🔴 سنت رسولؐ کی مخالفت کرنے والی جماعت ؟ 🔴
پارٹ 1/3
🔍 حج تمتع
عثمان کا سنت رسول ص (حج تمتع) کی مخالفت کرنا اور مولا علی ع کا احتجاج
🔴 📜 حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن علي بن حسين، عن مروان بن الحكم، قال:" شهدت عثمان، وعليا رضي الله عنهما، وعثمان ينهى عن المتعة وان يجمع بينهما، فلما راى علي اهل بهما لبيك بعمرة وحجة، قال: ما كنت لادع سنة النبي صلى الله عليه وسلم لقول احد"
📃 روایت کرتے ہیں کہ عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو میں نے دیکھا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرنے سے روکتے تھے لیکن علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا اور کہا «لبيك بعمرة وحجة»
👈🏼👈🏼 آپ نے فرمایا تھا کہ میں کسی ایک شخص کی بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں چھوڑ سکتا۔
📚 صحیح بخاری ج 2 ، ص 574 ، حدیث 1563
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1569 میں بھی یہی بات مولا علی ع نے کی
📜 فقال علي: ما تريد إلا ان تنهى عن امر فعله النبي صلى الله عليه وسلم، فلما راى ذلك علي اهل بهما جميعا".
📃 علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اس سے آپ کیوں روک رہے ہیں؟
📚 صحیح بخاری ج 2 ، ص 574 ، حدیث 1563
🔴 📜 وحدثنا محمد بن المثنى ، ومحمد بن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن عمرو بن مرة ، عن سعيد بن المسيب ، قال: اجتمع علي وعثمان رضي الله عنهما بعسفان، فكان عثمان ينهى عن المتعة او العمرة، فقال علي : " ما تريد إلى امر فعله رسول الله صلى الله عليه وسلم تنهى عنه "، فقال عثمان : " دعنا منك "، فقال: " إني لا استطيع ان ادعك "، فلما ان راى علي ذلك اهل بهما جميعا.
📃 حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: آپ اس معاملے میں کیا کرنا چاہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ رضی اللہ عنہ اس سے منع فرماتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ اپنی رائے کی بجائے ہمیں ہماری رائے پر چھوڑ دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: 👈🏼 (آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف حکم دے رہے ہیں) 👉🏻 میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ (اصرار) دیکھا تو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارنا شروع کر دیا (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تمتع بھی رائج رہے۔)
📚 صحیح مسلم ج 2 ، ص 627 ، حدیث 2964
یہی روایت سنن نسائی و سنن دارمی وغیرہ میں بھی نقل ہوئی ہے
https://dorar.net/hadith/sharh/131923
📚 سنن نسائی حدیث 2682 : ج2 : ص310
🔴 📜 أَخْبَرَنَا ابْنُ عَلاَّنَ، وَابْن سَلاَمَةَ كِتَابَةً، عَنِ القَاسِمِ بن عَلِيٍّ الحَافِظ، أَخْبَرَنَا أَبُو المُفَضَّل يَحْيَى بن عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا حَيْدَرَة بن عَلِيٍّ المُعَبِّر، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الحَسَنِ أَحْمَدُ بنُ حَذْلَم، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَة بن مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بنِ الحَكَمِ:
شَهِدت عَلِيّاً وَعُثْمَان بَيْنَ مَكَّة وَالمَدِيْنَة، وَعُثْمَان يَنْهَى عَنِ المتعَة، وَأَنْ لاَ يُجْمَع بَيْنهُمَا، وَأَبَى عَلِيٌّ ذَلِكَ، أَهَلَّ بِهِمَا، فَقَالَ: لبّيك بعُمْرَة وَحجَّة مَعاً.
فَقَالَ عُثْمَانُ: أَنْهَى النَّاسَ، وَأَنْت تَفْعَلُه؟!
👈🏼👈🏼 فَقَالَ: لَمْ أَكن أَدع سُنَّة رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِقَوْل أَحَد مِنَ النَّاس.
أَخْرَجَهُ: النَّسَائِيُّ (2) ، وَفِيْهِ: أَن مَذْهَب الإِمَام عَلِيّ كَانَ يَرَى مُخَالَفَة وَلِيّ الأَمْر لأَجْل متَابعَة السُّنَّة،
📃 ابن علّان اور ابن سلامہ نے ہمیں کتابت کے ذریعے خبر دی، وہ القاسم بن علی الحافظ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے ہمیں ابو المفضل یحییٰ بن علی، انہوں نے ہمیں حیدرہ بن علی معبر، انہوں نے عبدالرحمن بن عثمان، انہوں نے ہمیں ابو الحسن احمد بن حذلم، انہوں نے ابو زرعہ، انہوں نے مجھ سے عقبہ بن مکرم، انہوں نے غندر، انہوں نے شعبہ، انہوں نے حکم، انہوں نے علی بن حسین، انہوں نے مروان بن حکم سے روایت کی:
👈🏼 میں نے علیؑ اور عثمانؓ کو مکہ اور مدینہ کے درمیان دیکھا۔ عثمانؓ متعہ (حج تمتع) سے منع کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ عمرہ اور حج کو اکٹھا نہ کیا جائے۔
👈🏼👈🏼 لیکن علیؑ نے اس سے انکار کیا اور دونوں کی نیت بیک وقت باندھی، اور کہا: لبّیک، عمرہ اور حج دونوں کے ساتھ۔
تو عثمانؓ نے کہا: میں لوگوں کو روکتا ہوں اور تم یہ کر رہے ہو؟
علیؑ نے جواب دیا:
👈🏼👈🏼👈🏼 میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کو کسی بھی انسان کی بات کے بدلے نہیں چھوڑ سکتا۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔
اور اس میں یہ بات ہے کہ امام علیؑ کا مسلک یہ تھا کہ اگر ولیِ امر (حاکم وقت) سنتِ نبوی کے خلاف حکم دے، تو سنت کی پیروی میں اس کی مخالفت کی جا سکتی ہے۔
📚 سير أعلام النبلاء - ط الرسالة : الذهبي، شمس الدين جلد : 21 صفحه : 409 ،410
🔴🔴 حضرت علی ع اور عثمان کے درمیان حج تمتع پر اختلاف اتنا شدید تھا کہ عثمانیوں کی طرف سے مولا علی ع کو قتل تک کرنے تک کی بات کی گئی 🔴🔴
جیسا کہ اہل سنت عالم ابن عبد البر نے روایت نقل کی ہے
📜 وَذَكَرَ أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ , نا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: " أَنَا وَاللَّهِ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْجُحْفَةِ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فِيهِمْ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيُّ , إِذْ قَالَ عُثْمَانُ، وَذُكِرَ لَهُ التَّمَتُّعُ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ: " أَنْ أَتِمُّوا الْحَجَّ وَخَلِّصُوهُ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فَلَوْ أَخَّرْتُمْ هَذِهِ الْعُمْرَةَ حَتَّى تَزُورُوا هَذَا الْبَيْتَ زَوْرَتَيْنِ كَانَ أَفْضَلَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ وَسَّعَ فِيَ الْخَيْرِ , فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَمَدْتَ إِلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُخْصَةٍ رَخَّصَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْعِبَادِ بِهَا فِي كِتَابِهِ، تُضَيِّقُ عَلَيْهِمْ فِيهَا وَتَنْهَى عَنْهَا وَكَانَتْ لِذِي الْحَاجَةِ وَلِنَائِي الدَّارِ , ثُمَّ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: وَهَلْ نَهَيْتُ عَنْهَا؟ إِنِّي لَمْ أَنْهَ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَتْ رَأَيًا أَشَرْتُ بِهِ فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ قَالَ: فَمَا أَنْسَى قَوْلَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مَعَ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ: انْظُرْ إِلَى هَذَا كَيْفَ يُخَالِفُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ 👈🏼 وَاللَّهِ لَوْ أَمَرَنِي لَضَرَبْتُ عُنُقَهُ قَالَ: فَرَفَعَ حَبِيبٌ يَدَهُ فَضَرَبَ بِهَا فِي صَدْرِهِ , وَقَالَ: اسْكُتْ فَضَّ اللَّهُ فَاكَ فَإِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَا يَخْتَلِفُونَ فِيهِ
📃 ترجمہ
عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"خدا کی قسم! میں جُحفہ کے مقام پر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اور ان کے ساتھ شام کے کچھ لوگ بھی تھے، جن میں حبیب بن مسلمہ الفہری بھی شامل تھے۔
پس جب عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے عمرہ کے ساتھ تمتع (یعنی عمرہ کر کے پھر حج کرنا) کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا:
"تم حج کو پورا کرو، اور اسے حج کے مہینوں میں خالص رکھو، اگر تم اس عمرہ کو مؤخر کر دو یہاں تک کہ اس گھر (کعبہ) کی دو بار زیارت کرو (یعنی الگ الگ عمرہ اور حج کرو)، تو یہ بہتر ہے، بے شک اللہ نے بھلائی کے معاملے میں کشادگی دی ہے۔"
اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا:
📜 "آپ نے رسول اللہ ﷺ کی سنت اور وہ رعایت جس کی اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کو اپنی کتاب میں اجازت دی ہے، اس کو چھوڑ کر (تمتع سے) روکنا چاہا ہے؟ آپ لوگوں پر اسے تنگ کر رہے ہو اور اس سے منع کر رہے ہو، حالانکہ یہ ان کے لیے ہے جو ضرورت مند ہوں یا دور دراز علاقوں سے آئیں۔"
