🔴 عثمان کے ق-تل میں معاویہ کا کردار
▪️عثمان کے ق-تل میں معاویہ کے کردار کے بارے میں ابن قتیبہ دینوری اپنی کتاب الإمامة و السياسة میں لکھتے ہیں:
عثمان نے اہلِ شام، معاویہ اور اہلِ دمشق کو خط لکھا:
📜 "اے میری فریاد کو پہنچو، اے میری فریاد کو پہنچو! تمہارے اوپر میرے سوا کوئی امیر نہ ہو۔ جلدی کرو اے معاویہ، جلدی کرو اور مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ، اور میں نہیں سمجھتا کہ تم میری مدد کرو گے۔"
📚 الإمامة و السياسة (ابن قتیبہ دینوری)، تحقیق الشیری، جلد 1، صفحہ 54
▪️تاریخ یعقوبی میں آیا ہے:
معاویہ 12 ہزار فوج کے ساتھ شام سے عثمان کی مدد کے لیے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ لیکن مدینہ سے 30 کلومیٹر دور لشکر کو روک دیا اور خود خبر لینے مدینہ آیا۔ عثمان نے اس سے پوچھا: "اے معاویہ! تمہاری فوج کہاں ہے؟"
معاویہ نے کہا: "میں صرف خبر لینے آیا ہوں کہ مدینہ میں کیا ہو رہا ہے۔"
عثمان نے کہا: "میں نے تمہیں خط لکھا تھا اور صورتحال بتائی تھی..."
پھر عثمان نے کہا:
"خدا کی قسم! تم چاہتے ہو کہ میں ق-تل ہو جاؤں تاکہ تم میرے خون کے بدلے میں خود کو خلیفہ بنا سکو۔ واپس جاؤ اور اپنی فوج لے کر آؤ!"
معاویہ واپس چلا گیا اور پھر عثمان کے ق-تل تک واپس نہ آیا۔
📚 تاریخ یعقوبی، جلد 2، صفحہ 175
▪️بلاذری أنساب الأشراف اور ابن شبہ تاریخ مدینہ میں یزید بن اسد کے حوالے سے آیا ہے:
📜 معاویہ نے جو مدد کی فوج لائی تھی، اسے مدینہ نہیں لایا بلکہ راستے میں روک دیا کیونکہ:
📜 "اس نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ عثمان ق-تل ہو جائے اور پھر وہ خود خلافت کا دعویٰ کرے۔"
📚 أنساب الأشراف، جلد 6، صفحہ 188
📚 تاریخ المدینہ، جلد 4، صفحہ 1289
▪️طبری نے شبث بن ربعی سے نقل کیا ہے:
لوگوں نے معاویہ سے کہا:
📜 "ہم جانتے ہیں کہ تم نے عثمان کی مدد میں تاخیر کی اور تم چاہتے تھے کہ وہ قت-ل ہو جائے تاکہ تم اس کے بعد اقتدار حاصل کرو۔"
📚 تاریخ الطبری، جلد 3، صفحہ 570
📚 کامل ابن اثیر، جلد 3، صفحہ 286
▪️ابو الطفیل (صحابی) اور معاویہ کے درمیان مکالمہ:
ابو الطفیل نے کہا:
"تم نے عثمان کی مدد کیوں نہیں کی؟ تم شام میں تھے اور تمہاری اطاعت سب کرتے تھے۔"
معاویہ نے کہا: "کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں اس کے خون کا مطالبہ کر رہا ہوں؟"
ابو الطفیل نے کہا:
"ہاں، لیکن تم ایسے ہو جیسے شاعر نے کہا:
زندگی میں تم نے میری خبر نہ لی، اور موت کے بعد نوحہ کرتے ہو۔"
📚 مختلف مصادر: أسد الغابة، الاستیعاب، تاریخ دمشق، الإمامة و السياسة
▪️عمرو بن عاص نے بھی معاویہ سے کہا:
📜"عثمان کا حقیقی قا-تل تم ہو۔"
📚 أنساب الأشراف، صفحہ 288
📚 الإمامة و السياسة
اور امیرالمؤمنین علیؑ کی طرف منسوب اقوال میں آیا ہے:
"قسم ہے! عثمان کو تیرے سوا کسی نے قت/ل نہیں کیا۔"
📚 نهج البلاغہ، خط 10 اور 37
📚 العقد الفرید، جلد 3، صفحہ 333
📚 شرح ابن ابی الحدید، جلد 15، صفحہ 84
👈 یعنی ان روایات کے مطابق واضح ہے کہ آستین کا سانپ کون تھا کہ "دور کھڑا رہا اور آگ کو بھڑکتے دیکھتا رہا۔"
عثمان کے قت-ل کے واقعے میں معاویہ کی پالیسی اور تاخیر کو بنیادی سبب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
Invisibleislam.com
#تبدیلی_ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen