🔴 حضرت عائشہ کی حضرت عثمان سے ناراضگی کی وجہ
اہل سنت کا مشہور مفسر فخر رازی اس سلسلے میں لکھتا ہے :
📜 الحكاية الثانية أن عثمان رضي الله عنه أخر عن عائشة رضي الله عنها بعض أرزاقها فغضبت ثم قالت يا عثمان أكلت أمانتك وضيعت الرعية وسلطت عليهم الأشرار من أهل بيتك والله لولا الصلوات الخمس لمشى إليك أقوام ذوو بصائر يذبحونك كما يذبح الجمل
فقال عثمان رضي الله عنه ضرب الله مثلا للذين كفروا امرأة نوح وامرأة لوط الآية فكانت عائشة رضي الله عنها تحرض عليه جهدها وطاقتها وتقول أيها الناس هذا قميص رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يبل وقد بليت سنته اقتلوا نعثلا قتل الله نعثلا
📃 دوسری حکایت یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کچھ وظائف (مالی عطیات) میں تاخیر کی تو وہ ناراض ہو گئیں۔ پھر انہوں نے کہا:
اے عثمان! تم نے اپنی امانت میں خیانت کی، رعایا کو ضائع کیا، اور اپنے اہلِ بیت کے برے لوگوں کو ان پر مسلط کر دیا۔ اللہ کی قسم! اگر پانچ نمازیں نہ ہوتیں تو بصیرت والے لوگ تمہاری طرف چل پڑتے اور تمہیں اسی طرح ذبح کر دیتے جیسے اونٹ کو ذبح کیا جاتا ہے۔
تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اللہ نے کافروں کے لیے مثال بیان کی ہے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی (یعنی قرآن کی آیت کی طرف اشارہ کیا)۔
پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوری طاقت کے ساتھ ان کے خلاف لوگوں کو ابھارتی تھیں اور کہتی تھیں:
اے لوگو! یہ رسول اللہ ﷺ کی قمیص ہے جو ابھی پرانی نہیں ہوئی، لیکن ان کی سنت پرانی کر دی گئی ہے۔
نعثل کو قتل کرو، اللہ نعثل کو قتل کرے۔
🔴 جب پتا چلا خلافت علی ع کو مل گئی تو پارٹی بدل لی
📜 ثم إن عائشة ذهبت إلى مكة فلما قضت حجها وقربت من المدينة أخبرت بقتل عثمان فقالت ثم ماذا فقالوا بايع الناس علي بن أبي طالب فقالت عائشة قتل عثمان والله مظلوما وأنا طالبة بدمه والله ليوم من عثمان خير من علي الدهر كله فقال لها عبيد بن أم كلاب ولم تقولين ذلك فوالله ما أظن أن بينالسماء والأرض أحدا في هذا اليوم أكرم على الله من علي بن أبي طالب فلم تكرهين ولايته ألم تكوني تحرضين الناس على قتله فقلت اقتلوا النعثل ثنا فقد كفر فقالت عائشة لقد قلت ذلك ثم رجعت عما قلت وذلك أنكم أسلمتموه حتى إذا جعلتموه في القبضة قتلتموه والله لأطلبن بدمه فقال عبيد بن أم كلاب هذا والله تخليط يا أم المؤمنين
📃 پھر حضرت عائشہ مکہ چلی گئیں۔ جب انہوں نے حج مکمل کیا اور مدینہ کے قریب پہنچیں تو انہیں حضرت عثمان کے قتل کی خبر دی گئی۔
انہوں نے کہا: پھر کیا ہوا؟
لوگوں نے کہا: لوگوں نے علی بن ابی طالب کی بیعت کر لی ہے۔
تو حضرت عائشہ نے کہا: عثمان قتل کیے گئے، اللہ کی قسم وہ مظلوم تھے، اور میں ان کے خون کا مطالبہ کروں گی۔
👈 اللہ کی قسم! عثمان کا ایک دن علی سے ساری زندگی بہتر تھا۔
تو عبید بن ام کلاب نے ان سے کہا: آپ ایسا کیوں کہتی ہیں؟ اللہ کی قسم! آج کے دن آسمان و زمین کے درمیان کوئی شخص علی بن ابی طالب سے زیادہ اللہ کے نزدیک معزز نہیں۔ پھر آپ ان کی خلافت کو کیوں ناپسند کرتی ہیں؟ کیا آپ لوگوں کو ان کے قتل پر ابھارتی نہ تھیں اور کہتی نہ تھیں: نعثل کو قتل کرو، وہ کافر ہو گیا ہے؟
تو حضرت عائشہ نے کہا: میں نے یہ کہا تھا، پھر میں نے اپنی بات سے رجوع کر لیا، کیونکہ تم لوگوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب تم نے اسے قابو میں کر لیا تو اسے قتل کر دیا۔ اللہ کی قسم! میں ضرور اس کے خون کا مطالبہ کروں گی۔
👈 تو عبید بن ام کلاب نے کہا: اللہ کی قسم! اے ام المؤمنین، یہ تو کھلا تضاد (گڑبڑ) ہے۔
📚 الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ) المحصول في علم الأصول، ج 4، ص 343، تحقيق: طه جابر فياض العلواني، ناشر: جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية - الرياض، الطبعة: الأولي، 1400هـ۔
#تبدیلی_ممنوع
Invisibleislam.com
#تعلیمات_اہلبیتؑ
Gallery
Tap any image to view full screen