Back to حضرتِ عثمان

نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے

نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے
نواصب کا الزام کہ امام علی ع قاتلین عثمان کی قیادت کر رہے تھے

🔴 نواسب کا امام علی ع پر بہتان اور اسکا جواب

 

▪️ ڈاکٹر خورشید احمد فارق لکھتے ہیں کہ

 

📜 العقد الفرید میں دیکھا اس کے الفاظ سے صرف یہی ظاہر نہیں ہوا کہ علی مدینہ میں موجود تھے بلکہ اس بات کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ 👈 وہ باغیوں کی قیادت کر رہے تھے

 

📚 حضر عثمان کے سرکاری خطوط ۱۹۲

 

▪️ مودودی لکھتا لے کہ

 

📜 سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اور وہ لوگ بھی شامل تھے جو ان قاتلین کی مدد کرتے رہے, خلافت کے کام میں ان قاتلین کی موجودگی ایک بڑے فتنے کا سبب بن گئی

 

اسکے علاوہ بڑے بڑے اکابر صحابہ کرام نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی، اور یہ سب اتنے بڑے بڑے صحابہ تھے کہ ان میں سے ایک ایک پر ہزاروں ہزاروں مسلمانوں کو اعتماد تھے

یعنی امت کے ایک بڑے حصے نے بیعت ہی نہیں کی

 

اور یہ معاملہ اس وقت مزید خراب ہو گیا اور اسکو غلط کہنے کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان کو عہدے بانٹنا شروع کر دئیے

جیسے مالک اشتر اور محمد بن ابی بکر، یہ سب قاتلین عثمان تھے مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انکو بڑے بڑے عہدے دے دئیے۔

 

📚 خلافت و ملوکیت، صفحہ ۱۲۳ اور ۱۴۶

 

▪️پھر لکھتا ہے کہ

 

📜 حضرت علی کے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے 👈 جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں

 

📚 خلافت و ملوکیت، صفحہ ۱۴۲

 

▪️ مولانا محمد اسماعیل سلفی لکھتا ہے کہ

 

📜 اس میں بھی شک نہیں کہ مدینہ کے اس ہنگامہ میں حضرت علی علی الله کی روش اس قدر صاف نہیں، جتنا اسے صاف ہونا چاہیے۔ حضرت حسن کا تدبر اس وقت، وقت کے تقاضوں کے مطابق تھا۔ حضرت علی بھی اللہ کا دامن اس سازش سے بالکل پاک ہے، 👈 لیکن ان کی خاموشی ان کی پوزیشن کو مشکوک ضرور قرار دیتی ہے

 

📚 مقالات حدیث ص605

 

🔴 جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ امام علی ع نے قاتلین پر لانت کی

 

📜 مُحَمَّدَ ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ عُثْمَانَ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَالسَّهْلِ وَالْجَبَلِ، ثَلَاثًا يُرَدِّدُهَا

 

📃 محمد بن حنفیہ کہتے ہیں:

 

میں نے اپنے والد (حضرت علیؑ) کو سنا، انہوں نے اپنے ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ ان کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، اور فرمایا:

 

“اے اللہ! قاتلینِ عثمان پر لعنت فرما، خشکی میں ہوں یا سمندر میں، میدان میں ہوں یا پہاڑ میں۔”

 

انہوں نے یہ دعا تین مرتبہ دہرائی۔

 

✅ سندہ صحیح

 

📚 تاريخ المدينة لابن شبة 4/1267 

https://shamela.ws/book/13086/1271

 

📜 عن سالم بن أبي الجعد، عن محمد ابن الحنفية قال: كنا في الشعب فكنا ننتقص عثمان، فلما كان ذات يوم أفرطنا، فالتفت إلى عبد الله بن عباس فقلت له : يا أبا عباس تذكر عشية الجمل؟ أنا عن يمين علي، وأنت عن شماله، إذ سمعنا الصيحة من قبل المدينة؟ قال: فقال ابن عباس : نعم، التي بعث بها فلان بن فلان، فأخبره أنه وجد أم المؤمنين عائشة واقفة بالمربد تلعن قتلة عثمان، فقال علي: لعن الله قتلة عثمان في السهل والجبل، والبر والبحر، أنا عن يمين علي وهذا عن شماله، قال: فسمعته من فيه إلى في، وابن عباس، فوالله ما عبت عثمان إلى يومي هذا.

 

📃 سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے، وہ محمد بن حنفیہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

 

ہم شعب (ایک مقام) میں تھے اور ہم عثمان پر تنقید کیا کرتے تھے۔ پھر ایک دن ہم اس میں حد سے بڑھ گئے۔ تو میں نے عبد اللہ بن عباس کی طرف متوجہ ہو کر کہا:

اے ابو عباس! کیا آپ کو جنگِ جمل کی وہ شام یاد ہے؟ میں علیؑ کے دائیں جانب تھا اور آپ بائیں جانب تھے، جب ہم نے مدینہ کی طرف سے ایک آواز سنی؟

 

ابن عباس نے کہا: ہاں، وہی خبر جو فلاں بن فلاں نے بھیجی تھی، جس میں اس نے بتایا تھا کہ اس نے ام المؤمنین عائشہ کو مربد میں کھڑے دیکھا، وہ قاتلینِ عثمان پر لعنت کر رہی تھیں۔

 

یہ سن کر علیؑ نے فرمایا:

“اللہ کی لعنت ہو قاتلینِ عثمان پر، خواہ وہ میدان میں ہوں یا پہاڑ میں، خشکی میں ہوں یا سمندر میں۔”

 

محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: میں علیؑ کے دائیں جانب تھا اور یہ (ابن عباس) بائیں جانب تھے، اور میں نے یہ بات براہِ راست ان کے منہ سے سنی، اور ابن عباس نے بھی سنی۔

پس اللہ کی قسم! اس دن کے بعد میں نے کبھی عثمان پر عیب نہیں لگایا۔

 

📚 مصنف ابن أبي شيبة 21/383

 

الااستعیاب میں ہے کہ

 

📜 اماام علی ع نے فرمایا نہ میں نے عثمان کو قتل کرنے کا حکم دیا نہ ہی اس سے راضی ہوں

 

📚 الاستعیاب

 

لہذا یہ بدگمانی ڈالنا کہ امام علی ع نے قاتلین عثمان یعنی مالک اشتر وغیرہ کو عہدے دئے سراسر باطل بات ہے۔ یہ امام کوئی محلے کی مسجد کا امام نہیں ہوتا جو ذاتیات پر فیصلے کرتا ہو۔ بلکہ دین خدا و رسول ﷺ کا بنایا ہوا امام ہے

 

▪️اہل بیت ع کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ 

 

📜 جناب مسلم بن عقیل ع نے دھوکے سے ابن زیاد تک کو قتل کرنا پسند نہیں فرمایا جبکہ موقع بھی تھا

 

سفیرِ سید الشہداء جنابِ مسلم بن عقیل(ع)

 

🖋 ڈاکٹر آغا وقار ھاشمی

 

شریک بن اعوار محبانِ علی بن ابی طالب (ع) میں سے تھے،جنگِ صفین میں بھی امیر المومنین علی بن ابی طالب (ع) کے ہمراہ تھے، 

شریک بن اعوار بصرہ میں مقیم تھے، جب عبید اللہ ابنِ زیاد کو بصرہ میں یزید کا حکم نامہ ملا کہ فوری کوفہ پہنچو، وہاں کے حاکم نعمان بن بشیر کو معطل کر کے کوفہ کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لو، اور مسلم بن عقیل کی موجودگی میں وہاں اُٹھنے والی بغاوت کو کچل دو، 

ابنِ زیاد نے فوری کوفہ کی راہ لی تو شریک بن اعوار بھی ہمراہ تھے، جب یہ لوگ بصرہ سے نکلے تو شریک اپنی سواری سے گر گئے، بلکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپکو سواری سے گرا لیا، اس اُمید پر کہ عبید اللہ ابنِ زیاد انکی صحت یابی کا انتظار کرے گا اور اس دوران امام حسین (ع) اُس سے پہلے کوفہ پہنچ جائیں، 

لیکن عبید اللہ ابنِ زیاد نے شریک کی طرف بالکل توجہ نہ دی اور اپنا سفر جاری رکھا اور کوفہ پہنچ گیا، 

عبید اللہ ابنِ زیاد کے کوفہ آنے کے بعد جنابِ مسلم بن عقیل (ع) مختارِ ثقفی کے گھر سے نکل کر ہانی ابنِ عروہ کے ہاں پناہ لی، 

شریک بن اعوار جب کوفہ پہنچے تو وہ بھی ہانی ابنِ عروہ کے گھ ٹھہرے،

 وہاں جنابِ مسلم بن عقیل (ع) سے بھی ملاقات ہوئی، شریک بن اعوار اس دوران ہانی کو جنابِ مسلم کو تقویت دینے کی ترغیب دیتے رہے، 

ابنِ زیاد اور دیگر امراء شریک بن اعوار کا احترام کرتے تھے، 

ابنِ زیاد نے شریک کو پیغام بھجوایا کہ وہ عیادت کی غرض سے آج رات ہانی کے مکان پر ملاقات کرے گا، 

شریک نے یہ سن کر جنابِ مسلم کو مشورہ دیا کہ جب ابنِ زیاد عیادت کے لئے آئے تو میں پانی مانگو گا، آپ اشارہ سمجھ جائیے گا اور باہر نکل کر اس فاسق و فاجر کو قتل کر دیجیے گا، 

ابنِ زیاد اپنے غلام مہران کے ہمراہ آیا ،شریک نے کنیز کو پانی لانے کو بولا، کنیز شریک کو پانی دینے ہی والی تھی کہ اسکی نظر جنابِ مسلم پر پڑی تو وہ صورتِ حال بھانپ کر پیچھے ہٹ گئی، اس دوران شریک نے چلا کر پھر پانی کا تقاضا کیا، 

ابنِ زیاد کے غلام کو محسوس ہوا کچھ گڑبڑ ہے، اس نے ابنِ زیاد کو اشارہ کیا اور وہ جلدی سے وہاں سے اجازت لے کر چلتے بنے،

انکے جانے کے بعد جب مسلم بن عقیل (ع) باہر آئے تو شریک نے پوچھا کہ کون سی چیز نے آپکو آج ابنِ زیاد کو قتل کرنے سے روکے رکھا، 

 

تو جنابِ مسلم نے کہا دو باتوں نے، 

1) اس کام میں صاحبِ مکان کی رضا مندی ضروری تھی، 

2) اور رسول اللہ (ص) کی وہ حدیث کہ : " یعنی اسلام نے بے خبری میں قتل کرنے سے منع کیا ہے، اور مومن ایسا کام نہیں کرتا"

 

📚 کتاب : نفس المہموم از شیخ عباس قمی صفحہ 135- 138 

 

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#تبدیلی_ممنوع 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13