🔴 عثمان پر عزاداری
جب عثمان قتل کر دیا گیا تو ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے عثمان کے اھل خانہ کو پیغام بھیجا کہ عثمان نے جن کپڑوں میں شہادت پائی وہ مجھے بھجوا دیجئے !
انھوں نے اس کی وہ قمیض جو خون سے لت پت تھی اور وہ بال جو اس کی داڑھی سے نوچے گئے تھے ، ام حبیبہ کو بھجوا دیں ، اس نے نعمان بن بشیر کو بلوایا اور اس کے ہاتھ عثمان کی خون سے رنگین قمیص اور داڑھی کے نوچے ہوئے بال معاویہ کو بھجوا دیے ، وہ یہ قمیص اور اس کا خط لے کر روانہ ہوا ۔
عثمان کی خون آلود قمیص کے علاوہ نائلہ کی وہ انگلیاں بھی تھیں جو اس کے خاوند عثمان کا دفاع کرتے ہوئے کٹ گئی تھیں ۔ نائلہ بنت الفرافصہ کلبیہ ، عثمان کی بیوی تھی ۔ وہ کلب قبیلے کی شامی خاتون تھی ۔ نعمان ، معاویہ کے پاس شام پہنچے ، معاویہ نے یہ منبر پر رکھ دی اور نائلہ کی انگلیاں قمیص میں ٹانک دیں ۔ معاویہ عام لوگوں کے سامنے اس چیزوں کی نمائش کرتے رہے ، وہ کبھی یہ چیزیں اوپر اٹھاتے اور کبھی نیچے رکھ دیتے ، لوگ ان کے ارد گرد رو رہے تھے اور ایک دوسرے کو عثمان کے خون کا انتقام لینے کی ترغیب دے رہے تھے ۔ شرحیل بن السمط الکندی آئے ، اس نے معاویہ سے کہا: عثمان ہمارے خلیفہ تھے ، اگر تم اس کے خون کا بدلہ لے سکتے ہو تو ٹھیک ہے ، ورنہ ہم تم سے علیحدگی اختیار کر لیں گے ۔
شام کے لوگوں نے قسمیں اٹھائیں کہ ہم نہ اپنی عورتوں کے قریب پھٹکیں گے نہ ہی بستر پر سوئیں گے جب تک ہم قاتلین عثمان کا خاتمہ نہ کردیں یا ہم خود ختم نہ ہوجائیں ۔
📚 حقیقتہ الخلاف بین الصحابہ فی معرکتی الجمل و صفین ، صفحہ 83 تالیف علی محمد الصلابی ۔ طبع القاھرہ
🔴 *حضرت عثمان کی شہادت پر عزاداری*
1⃣ حضرت عثمان کے سوگ میں سیاہ لباس پہنا گیا
📚 کتاب جامع الوسائل فی شرح الشمائل
2⃣ حضرت عثمان کی بیوی حضرت نائلہ کا نوحہ پڑھنا
📚 تاریخ طبری ج ٣، ص ۴٣٩
📚 تاریخ ابن کثیر ج ٧ ص ٢۴٩
3⃣ حضرت عثمان کی بیٹیوں نے حضرت عثمان پر ماتم کیا
📚 تاریخ طبری ج ٣ ص ۴٧٢
🔴 نائلہ بنت الفرافصہ زوجہ حضرت عثمان
محمد بن یوسف سے مروی ھے کہ نائلہ بنت الفرافصہ زوجہ حضرت عثمان اسی شب نکلیں ( جب حضرت عثمان کو تدفین کے لیے لے جایا جارھا تھا)
👈 آگے اور پیچھے سے اپنا گریبان چاک کیے ھوئے تھیں ھمراہ ایک چراغ تھا اور چلا رھیں تھیں کہ " ھائے امیرالمومنین"
جبیر بن مطعم نے کہا کہ چراغ گل کردو کہ ھم لوگ پہچان نہ لیے جائیں کیونکہ میں نے ان باغیوں کو دیکھا ھے جو دروازے پر تھے اس پر انہوں نے چراغ گل کردیا
آہ مسلمانوں کا خلیفہ اور صرف مدینہ میں چار آدمیوں نے ان پر نماز پڑھی جبیر بن مطعم، حکیم بن حزام ، نیاربن مکرم اسلمی اور ایک جوان عرب تھے
📚 طبقات ابن سعد حصہ سوئم ص 147
Gallery
Tap any image to view full screen