⁉️ امام علی ع نے قصاص عثمان میں تاخیر کیوں کی اور اس کا سبب ؟
ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر امام علی ع نے حضرت عثمان کےقتل کا قصاص کیوں نہیں لیا تھا ؟
⭕ اس کے جواب امام اھل سنت امام قرطبی نے اپنی کتاب میں تفصیل اور احسن انداز میں اس طرح دیا ہے :
📜 اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی ع حضرت عثمان کے قصاص کے ولی نہیں تھے ، بلکہ خون عثمان کے ولی تو فقط اُن کے بیٹے تھے اور وہ ایک جماعت ہے جن میں عمرو بن عثمان آپ کے بڑے صاحبزادے تھے ، اور ابان بن عثمان جو محدث اورفقیہ تھے اور جنگ جمل کے واقعہ میں حضرت عائشہ کے ساتھ حاضر تھے ، اور تیسرے بیٹے ولید بن عثمان ہیں ، اسی طرح ایک دوسرے بیٹے کا نام بھی ولید ہے جو ابھی نو خیز تھا ، اس کی ابھی ڈاڑھی مونچھ نہیں آئی تھی ، اور پانجویں بیٹے جا کا نام سعید بن عثمان ہے جو معاویہ کی طرف سے اس وقت خراسان کا والی تھا ،
حضرت عثمان کے یہ پانچویں بیٹے اس وقت موجود تھے
اور یہی اولیاء دم (وارثان) تھے اور انہی کو حق پہنچتا تھا کہ اپنے والد کے خون اور قصاص کا مطالبہ کرتے ، کسی دوسرے کو نہیں ،
👈 لیکن ان بیٹوں میں سے کسی ایک نے بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس قصاص کے لئے نہ مقدمہ قائم کیا اور نہ ان کے بارے میں کوئی ایسی بات منقول ہے ، اور یہ اولیاء دم (وارثان) مقدمہ کرتے اور قصاص کا مطالبہ بذریعہ عدالت کرتے تو حضرت علی ع ضرور فیصلہ فرماتے
کیونکہ آپ تمام صحابہ کرام میں سے بہتر فیصلہ کرنے والے تھے جیسا کہ رسول اللہ ع سے آپ ع کے متعلق حدیث منقول ہے ۔
▪️دوسرا جواب یہ ہے کہ
حضرت عثمان کے قاتل معین نہیں تھا اور قتل کے وقت کسی معین قاتل کے خلاف شرعی شہادت کے لئے دو عادل گواہ اس وقت موجود نہیں تھے ،
⁉️ لہٰذا حضرت علی ع مجرد دعویٰ کی بنا پر کسی خاص اور معین شخص کو قصاص میں قتل کرنے کا حکم کیسے دے سکتے تھے ؟
اور جب اولیاء دم اپنے حق سے خاموش تھے تو اس صورت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے لئے از خود فیصلہ کرنے کی کوئی سبیل نہ تھی ، اور اولیاء دم اور ارباب قصاص کی طرف سے مطالبہ کا نہ ہونا آپ کے لئے واضح ترین دلیل ہے ۔
اسی طرح معاویہ کا عمل بھی مولا علی ع کی حقانیت کی دلیل ہے کہ جب معاویہ مصر اور دوسرے بلاد اسلامیہ کے مالک بن گئے اور ان کی حکومت کا عمل مکمل ہوگیا اور حضرت علی ع شھید کردیئے گئے تو انہوں نے اپنے دور حکومت میں ان لوگوں کے خلاف جن پر حضرت عثمان کو شھید کرنے کا الزام تھا کوئی کاروائی نہیں کی
👈 جبکہ ان ملزموں کی اکثریت کا تعلق مصر اور کوفہ و بصرہ سے تھا اور وہ تمام کے تمام معاویہ کے حکم کے تحت آتے تھے ، جہاں ان کا غلبہ اور حکمرانی تھی ، اور اس سے قبل وہ قصاص کے مدعی بھی رہے تھے اور وہ ان بلاد کے مالک بننے سے قبل یہ کہتے تھے کہ ہم اس شخص کی بیعت نہیں کریں گے جو حضرت عثمان کے قاتلوں کو پناہ دینے والا ہے اور ان سے قصاص لینے والا نہ ہو ۔
معاویہ پر شرعا واجب تھا کہ جب مسجد نبوی ، مہبط وحی ، مرکز نبوت اور مقام خلافت میں سب نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بیعت علی خلافت کر لی تھی تو وہ بھی بیعت کرتے ، کیونکہ تمام مہاجرین و انصار نے مولا علی ع کی بیعت کر لی تھی اور یہ بیعت اپنے اختیار ، رضا مندی اور خوشی سے ہوئی تھی اور حضرت علی ع کی بیعت کرنے والے مختلف قوموں اور قبائل سے تعلق رکھنے والے اتنے کثیر تھے کہ ان کا شمار نہیں کیا جا سکتا ، اور اس میں ارباب حل و عقد بھی تھے حالانکہ بیعت تو ارباب حل و عقد کے ایک طائفہ اور گروہ سے بھی منعقد ہوجاتی ہے ۔
اور جب حضرت علی ع کی بیعت لوگوں نے کرلی اور ان کو خلیفہ تسلیم کر لیا گیا تو اھل شام نے بیعت کی شرط یہ مطالبہ رکھا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کریں گے کہ قاتلین عثمان ہمارے سپرد کئے جائیں اور ان پر ہمیں قدرت و تمکن دیا جائے اور یہ کہ ہم خود ان سے قصاص لیں گے ۔
▪️ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا
📜 بیعت کرنے والوں میں شامل ہو جائو اور اپنے حق قصاص کی درخواست داخل عدالت کرو تمھیں تمھارا حق مل جائے گا ،
انہوں نے کہا : آپ بیعت کے حق دار نہیں ، دراں حالیکہ عثمان کے قاتل صبح و شام ہم آپ کے ساتھ گھومتے پھرتے دیکھتے ہیں اور حضرت علی ع اس معاملہ میں درست رائے پر تھے
اور زیادہ درست قول یہ ہے کہ: اگر علیؑ ان (عثمان کے قاتلوں) کے ساتھ فوراً قصاص کا معاملہ کرتے تو ان کے ساتھ ان کے قبائل بھی تعصب میں آ جاتے اور ایک تیسری جنگ برپا ہو جاتی۔
لہٰذا انہوں نے ان کے بارے میں انتظار کیا یہاں تک کہ معاملہ مضبوط ہو جائے، ان پر بیعت مکمل طور پر قائم ہو جائے، اور اولیاء (ورثاء/مدعیانِ خون) کی طرف سے عدالت میں باقاعدہ مطالبہ سامنے آئے، پھر عدالتی فیصلے کے مطابق حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے۔
👈 قاضی ابوبکر بن العربی مالکی نے کہا ہے کہ اس بات پر امت کا اتفاق ہے کہ اگر فتنہ پھیلنے اور قومی اختلاف پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو حاکم وقت قصاص لینے کا فیصلہ موخر کرنے کا مجاز ہے ۔
📚 التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة ، اردو 2/404،405
📚 التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة ، عربی ص1082
▪️ ياسين الخليفة الطيب المحجوب لکھتے ہیں کہ
📜 وكان علي ينتظر من أولياء عثمان أن يتحاكموا إليه، فإذا ثبت على أحد بعينه أنه ممن قتل عثمان اقتص منه،
📃 "اور علی (علیہ السلام) عثمان کے اولیاء سے یہ انتظار کر رہے تھے کہ وہ ان کے پاس فیصلہ کروانے آئیں، پھر جب کسی معین شخص پر یہ ثابت ہو جاتا کہ وہ عثمان کے قاتلوں میں سے ہے، تو وہ اس سے قصاص لیتے۔"
📚 إجلاء الحقيقة في سيرة عائشة الصديقة
🖋 بدر علی
#بدر_علی
#التماس_دعا
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#تبدیلی_ممنوع
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen