Back to حضرتِ عثمان

صحابی جبلہ اور صحابی رفاعہ قاتلین عثمان میں شامل تھے

صحابی جبلہ اور صحابی رفاعہ قاتلین عثمان میں شامل تھے
صحابی جبلہ اور صحابی رفاعہ قاتلین عثمان میں شامل تھے
صحابی جبلہ اور صحابی رفاعہ قاتلین عثمان میں شامل تھے
صحابی جبلہ اور صحابی رفاعہ قاتلین عثمان میں شامل تھے
صحابی جبلہ اور صحابی رفاعہ قاتلین عثمان میں شامل تھے
صحابی جبلہ اور صحابی رفاعہ قاتلین عثمان میں شامل تھے
صحابی جبلہ اور صحابی رفاعہ قاتلین عثمان میں شامل تھے

جبلہ کا مدینہ کے چکر لگا کر اعلان کرنا کہ میں ہی نعثل کا قا/تل ہوں یہ ثابت کرتا ہے کہ اہل مدینہ کے انصار و مہاجرین اس ق-تل سے خوش تھے

 

تاہم ابو ہریرہ نے عثمان کو بچانے کے تلوار اٹھائ تو عثمان نے منع کر دیا کہ صبر سے کام لو یہ سن کر ابو ہریرہ نے تلوار وہیں رکھ دی اور ایسی رکھی گم ہی ہو گئی

 

📚 الاستعیاب

 

🔴 جبلہ صحابی رسول ﷺ ہیں 👇

 

اسکے بارے میں لکھا گیا ہے کہ

 

📜 حكيم ، ويقال حكيم بن جبلة ، وهو الأكثر ، ويقال ابن جبل، و ابن جبلة ] ) ، العبدى، من عبد القيس . أدرك النبي صلى الله عليه وسلم ، ولا أعلم له عنه رواية ولا خبراً يدل على سماعه منه ولا رؤيته له ، وكان رجلاً صالحا له دين ، مطاعا في قوْمِهِ ، وهو الذي بعثه عثمان إلى السند فنزلها ، ثم قدم على عثمان فسأله عنها 

 

📃 حکیم: اور کہا جاتا ہے حکیم بن جَبَلَة، اور یہی زیادہ مشہور قول ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابن جَبَل یا ابن جَبْلَة ہے۔ یہ عبدی تھے، قبیلہ عبد القیس سے تعلق رکھتے تھے۔

انہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا (یعنی آپ کے دور میں زندہ تھے)، لیکن مجھے معلوم نہیں کہ ان سے نبی ﷺ کی کوئی روایت منقول ہو، یا کوئی ایسی خبر ہو جو اس بات پر دلالت کرے کہ انہوں نے آپ سے سنا یا آپ کو دیکھا ہو۔

 

👈 وہ ایک نیک، دیندار آدمی تھے، اور اپنی قوم میں بااثر اور مطاع تھے۔ یہی وہ شخص ہیں جنہیں عثمانؓ نے سندھ کی طرف بھیجا، تو وہ وہاں گئے، پھر واپس آ کر عثمانؓ کو اس کے حالات بتائے۔

 

📚 الاستيعاب في معرفة الأَصْحَاب

 

مزید کتب اہل سنت میں اس بات کا اجماع ہے کہ

 

📜 وهذا إنما نفى فيه الصحبة الخاصة ، ولا ينفى ما اصطلح عليه الجمهور من أن مجرد الرؤية كاف في إطلاق الصحبة 

 

📃 یہاں جس چیز کی نفی کی گئی ہے وہ خاص قسم کی صحبت (قریبی اور مخصوص رفاقت) ہے، اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی جو جمہور کے ہاں معروف ہے کہ محض نبی ﷺ کو دیکھ لینا بھی صحابی کہلانے کے لیے کافی ہے۔

 

📚 الباعث الحثيث شرحاختصار علوم الحديث

 

📜 اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ خَيْرَ الْقُرُونِ قَرْنُهُ ، وَالْمُرَادُ أَصْحَابُهُ، وَقَدْ قَدَّمْنَا [٨٤/١٦/٥] أَنَّ الصَّحِيحَ الَّذِي عَلَيْهِ الْجُمْهُورُ : أَنَّ كُلَّ مُسْلِم رَأَى النَّبِيَّ ﷺ وَلَوْ سَاعَةً فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَرِوَايَةُ: «خَيْرُ النَّاسِ عَلَى عُمُومِهَا ، وَالْمُرَادُ (۱) : جُمْلَةُ الْقَرْنِ 

 

📃 علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بہترین زمانہ نبی ﷺ کا زمانہ ہے، اور اس سے مراد آپ کے صحابہ ہیں۔ اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ صحیح قول، جس پر جمہور کا موقف ہے، یہ ہے کہ ہر وہ مسلمان جس نے نبی ﷺ کو دیکھا ہو، چاہے ایک لمحے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، وہ آپ کے صحابہ میں شمار ہوتا ہے۔

 

📚 منهاج المحدثين وسبيل طالبية المحققين

 

 

Invisibleislam.com

 

 

🔴 رفاعہ بن رافع

 

ابومنصور بغدادی شافعی ان لوگوں کے نام ذکر کرتے ہیں جنہوں نے عثمان بن عفانؓ کو قتل کیا، اور ان میں رفاعہ بن رافع کا نام بھی شامل ہے۔

 

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ رفاعہ بن رافع صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔

 

انہوں نے نبی ﷺ کا زمانہ پایا اور آپ ﷺ کے ساتھ جنگِ احد میں بھی شریک رہے۔

 

یعنی اہلِ سنت کے بڑے علماء کے اعتراف کے مطابق بعض صحابہ بھی حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک تھے۔

 

📚 اصول دین

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7