🔴 قاتلین عثمان ؟
▪️سنن أبي داود كتاب الجهاد باب في قتل الأسير صبرا
📜 2686 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَرَادَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْس أَنْ يَسْتَعْمِلَ مَسْرُوقًا فَقَالَ لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ: أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلًا مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَكَانَ فِي أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِيثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِيكَ قَالَ: «مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟» قَالَ: النَّارُ، فَقَدْ رَضِيتُ لَكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
📃 ہم سے علی بن الحسین الرقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد اللہ بن جعفر الرقی نے بیان کیا، کہا: مجھے عبید اللہ بن عمرو نے خبر دی، زید بن ابی انیسہ سے، وہ عمرو بن مرہ سے، وہ ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ:
ضحاک بن قیس نے مسروق کو کسی عہدے پر مقرر کرنا چاہا، تو عمارہ بن عقبہ نے اس سے کہا: کیا تم ایسے شخص کو عامل بناؤ گے جو عثمان کے قاتلوں کے باقی ماندہ لوگوں میں سے ہے؟
تو مسروق نے کہا: ہمیں عبد اللہ بن مسعود نے حدیث بیان کی—اور وہ ہمارے نزدیک سچی حدیث بیان کرنے والے معتبر شخص تھے—کہ نبی ﷺ نے جب تمہارے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: “بچوں کا کون خیال رکھے گا؟” اس نے کہا: “آگ (یعنی جہنم)”،
تو (مسروق نے کہا:) میں تمہارے لیے اسی بات پر راضی ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ تمہارے لیے راضی ہوئے تھے۔
✅ شعیب ارنووط نے اس روایت کی سند کو صحیح کہا ہے
📚 سنن أبي داود المحقق: شعَيب الأرنؤوط جلد 4 ص 322)
✅ اس روایت کو البانی نے حسن صحیح کہا ہے
📚 (صحیح سنن أبي داود جلد 2 حدیث 2686 صفحہ 150 ) اور دوسری جگہ اسناد جید کہا ہے (إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل ج 5 ص 40)
✅ حاکم نے اس روایت کو بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔
📚 (المستدرك على الصحيحين ج 2 ص 135)
✅ ذھبی نے تلخیص میں بھی بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔
📚 (المستدرك على الصحيحين ج 2 ص 135)
⭕ *تبصرہ*
اس روایت سے دو باتیں سامنے آتی ہیں:
1⃣ اوّل: یہ کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلین کے حوالے سے مسروق اور ان کے طبقے (تابعین و بعض صحابہ) کا نام لیا جاتا ہے۔ مسروق کوئی غیر معروف شخصیت نہیں بلکہ ایک جلیل القدر تابعی ہیں۔ امام ذہبی نے سیر أعلام النبلاء (ج 4، ص 63، رقم 17) میں انہیں امام، بلند مرتبہ اور بڑے عالم کے طور پر ذکر کیا ہے۔
2⃣ دوم: یہ کہ اگر کسی صحابی کے بارے میں جہنم کا ذکر روایت میں آیا ہو تو اسے نقل کرنا بذاتِ خود غلط نہیں سمجھا جاتا۔ عمارہ بن عقبہ کو بعض علماء نے صحابی قرار دیا ہے، جیسا کہ ابن حجر نے الإصابة في تمييز الصحابة (ج 4، ص 481) میں ذکر کیا، جبکہ مسروق جیسے ثقہ تابعی نے انہیں سخت جواب دیا۔
⁉️ لہذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خلیفہ ثالث کے قتل میں ایسے افراد کے نام آتے ہیں جنہیں اہلِ سنت خود معتبر شخصیات میں شمار کرتے ہیں، تو پھر اس کا سارا الزام “رافضیوں کے اجداد” پر ڈال دینا کس حد تک منصفانہ ہے؟
👈 انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تاریخ کو دیانت داری کے ساتھ دیکھا جائے، نہ کہ یکطرفہ نسبتوں کے ذریعے۔
Shiatiger.com
Gallery
Tap any image to view full screen