✅ پھر علی رضی اللہ عنہ نے عمرہ اور حج دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھ لیا۔
تو عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:
"کیا میں نے اس سے منع کیا ہے؟ میں نے ہرگز اس سے منع نہیں کیا، یہ تو صرف ایک رائے تھی جو میں نے پیش کی، جسے چاہے وہ لے اور جسے چاہے وہ چھوڑ دے۔"
عبداللہ بن زبیر نے کہا:
"میں اس شام کے آدمی کا قول کبھی نہیں بھولوں گا جو حبیب بن مسلمہ کے ساتھ تھا، اس نے کہا: 👈🏼 ‘دیکھو اس شخص (علی ع) کو، یہ امیر المؤمنین (عثمان) کی مخالفت کر رہا ہے؟
👈🏻👈🏻 اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے حکم دے تو میں اس کی گردن مار دوں۔’"
📚 كتاب جامع بيان العلم وفضله [ابن عبد البر] : ج۱ : ص۷۷۲
https://shamela.ws/book/22367/960
🔴 عثمان کی دشمنی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ (کتب اهل سنت کے مطابق)
باب: صبر بر تأدیب امام
روایت 2136:
قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: أَنْبَأَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ -وَهُوَ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ- قال: إن عثمان بن عفان رضي الله عَنْهُ نَهَى عَنِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ أَوْ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَأَهَلَّ بِهَا عَلِيٌّ مَكَانَهُ فَنَزَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمِنْبَرِ فَأَخَذَ شَيْئًا فَمَشَى بِهِ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَانْتَزَعَاهُ مِنْهُ فَمَشَى إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَادَ أَنْ يَنْخُسَ عَيْنَهُ بِإِصْبُعِهِ وَيَقُولُ [لَهُ] : "إِنَّكَ لَضَالٌّ مُضِلٌّ، وَلَا يَرُدُّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عليه شيئًا
ترجمہ:
مالک بن ربیعہ نے کہا: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ عمرہ تمتع کرنے سے منع کرتے تھے، لیکن علی علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا۔ پھر عثمان منبر سے نیچے آیا، اور کچھ اٹھا کر علی علیہ السلام کی طرف بڑھا! طلحه اور زبیر رضی اللہ عنہم نے فوراً اس چیز کو عثمان سے چھین لیا۔ عثمان علی علیہ السلام کی طرف گیا اور قریب تھا کہ اپنی انگلیوں سے ان کی آنکھیں نکال دے اور بار بار کہتا رہا: "تم گمراہ کرنے والے گمراہ ہو!" لیکن علی علیہ السلام نے کچھ نہیں کہا۔
حوالہ:
📚 المطالب العالیة بزوائد المسانید الثمانیة
مصنف: أبو الفضل أحمد بن علي بن حجر العسقلانی (وفات: 852 ھ)
محقق: د. سعد بن ناصر بن عبد العزیز الشثری
ناشر: دار العاصمة، دار الغیث – سعودی عرب
طبعت: الاولى، 1419 ھ، ج 10، ص 44، حدیث 2136
تشریح:
یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ عثمان نے علی علیہ السلام پر وحشیانہ حملہ کیا۔ جس چیز کو عثمان اٹھا کر علی علیہ السلام کی طرف بڑھا، وہ ممکنہ طور پر کوئی خطرناک ہتھیار جیسے شمشیر یا لکڑی کا ڈنڈا تھا، جسے طلحه اور زبیر نے فوراً روک دیا۔ عثمان بار بار چلاتا رہا کہ علی گمراہ کرنے والا اور گمراہ ہے، اور قریب تھا کہ علی علیہ السلام کی آنکھوں کو نقصان پہنچا دے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول:
علی مع القرآن والقرآن مع علی لن يفترقا حتى یردا علی الحوض
ترجمہ:
علی علیہ السلام قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے، دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کو پہنچیں۔
📚 المستدرک علی الصحیحین
مصنف: محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاکم النيسابوری
دار النشر: دار الکتب العلمیة، بیروت
طبعت: الأولى، 1411 ھ، تحقیق: مصطفی عبد القادر عطا، ج 3، ص 134، حدیث 4628
امیرالمؤمنین علیہ السلام کا قول:
قال عَلِيٌّ : وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إنه لَعَهْدُ النبي الْأُمِّيِّ صلي الله عليه وسلم إلي أَنْ لَا يُحِبَّنِي إلا مُؤْمِنٌ ولا يُبْغِضَنِي إلا مُنَافِقٌ
ترجمہ:
علی علیہ السلام نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھوڑا اور جانوروں کو پیدا کیا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عہد ہے کہ مجھے صرف مؤمن ہی دوست رکھتا ہے اور مجھے صرف منافق ہی دشمن رکھتا ہے۔
📚 صحیح مسلم، ج 1، ص 86، حدیث 78، کتاب ایمان
مصنف: مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوری، وفات: 261 ھ
ناشر: دار إحياء التراث العربي، بیروت، تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی
نتیجہ:
یہ روایت اور احادیث واضح کرتی ہیں کہ عثمان بن عفان کی علی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی آشکار اور وحشیانہ تھی، اور اہل سنت سقیفه کی دعوے کہ خلفاء کے تعلقات اچھے تھے، حقیقت سے بعید ہیں۔
🖋 بدر علی
#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تبدیلی_ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen