🔴 معاویہ چاہتا تھا کہ حضرت عثمان قتل ہو جائیں
⭕ حضرت عثمان کے رضاعی بھائی عبد اللہ بن سعد کی گواہی
📜 حدثني حرملة قال : أخبرنا ابن وهب عن ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب قال : أقام عبدالله بن سعد بعسقلان بعد قتل عثمان ، وكره أن يكون مع معاوية، وقال : لم أكن لأجامع رجلاً قد عرفته إنه كان يهوى قتل عثمان ، فكان بها حتى مات .
📃 مجھ سے حرملہ نے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے ابن لہیعہ سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا کہ:
عبداللہ بن سعد، عثمان کے قتل کے بعد عسقلان میں مقیم رہے، اور انہوں نے معاویہ کے ساتھ رہنا ناپسند کیا۔ انہوں نے کہا: 👈 میں ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتا جس کے بارے میں میں جانتا ہوں کہ وہ عثمان کے قتل کا خواہش مند تھا۔ چنانچہ وہ وہیں رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔
📚 سير أعلام النبلاء ٤ / ٢٢٧ ط دار الفكر ، وقارن المعرفة والتاريخ للفسوي ١ / ٢٥٤ ، ومختصر تاريخ دمشق ١١ / ٢٣١.
⭕ سند کی تحقیق
1⃣ حرملة بن يحيى بن حرملة
📜صدوق
2⃣ عبد الله بن وهب
📜 الفقيه، ثقة
3⃣ عبد الله بن لهيعة
📜 صدوق
4⃣ يزيد بن أبي حبيب
📜 ثقة فقيه
5⃣ يعقوب بن سفيان الفارسي
📜 ثقة حافظ
📚 تقريب التهذيب ابن حجر
اس روایت کو ذھبی نے بھی اسی صحیح سند سے نقل کیا کے
📜 وروى ابن لهيعة ، عن يزيد بن أبي حبيب ، قال : أقام عبد الله بن سعد بعَسْقَلان ، بعد قتل عثمان ، وكره [ أن يكون مع] معاوية ، وقال : لم أكن لأجامع رجلاً قد عرفته ، إن كان ليهوى قتل عثمان . قال : فكان بها حتى مات
📚 سر اعلام النبلاء 3/35
🖋 محمد سیف الله
🔴 ذھبی جرح کا جواب
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ پر ذھبی کا قول کسی کھاتے میں نہیں آتا کیوں کہ
قال أبو نعيم : قيل : توفي سنة تسع وخمسين ۔
ابو نعیم نے کہا: کہا گیا ہے کہ ان کا انتقال 59 ہجری میں ہوا۔
سیر اعلام النبلاء 3/32
ذھبی ناسبی کی عادت رہی ہے بنو امیہ کا دفاع کرنے کی۔
تو یہ منقطع مرسل والا اعتراض نہیں بنتا
سماع ثابت ہے
رہی بات الإمام المحدث عبد الله بن لھیعة تو کئی محدثین نے اسے ثقہ کہا ہے۔ تو روایت کو زیادہ سے زیادہ صحیح سے حسن کھا جا سکتا ہے۔
اور یہ صحیحین کا راوی ہے ابن حجر نے صحیحین میں اس کی روایات کی نشاندہی کی ہے۔
اس کتاب "امام ابن لہیعہ کا مطالعہ کیجئے کافی فرق محسوس کریں گے۔ کتاب کے آخر میں لکھتے ہیں کہ
امام ابن لہیعہ اپنے زمانے میں مصر کے بڑے علماؤں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اپنے دور میں مروّج روایات کو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے بڑے اصحاب سے حاصل کیا، اور بہت بڑی تعداد میں تابعین سے ملاقات کی، جن سے انہوں نے علم حاصل کیا۔
ان کی علمی کوششیں صرف حدیث تک محدود نہیں تھیں بلکہ فقہ اور قضا کے میدان تک بھی پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ اپنے ہم عصر علماء میں بلند مقام رکھتے تھے اور مصر میں کئی اہم مناصب پر فائز رہے، اور عام و خاص معاملات میں ان کا مؤثر کردار رہا۔
وہ ثقہ تھے، اپنی روایات میں جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے تھے اور اپنے اصول (روایتی ذخیرے) کو محفوظ رکھتے تھے، تاہم آخری عمر میں ان میں کچھ تبدیلی آئی اور روایت میں نرمی اور تساهل پیدا ہو گیا، لیکن ان کے اصل اصول جوں کے توں رہے، ان میں کوئی تحریف یا خرابی نہیں ہوئی۔
اور جو تعدیل اور ان کے علمی مقام کی تعریف منقول ہے، وہ درست ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں، البتہ جو الزامات ان پر لگائے گئے ہیں، ان میں سے بعض ان کے ہم عصروں کی رقابت یا ان کی سیرت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔
ہم ان کے اختلاط اور آخری عمر میں تساهل کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی بعض روایات میں جو اوہام پائے جاتے ہیں، وہ صرف ان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ صحیحین کے بڑے حفاظ میں بھی اس طرح کی غلطیاں موجود رہی ہیں، اس لیے اسے ان کے خلاف قطعی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔
البتہ جو غلطیاں ان کے اختلاط اور آخری دور کی نرمی سے پیدا ہوئیں، انہیں ان کی احادیث سے الگ کر دیا جائے گا۔
اور آپ نے خود ہی واضح کر دیا کہ انکی روایت انکی عمر کے آخری وقت کی نہیں بلکہ شروع وقت کی ہے
📚 امام ابن لہیعہ
مزید یہ کہ احمد بن حبنل نے انکی روایات کو صحیح کہا ہے
قال لي أحمد بن حنبل : أحاديثك عن ابن لهيعة صحاح . فقلت : لأنا كنا نكتب من كتاب ابن وهب ثم نسمعه من ابن لهيعة
📚 احادیث صحیحیہ
📑 بدر علی
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#التماس_دعا
#تبدیلی_ممنوع
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen