان لوگوں میں شامل تھے جو عثمان (رض) کی طرف احتجاج کے لیے روانہ ہوئے اور قتلِ عثمان میں مدد کی۔ 

 

📚 الطبقات الكبرى، جلد 6، صفحہ 101

http://shamela.ws/browse.php/book-1686#page-2016

 

📜 عمرو بن الحمق الخزاعي : له صحبة ورواية ، وبايع النبي (ص) في حجة الوداع ، وسمع منه ، روى عنه : رفاعة بن شداد ، بن نفير ، وعبد الله بن عامر المعافري ، وقال ابن سعد : كان أحد الرؤوس الذين ساروا إلى عثمان ، وقتله ابن أم الحكم بالجزيرة ، وقال خليفة : كان عمرو بن الحمق يوم صفين على خزاعة مع علي ، وعن الشعبي ، قال : لما قدم زياد الكوفة أثاره عمارة بن عقبة بن أبي معيط ، فقال : إن عمرو بن الحمق من شيعة علي.

 

 📃 عمرو بن الحمق الخزاعی: انہیں صحبت (صحابی ہونے کا شرف) حاصل تھا اور روایت بھی کرتے تھے۔ انہوں نے حجۃ الوداع میں نبی ﷺ کی بیعت کی اور آپ سے سنا۔ ان سے روایت کرنے والوں میں رفاعہ بن شداد، جبیر بن نفیر، اور عبد اللہ بن عامر المعافری شامل ہیں۔

 

ابن سعد نے کہا: وہ ان سرکردہ افراد میں سے تھے جو عثمان کی طرف (مخالفت میں) گئے۔ اور انہیں ابن ام الحکم نے جزیرہ میں قتل کیا۔

 

خلیفہ نے کہا: صفین کے دن عمرو بن الحمق، علی کے ساتھ خزاعہ کے قبیلے کی طرف سے تھے۔

 

اور شعبی سے روایت ہے کہ جب زیاد کوفہ آیا تو عمارة بن عقبہ بن ابی معیط نے اسے بھڑکایا اور کہا: عمرو بن الحمق، علی کے شیعوں میں سے ہیں۔ 

 

📚 الذهبي - تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام

الجزء : ( 2 ) - رقم الصفحة : ( 424 )

 

📜 قال : أخبرنا : محمد بن عمر ، قال : أخبرنا : عبد الرحمن بن أبي الزناد ، عن أبي جعفر القارئ مولى بن عباس المخزومي ، قال : كان المصريون الذين حصروا عثمان ستمائة  

 

📃 اس نے کہا: ہمیں محمد بن عمر نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عبد الرحمن بن ابی الزناد نے خبر دی، انہوں نے ابو جعفر القارئ، جو بنو عباس مخزومی کے مولیٰ تھے، سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: وہ مصری لوگ جنہوں نے عثمان کا محاصرہ کیا تھا، چھ سو تھے…

 

📚 الطبقات الكبرى الجزء : ( 3 ) - رقم الصفحة : ( 71 )

 

📜 قال أبو عمر : سكن الشام ثم كان يسكن الكوفة ، ثم كان ممن قام على عثمان مع أهلها ، وشهد مع علي حروبه ثم قدم مصر.

 

📃 ابو عمر نے کہا: وہ پہلے شام میں مقیم تھے، پھر کوفہ میں رہنے لگے، پھر وہ ان لوگوں میں شامل ہو گئے جو اہلِ کوفہ کے ساتھ عثمان کے خلاف کھڑے ہوئے، اور علی کے ساتھ ان کی جنگوں میں شریک رہے، پھر مصر چلے گئے۔

 

📚 ابن حجر العسقلاني - الإصابة في تمييز الصحابة

الجزء : ( 4 ) - رقم الصفحة : ( 514 )

 

📜 : وأما عمرو بن الحمق فوثب على عثمان فجلس على صدره وبه رمق فطعنه تسع طعنات ، قال عمرو فأما ثلاث منهن فاني طعنتهن اياه الله ، وأما ست فاني طعنتهن اياه لما كان في صدري عليه.

 

📃 اور جہاں تک عمرو بن الحمق کا تعلق ہے تو وہ عثمان پر جھپٹا اور ان کے سینے پر بیٹھ گیا، جبکہ ان میں ابھی جان باقی تھی، پھر اس نے انہیں نو نیزے مارے۔ عمرو نے کہا: ان میں سے تین ضربیں میں نے اللہ کے لیے لگائیں، اور باقی چھ میں نے اپنے دل میں ان کے خلاف موجود (غصے/ناراضی) کی وجہ سے لگائیں۔

 

📚 تاريخ الطبري الجزء : ( 4 ) - رقم الصفحة : ( 394 )

 

📜 عمرو بن الحمق عرفه وكتب إلى معاوية بخبره فكتب إليه معاوية انه زعم أنه طعن عثمان بن عفان تسع طعنات بمشاقص كانت معه وإنا لا نريد أن نعتدي عليه فاطعنه تسع طعنات كما طعن عثمان فأخرج فطعن تسع طعنات فمات في الأولى منهن أو الثانية

 

📃 عمرو بن الحمق کو پہچان لیا گیا اور اس کے بارے میں معاویہ کو لکھا گیا۔ تو معاویہ نے اس کے جواب میں لکھا کہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عثمان بن عفان کو نو نیزے مشاقص (باریک نیزوں) سے مارا جو اس کے پاس تھے۔ اور ہم اس پر زیادتی نہیں کرنا چاہتے، اس لیے اسے بھی اسی طرح نو نیزے مارو جیسے اس نے عثمان کو مارے تھے۔ پس اسے باہر نکالا گیا اور اس پر نو نیزے مارے گئے، اور وہ پہلے یا دوسرے نیزے میں ہی فوت ہو گیا۔

 

📚 تاريخ الطبري الجزء : ( 5 ) - رقم الصفحة : ( 265 )

 

▪️ امام ابن حجر عسقلانی (مؤلفِ "تہذیب التہذیب") لکھتے ہیں:

 

📜 عمرو بن الحمق خزاعی

👈 صحابی رسول ﷺ تھے۔

کوفہ میں مقیم ہوئے، پھر مصر چلے گئے۔

حضرت علیؑ کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے۔

بعض اقوال کے مطابق "حرّہ" میں شہید ہوئے،

اور بعض کہتے ہیں کہ 51 ہجری میں موصل میں عبدالرحمن بن عثمان ثقفی نے قتل کیا، اور ان کا سر معاویہ کے پاس بھیجا گیا۔

 

📜 وحكى ابن عبد البر أنه كان ممن قام على عثمان

 

📃 اور ابن عبد البر نے نقل کیا ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو عثمان کے خلاف کھڑے ہوئے تھے۔

 

📚 تہذیب التہذیب، جلد 8، صفحات 23-24

http://shamela.ws/browse.php/book-3310#page-3491

 

📎 یہاں تک کہ وہابی ویب سائٹ اسلام ویب بھی ان کے بارے میں اعتراف کرتی ہے:

 

عمرو بن الحمق خزاعی

👈 صحابی 👇

 

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=6082

 

▪️ بخاری صاحب بھی لکھتے ہیں

 

1093 - رفاعة بن شداد الفتياني ، وفتيان بطن من بجيلة ، الكوفي ، قال أحمد : كنيته أبو عاصم ، وقال محمد أبو يحيى ، أخبرنا : عبد الصمد بن النعمان ، قال : حدثنا : أسباط ، عن السدي ، عن رفاعة بن عامر ، حدثني : 👈 أخي عمرو بن الحمق صاحب النبي (ص) 👉 : من آمن رجلا على دمه فأنا برئ من القاتل وإن كان المقتول كافرا ....

 

📚 البخاري - التاريخ الكبير - باب : الراء - 1093 

الجزء : ( 3 ) - رقم الصفحة : ( 322 )

 

https://shamela.ws/book/956/1191

 

📜 عمرو بن الحمق الخزاعي ، صحابي ، عنه جبير بن نفير ، ورفاعة بن شداد ، وجماعة ، قتل بالموصل.

 

 📃 عمرو بن الحمق الخزاعی، ایک صحابی تھے۔ ان سے جبیر بن نفیر، رفاعہ بن شداد اور دیگر لوگوں نے روایت کی ہے۔ انہیں موصل میں قتل کیا گیا۔

 

📚 الذهبي - الكاشف في معرفة الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة

الجزء : ( 2 ) - رقم الصفحة : ( 75 )

 

 تبدیلی ممنوع

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19